چیٹ جی پی ٹی کو راز بتانے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی، نجی گفتگو عدالت میں ثبوت بننے لگی

چیٹ جی پی ٹی کو راز بتانے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی، نجی گفتگو عدالت میں ثبوت بننے لگی

واشنگٹن: چیٹ جی پی ٹی کو اپنا ذاتی مشیر، رازدار یا ہمدرد سمجھ کر اپنی زندگی کے انتہائی حساس معاملات اس کے سامنے بیان کرنے والے صارفین کے لیے ایک اہم قانونی خطرہ سامنے آگیا ہے،امریکی میڈیا کی ایک تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ لوگوں کی نجی گفتگو اب مختلف دیوانی اور فوجداری مقدمات میں عدالتوں تک پہنچ رہی ہے
لوگ مصنوعی ذہانت سے ازدواجی مسائل، خاندانی جھگڑوں، ذہنی دباؤ، کاروباری معاملات اور دیگر انتہائی نجی موضوعات پر بات کرتے ہیں،انہیں عموماً یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کی یہی گفتگو مستقبل میں قانونی کارروائی کے دوران طلب کی جاسکتی ہے اور عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن سکتی ہے
یہ صورتحال اس عام تصور پر بھی سوال اٹھاتی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے سامنے کہی گئی بات اسی طرح محفوظ اور رازدارانہ ہے جیسے کسی وکیل، ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے کی گئی گفتگو،قانونی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو لازماً وہ قانونی تحفظ حاصل نہیں جو بعض پیشہ ورانہ تعلقات میں حاصل ہوتا ہے
رپورٹ میں ایسے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ کی گئی گفتگو بعد میں عدالتی کارروائی میں سامنے آئی،بعض معاملات میں صارفین نے ذاتی اور خاندانی مشکلات کے بارے میں مصنوعی ذہانت سے مشورہ لیا تھا، لیکن بعد میں ان کی گفتگو مقدمے کے دوران وکلا اور عدالت کے سامنے آگئی
یہ مسئلہ خاص طور پر اس لیے سنگین ہے کہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے اکثر افراد اسے محض ایک سرچ انجن نہیں سمجھتے بلکہ اس سے ایسی باتیں بھی کر لیتے ہیں جو وہ اپنے قریبی دوستوں یا خاندان کے افراد سے بھی نہیں کرتے
طلاق اور بچوں کی تحویل کے مقدمات سے لے کر کاروباری تنازعات اور فوجداری تحقیقات تک، مصنوعی ذہانت کے ساتھ ہونے والی گفتگو مستقبل میں قانونی شواہد کے ایک نئے ذریعے کے طور پر استعمال ہوسکتی ہے
مصنوعی ذہانت کے استعمال میں سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ یہ انسان کو ہر وقت دستیاب ایک ایسا مخاطب فراہم کرتی ہے جو سنتا ہے، جواب دیتا ہے اور کسی فوری انسانی ردعمل کا اظہار نہیں کرتا،اس سہولت کی وجہ سے صارف اکثر اپنے بارے میں ایسی معلومات بھی فراہم کردیتا ہے جو انتہائی نجی ہوتی ہیں
لیکن عدالت میں پہنچنے والے معاملات یہ واضح کررہے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی سے بات کرنا اور کسی ایسے پیشہ ور سے بات کرنا جسے قانوناً رازداری برقرار رکھنے کا پابند کیا گیا ہو، ایک جیسی بات نہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ گفتگو کرتے وقت یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ ہر بات مکمل قانونی رازداری کے حصار میں ہے،خاص طور پر ایسے معاملات میں جن کے مستقبل میں قانونی تنازع بننے کا امکان ہو، ذاتی معلومات شیئر کرنے سے پہلے انتہائی احتیاط ضروری ہے
چیٹ جی پی ٹی نے انسان اور مشین کے درمیان گفتگو کی حدیں تقریباً ختم کردی ہیں، لیکن عدالتوں میں پہنچنے والی یہ مثالیں ایک نئی حقیقت سامنے لا رہی ہیں
جس مصنوعی ذہانت کو لوگ اپنا رازدار سمجھ رہے ہیں، اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو کل کسی عدالت میں ان کے خلاف بھی پیش کی جاسکتی ہے

قومی خبریں سے مزید