کراچی میں غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے والے فراڈ کال سینٹر پر چھاپہ، 8 افراد گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 8 افراد کو گرفتار کرلیا۔ حکام کے مطابق یہ کال سینٹر غیر ملکی شہریوں کو مبینہ فراڈ کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا
کارروائی کے دوران کال سینٹر کے دو شراکت دار محمد لائق اور محمد فضل بھی گرفتار کیے گئے۔ دیگر گرفتار افراد کی شناخت احسن رضا، سیف اعجاز، فریڈرک جان، کرسٹوفر کائزر، محمد دانش اور محمد شہزیب کے طور پر کی گئی
حکام کے مطابق کال سینٹر سے حاصل کیے گئے کمپیوٹرز اور دیگر برقی آلات کی ابتدائی تکنیکی جانچ کے دوران مشتبہ مواد سامنے آیا، جس میں جعلی شناخت کے ذریعے فون کرنے والے سافٹ ویئر اور مختلف مالیاتی اداروں سے متعلق معلومات شامل تھیں
تحقیقات میں مبینہ طور پر سامنے آیا کہ ملزمان جعلی فون نمبروں کے ذریعے خود کو امریکی بینکوں اور قرضوں کے تصفیے سے متعلق اداروں کے نمائندوں کے طور پر ظاہر کرتے تھے۔ وہ مخصوص طریقہ کار اور تیار شدہ گفتگو کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو اپنے اعتماد میں لے کر ان سے حساس معلومات حاصل کرتے تھے
حکام کے مطابق ملزمان غیر ملکی شہریوں سے سماجی تحفظ کے نمبرز، موبائل فون نمبرز، تاریخ پیدائش، بینک کھاتوں اور کریڈٹ کارڈ سے متعلق معلومات حاصل کرتے تھے۔ یہ معلومات بعد میں کال سینٹر کے مالکان تک پہنچائی جاتی تھیں، جن کے ذریعے مبینہ طور پر غیر مجاز مالی لین دین اور رقوم کی کٹوتی کی جاتی تھی
کارروائی کے دوران ضبط کیے گئے آلات میں موجود معلومات سے یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس نیٹ ورک نے کتنے غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا اور اس کے ذریعے کتنی مالی رقم حاصل کی گئی
حکام نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون اور پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے
تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ضبط کیے گئے کمپیوٹرز، فونز اور دیگر برقی آلات کا مزید فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مبینہ فراڈ کے مکمل طریقہ کار، اس میں شامل دیگر افراد اور بیرون ملک موجود ممکنہ رابطوں کا سراغ لگایا جا سکے
حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد ایسے غیر قانونی مراکز کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو جدید مواصلاتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور بیرون ملک شہریوں کو مالی فراڈ اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال کا نشانہ بناتے ہیں





