ایران جنگ: نومبر تک انتظار کے بجائے فوری مذاکرات ضروری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوسکتی ہے، تاہم زمینی حالات اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے جنگ اب صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکے ہیں
حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان وقفے وقفے سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا اسی دوران سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جنگ بندی بھی ختم ہوگئی ہے ایران نواز حوثی گروپ نے یمن میں مزید علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور باب المندب آبنائے کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی بحری جہازوں کی آمدورفت روکنے کی کوشش کی ہے
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن، جو آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل کی ترسیل کا ایک اہم متبادل راستہ ہے، عراق کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملے کا نشانہ بنی سعودی حکومت نے فوری کارروائی سے گریز کیا ہے تاہم مستقبل میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھا ہے ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی
لبنان میں بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں اور حزب اللہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ان حملوں میں ہزاروں لبنانی ہلاک جبکہ لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں یوں ایران، یمن، لبنان، سعودی عرب اور آبنائے ہرمز کے محاذ ایک دوسرے سے جڑتے جارہے ہیں، جس سے پورے خطے میں جنگ کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے
تجزیے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی نومبر تک مؤخر نہیں کی جاسکتی امریکہ اور ایران کے درمیان فوری مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی کم کی جاسکے عمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مذاکرات بھی متوقع ہیں، جن میں اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے کے امکانات پر بات ہوگی
امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اعتماد سازی کے طور پر ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں روکنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرے اس کے بعد تہران کی جانب سے بھی جنگ بندی کا جواب آنا چاہیے خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے
تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ کو نومبر تک اپنے قابو میں رکھنے کے بارے میں واشنگٹن کا اعتماد درست ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ جنگیں سیاسی فیصلے کے مطابق فوری طور پر ختم نہیں ہوتیں امریکہ میں بھی جنگ کی مقبولیت کم ہے اور بعض اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے مزید کشیدگی سے گریز کا مشورہ دیے جانے کی اطلاعات ہیں اس لیے پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے ذریعے دوبارہ مذاکرات کے راستے کھولنے اور ایک سیاسی حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا ہے





