ماہرِ نفسیات کا انکشاف: خوش ترین جوڑے ایک بات پر کبھی نہیں لڑتے، نہ وہ سیکس ہے نہ پیسہ

ماہرِ نفسیات کا انکشاف: خوش ترین جوڑے ایک بات پر کبھی نہیں لڑتے، نہ وہ سیکس ہے نہ پیسہ

رشتوں میں سب سے زیادہ نقصان کس چیز سے ہوتا ہے؟ عام طور پر جواب پیسہ، سیکس، بے وفائی یا گھریلو جھگڑا ہوتا ہے،لیکن جوڑوں کے رویوں کا برسوں مطالعہ کرنے والے ماہرِ نفسیات مارک ٹریورز کے مطابق ایک اور خاموش عادت ہے جو بظاہر معمولی لگتی ہے، مگر رشتے کو اندر سے کھوکھلا کرسکتی ہے،ایک دوسرے کا حساب رکھنا
کون کل رات کھانا بنا کر سویا تھا؟ گھر کا زیادہ کام کون کرتا ہے؟ کون زیادہ تھکا ہوا ہے؟ پچھلی بار منصوبہ کس نے منسوخ کیا تھا؟ کس نے زیادہ قربانی دی؟ کس نے کس کے لیے کیا کیا؟
یہ سوالات اگر مسلسل ذہن میں گردش کرتے رہیں تو میاں بیوی کے درمیان ایک ایسا ’’ذہنی کھاتا‘‘ بن جاتا ہے جس میں ہر شخص دوسرے کے احسان، غلطی، قربانی اور کوتاہی کا حساب جمع کرتا رہتا ہے
ٹریورز کے مطابق ایسے جوڑوں میں ناراضی اکثر کسی ایک بڑے واقعے سے پیدا نہیں ہوتی،اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں خاموشی سے یہ گننا شروع کردیتے ہیں کہ رشتے میں کون کتنا دے رہا ہے اور کون کتنا لے رہا ہے
مثلاً ایک شوہر سوچ سکتا ہے، ’’میں سارا دن کام کرتا ہوں اور گھر کے کام بھی کرتا ہوں، جبکہ وہ اتنا نہیں کرتی،”دوسری طرف بیوی کے ذہن میں یہ حساب چل رہا ہوسکتا ہے کہ ’’میں بچوں کی دیکھ بھال، خریداری اور گھر کی ذمہ داری سنبھالتی ہوں، لیکن اسے اس کی قدر ہی نہیں”
دونوں اپنے اپنے حساب میں خود کو زیادہ قربانی دینے والا سمجھ سکتے ہیں
یہی صورتحال آہستہ آہستہ محبت کو مقابلے میں بدل دیتی ہے،شریکِ حیات کی مدد ایک محبت بھرا عمل نہیں رہتی بلکہ ایک ایسا کام بن جاتی ہے جس کے بدلے میں فوری طور پر برابر کی ادائیگی متوقع ہوتی ہے
ٹریورز کے مطابق خوشگوار جوڑوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وہ رشتے کو ’’کس نے کتنا کیا‘‘ کے حساب سے نہیں چلاتے،وہ یہ توقع نہیں رکھتے کہ ہر کام، ہر قربانی اور ہر ذمہ داری لازماً برابر تقسیم ہو
اس کا مطلب یہ نہیں کہ رشتے میں ناانصافی کو نظر انداز کیا جائے،اگر ایک شخص مسلسل تمام ذمہ داریاں دوسرے پر ڈال رہا ہے تو اس پر بات کرنا ضروری ہے،فرق صرف یہ ہے کہ صحت مند جوڑا شکایت کو حساب کی کتاب نہیں بننے دیتا
ایسے جوڑے یہ سوچنے کے بجائے کہ ’’میں نے اس کے لیے اتنا کیا، اب اس کی باری ہے‘‘، زیادہ تر یہ دیکھتے ہیں کہ اس وقت ہم دونوں میں سے کس کو زیادہ ضرورت ہے اور کون کیا سنبھال سکتا ہے
کبھی ایک شریک زیادہ کام کرتا ہے، کبھی دوسرا،کبھی ایک بیمار یا پریشان ہوتا ہے اور دوسرا زیادہ ذمہ داریاں اٹھاتا ہے،زندگی میں حالات برابر نہیں رہتے، اس لیے ہر دن کا حساب برابر کرنے کی کوشش خود رشتے پر بوجھ بن سکتی ہے
ماہرِ نفسیات کے مطابق خاموش ناراضگی اکثر اسی ذہنی حساب سے پیدا ہوتی ہے،جب انسان بار بار اپنے شریکِ حیات کی کمیوں کو شمار کرتا ہے تو اچھی چیزیں بھی نظر انداز ہونے لگتی ہیں،پھر معمولی بات بھی پرانے حساب کی نئی قسط بن جاتی ہے
اسی لیے خوشگوار رشتے کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ دونوں افراد یہ احساس رکھتے ہوں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک ہی طرف کھڑے ہیں
رشتہ اس وقت کمزور ہونا شروع ہوتا ہے جب سوال یہ بن جائے کہ ’’میں نے تمہارے لیے کیا کیا؟‘‘
اور مضبوط اس وقت ہوتا ہے جب سوال یہ ہو
’’ہم دونوں مل کر اپنی زندگی کو بہتر کیسے بنا سکتے ہیں؟‘

قومی خبریں سے مزید