ٹرمپ کا این بی سی میزبان کو ایف سی سی سے سزا دلوانے کا اعلان، صرف ’’مکسڈ رزلٹس‘‘ کہنے پر بھڑک اٹھے

ٹرمپ کا این بی سی میزبان کو ایف سی سی سے سزا دلوانے کا اعلان، صرف ’’مکسڈ رزلٹس‘‘ کہنے پر بھڑک اٹھے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی کے معروف پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ کی میزبان کرسٹن ویلکر کو صرف اس لیے وفاقی مواصلاتی کمیشن سے شکایت اور ممکنہ سزا دلوانے کی دھمکی دے دی کہ انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی حمایت کے ریکارڈ کو ’’مکسڈ رزلٹس‘‘ یعنی ملے جلے نتائج قرار دیا تھا
ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ویلکر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں وفاقی مواصلاتی کمیشن میں رپورٹ کریں گے تاکہ ان کے خلاف ’’سرزنش یا سزا‘‘ کی کارروائی کی جائے,ٹرمپ نے ویلکر کو ’’غیر مقبول‘‘ میزبان قرار دیتے ہوئے ’’میٹ دی پریس‘‘ کو بھی ’’میٹ دی فیک پریس‘‘ کہہ کر تنقید کی
تنازع اس وقت شروع ہوا جب ویلکر نے اتوار کو پروگرام سے قبل این بی سی کے واشنگٹن اسٹیشن پر براہ راست گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ایک بڑا کردار ادا کریں گے اور انہوں نے ری پبلکن امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کی حمایت کی ہے، تاہم ان کی حمایت کے نتائج ’’کچھ ملے جلے‘‘ رہے ہیں
ویلکر نے اسی گفتگو میں ٹرمپ کی حالیہ کامیابی بھی تسلیم کی اور جنوبی کیرولائنا میں ڈارلین گراہم کی ری پبلکن سینیٹ پرائمری میں کامیابی کا حوالہ دیا
ٹرمپ نے اس ایک جملے کو اپنے خلاف ’’جان بوجھ کر پھیلائی گئی غلط معلومات‘‘ قرار دیا،انہوں نے دعویٰ کیا کہ سینیٹ کے لیے ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی کی شرح 100 فیصد جبکہ ایوان نمائندگان کے لیے 98 فیصد رہی ہے،ان کے مطابق ایسے اعدادوشمار کی موجودگی میں ان کی انتخابی حمایت کو ’’ملے جلے نتائج‘‘ کہنا ناقابل قبول ہے
لیکن معاملہ صرف ٹرمپ اور ویلکر کے درمیان لفظی جنگ تک محدود نہیں رہا،صدر نے براہ راست وفاقی مواصلاتی کمیشن کے چیئرمین برینڈن کار کا نام لیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کمیشن اس معاملے کو ’’انتہائی سنجیدگی‘‘ سے لے گا
این بی سی نے فوری طور پر اپنی میزبان کا دفاع کیا،ادارے کے ترجمان نے کہا کہ ’’کرسٹن اس شعبے کی بہترین صحافیوں میں سے ایک ہیں اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں”
یہ تنازع اس لیے بھی اہم ہے کہ وفاقی مواصلاتی کمیشن کی جانب سے کسی صحافی کو محض اس کی رپورٹنگ یا سیاسی تجزیے کی بنیاد پر سزا دینے کے اختیارات انتہائی محدود ہیں،قانونی ماہرین کے مطابق کسی نشریاتی ادارے یا صحافی کو صدر کے نقطۂ نظر سے اختلاف کرنے والی رائے یا رپورٹنگ پر سزا دینا امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت آزادیٔ اظہار کے سنگین سوالات پیدا کرے گا
کمیشن بنیادی طور پر نشریاتی اداروں کے لائسنس اور عوامی نشریاتی مفاد سے متعلق معاملات دیکھتا ہے،وہ کسی صحافی کے بیان کو صرف اس بنیاد پر سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتا کہ صدر اسے غلط یا جانبدار سمجھتے ہیں،گزشتہ چار دہائیوں سے کسی نشریاتی ادارے کا لائسنس منسوخ بھی نہیں کیا گیا
ٹرمپ اور ویلکر کے درمیان یہ پہلا تصادم بھی نہیں،جون میں دونوں کے درمیان ایک انٹرویو اس وقت تلخ ہوگیا تھا جب ویلکر نے ٹرمپ سے 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے ان کے دعووں پر سخت سوالات کیے،ٹرمپ نے اس گفتگو کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا
اس بار تاہم صدر کی دھمکی ایک بڑے سیاسی سوال کو دوبارہ سامنے لے آئی ہے،کیا حکومت کسی ایسے صحافی یا نشریاتی ادارے کے خلاف وفاقی اختیار استعمال کرسکتی ہے جو صدر کی کارکردگی یا سیاسی دعووں کی مختلف تشریح کرے؟
ٹرمپ انتظامیہ اور وفاقی مواصلاتی کمیشن پہلے ہی کئی بڑے نشریاتی اداروں کے ساتھ کشیدگی میں ہیں،اے بی سی کے خلاف بھی کمیشن کے اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دے کر عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ وفاقی نشریاتی اختیارات کو حکومت پر تنقید کرنے والے میڈیا اداروں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش امریکی صحافت اور آزادیٔ اظہار کے لیے ایک خطرناک نظیر بن سکتی ہے
اور اب ایک معمولی سا جملہ، ’’ٹرمپ کے نتائج کچھ ملے جلے رہے ہیں‘‘، امریکی صدر اور ایک طاقتور وفاقی ادارے کے درمیان نئی محاذ آرائی کا سبب بن گیا ہے،یہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے ریکارڈ کے مطابق ٹرمپ کے 2026 کے پرائمری ریکارڈ کے مطابق ان کے حمایت یافتہ سینیٹ امیدواروں میں 24 میں سے 24 کامیاب ہوئے، یعنی کامیابی کی شرح 100 فیصد رہی،ایوانِ نمائندگان میں ان کے حمایت یافتہ 219 امیدواروں میں سے 215 کامیاب ہوئے، یعنی شرح تقریباً 98 فیصد بنتی ہے،مجموعی طور پر سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان ملا کر 243 میں سے 239 امیدوار جیتے، جس سے مجموعی کامیابی کی شرح 98.35 فیصد بنتی ہے، تاہم ویلکر کا ’’مکسڈ رزلٹس‘‘ کہنا لازماً ان اعدادوشمار کی تردید نہیں کرتا، کیونکہ ٹرمپ کے مجموعی ریکارڈ میں گورنر اور بعض دوسری پرائمری شکستیں بھی شامل ہیں،2026 کے تمام پرائمری توثیق شدہ امیدواروں کا مجموعی ریکارڈ ٹرمپ کے اپنے گراف کے مطابق 254 میں سے 262، یعنی تقریباً 97 فیصد تھا

قومی خبریں سے مزید