ٹرمپ کے لیک اونٹاریو کا نام بدلنے کے اقدام پر کینیڈا میں ردعمل، ٹرمپ کے نام سے منسوب مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی غور

ٹرمپ کے لیک اونٹاریو کا نام بدلنے کے اقدام پر کینیڈا میں ردعمل، ٹرمپ کے نام سے منسوب مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی غور

ٹورنٹو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لیک اونٹاریو کا نام ’’لیک امریکہ‘‘ کرنے کے اقدام نے کینیڈا میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جہاں کینیڈین حکومت اور صوبائی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ لیک اونٹاریو کا نیا امریکی نام تسلیم نہیں کریں گے، وہیں بعض کینیڈین شہری اور مقامی نمائندے اب ان سڑکوں، مقامات اور دیگر عوامی جگہوں کے ناموں پر بھی دوبارہ غور کرنے کی بات کر رہے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب ہیں
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات کئی دہائیوں کی شدید ترین کشیدگی سے گزر رہے ہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازع، بھاری محصولات، سیاسی بیانات اور اب جغرافیائی ناموں کا معاملہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئے ہیں امریکی حکومت نے لیک اونٹاریو کا نام اپنے سرکاری جغرافیائی نظام میں ’’لیک امریکہ‘‘ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد گوگل میپس نے بھی امریکہ میں موجود صارفین کے لیے نیا نام دکھانا شروع کر دیا ہے۔ کینیڈا میں تاہم یہ نام تسلیم نہیں کیا گیا اور یہاں بدستور لیک اونٹاریو ہی استعمال ہو رہا ہے
ٹرمپ کی جانب سے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کینیڈا میں محض ایک نقشے کی تبدیلی نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے امریکی صدر نے تجارتی مذاکرات میں شدید اختلافات کے دوران لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی بات شروع کی تھی، جسے بعد میں امریکی انتظامیہ نے باقاعدہ انتظامی اقدام میں تبدیل کر دیا
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ کینیڈا لیک اونٹاریو کا نام تبدیل نہیں کرے گا ڈگ فورڈ نے اس معاملے کے جواب میں ایک بڑا دو لسانی بورڈ بھی نصب کرایا جس پر واضح کیا گیا کہ لیک اونٹاریو اب بھی لیک اونٹاریو ہے اور ہمیشہ یہی رہے گی
اب اس تنازع نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ کینیڈا میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر کینیڈا سے متعلق تاریخی اور جغرافیائی ناموں کو اپنی مرضی سے تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تو کینیڈا میں ٹرمپ کے نام سے منسوب عوامی مقامات کے نام برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے
اسی سلسلے میں اوٹاوا میں ٹرمپ ایونیو نامی ایک سڑک کے نام پر بھی بحث شروع ہوئی ہے۔ بعض مقامی نمائندوں نے اس سڑک کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پر غور کیا ہے اس بحث میں بعض لوگوں نے طنزیہ طور پر ’’ٹیکو ایونیو‘‘ کا نام بھی تجویز کیا، جو ٹرمپ کے خلاف استعمال ہونے والے ایک سیاسی طنزیہ فقرے سے ماخوذ ہے یہ تجویز اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ موجودہ کشیدگی نے بعض کینیڈین شہریوں میں ٹرمپ کے نام سے وابستہ مقامات کے بارے میں بھی نئی سوچ پیدا کر دی ہے
اس بحث کے پیچھے صرف سیاسی غصہ نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے کہ عوامی جگہوں کے نام کس بنیاد پر رکھے جاتے ہیں اور کیا کسی شخصیت کے نام پر رکھی گئی جگہ کو اس شخصیت کے موجودہ سیاسی رویے کی وجہ سے دوبارہ نام دیا جانا چاہیے
کینیڈا اور امریکہ کے تعلقات میں موجودہ صورتحال خاص طور پر اس لیے غیر معمولی ہے کہ دونوں ممالک کئی دہائیوں سے قریبی اتحادی اور تجارتی شراکت دار رہے ہیں کینیڈا میں ٹرمپ کے نام سے منسوب کسی مقام کا نام تبدیل کرنے کی بحث بھی اسی وسیع تر احساس کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پرانے اعتماد کو موجودہ امریکی پالیسیوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے
دوسری جانب ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ہر جگہ کے نام تبدیل کرنا مناسب راستہ نہیں ان کے مطابق عوامی جگہوں کے نام تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں اور کسی موجودہ سیاسی تنازع کے ردعمل میں نام تبدیل کرنے سے مستقبل میں ایک نئی ناموں کی جنگ شروع ہو سکتی ہے
لیک اونٹاریو کے معاملے میں بھی یہی بنیادی مسئلہ سامنے آیا ہے امریکہ اپنے سرکاری نقشوں اور جغرافیائی نظام میں نیا نام استعمال کر سکتا ہے، لیکن وہ کینیڈا کو اپنا نام تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اسی طرح کینیڈا اپنے علاقوں میں ٹرمپ کے نام سے منسوب کسی مقام کا نام تبدیل کرنا چاہے تو یہ ایک مقامی یا کینیڈین فیصلہ ہوگا، جسے امریکہ قانونی طور پر روک نہیں سکتا
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں بھی ٹرمپ کے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کے فیصلے پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل سمیت بعض امریکی رہنماؤں نے اس اقدام کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ بعض مقامی امریکی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے آبی مقام کا نام تبدیل کرنا جو دونوں ممالک کے درمیان مشترک جغرافیائی حقیقت ہے، سیاسی تنازع کو حل کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتا ہے
مقامی امریکی آبادی کے بعض نمائندوں نے بھی لیک اونٹاریو کے نام کی تبدیلی پر اعتراض کیا ہے سینیکا قوم نے امریکی حکومت سے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیک اونٹاریو کا نام مقامی تاریخ اور ثقافت سے جڑا ہوا ہے اور موجودہ سیاسی حالات کی بنیاد پر اس تاریخی شناخت کو تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے
اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ فی الحال امریکہ کے سرکاری جغرافیائی نظام تک محدود ہے کینیڈا میں لیک اونٹاریو کا سرکاری نام تبدیل نہیں ہوا اور کینیڈین ادارے بدستور لیک اونٹاریو ہی استعمال کر رہے ہیں گوگل میپس نے بھی ملک کے لحاظ سے مختلف نام دکھانے کا طریقہ اختیار کیا ہے، جس کے تحت امریکہ میں ’’لیک امریکہ‘‘، کینیڈا میں ’’لیک اونٹاریو‘‘ اور بعض دیگر ممالک میں دونوں نام دکھائی دے سکتے ہیں
کینیڈا میں ٹرمپ کے نام سے منسوب مقامات کے نام تبدیل کرنے کی بحث اس لیے بھی علامتی اہمیت رکھتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع اب صرف تجارت اور محصولات تک محدود نہیں رہا۔ پہلے توانائی، گاڑیوں، اسٹیل اور دیگر مصنوعات پر اختلاف تھا، پھر ٹرمپ کے بیانات میں کینیڈا کی سیاسی حیثیت اور تجارتی تعلقات پر سخت زبان سامنے آئی، اور اب جغرافیائی نام بھی اس کشیدگی کا حصہ بن چکے ہیں
اگر یہ صورتحال مزید طویل ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ کینیڈا میں ٹرمپ سے منسوب مزید عوامی مقامات کے ناموں پر بھی بحث شروع ہو۔ تاہم ایسے فیصلے آسان نہیں ہوں گے کیونکہ کسی مقام کا نام تبدیل کرنا صرف سیاسی بیان نہیں بلکہ مقامی حکومت، شہریوں، تاریخی ریکارڈ اور بعض اوقات قانونی عمل سے بھی جڑا ہوتا ہے
یوں لیک اونٹاریو کے نام کا تنازع اب ایک بڑے سیاسی علامت میں تبدیل ہو چکا ہے امریکہ میں اسے ’’لیک امریکہ‘‘ کہا جا رہا ہے، کینیڈا میں بدستور لیک اونٹاریو ہی ہے، جبکہ کینیڈا کے بعض حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ اگر امریکی قیادت کینیڈا سے متعلق ناموں کو اپنی مرضی سے بدل سکتی ہے تو کیا کینیڈا کو بھی اپنے ہاں ٹرمپ کے نام سے وابستہ مقامات کے بارے میں نئے سرے سے سوچنا چاہیے
دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط قریبی تعلقات کے موجودہ بحران میں ناموں کی یہ جنگ بظاہر علامتی معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے پیچھے بڑھتی ہوئی سیاسی ناراضی اور اعتماد میں کمی کی گہری کہانی موجود ہے لیک اونٹاریو کا نام شاید دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑا اقتصادی مسئلہ نہ ہو، لیکن موجودہ حالات میں یہ اس بات کی ایک نمایاں علامت بن گیا ہے کہ کبھی انتہائی قریبی سمجھے جانے والے دونوں پڑوسی اب ایک دوسرے کے اقدامات کو کس قدر حساس نظر سے دیکھ رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید