ٹرمپ کا کینیڈا پر سخت حملہ، دو صدیوں پرانے مضبوط تعلقات تجارتی جنگ کے خطرے سے دوچار، دونوں ممالک کو بھاری نقصان کا خدشہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے خلاف ایک بار پھر انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے اسے امریکہ کا ’’بدترین فائدہ اٹھانے والوں میں سے ایک‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کینیڈا کی بنی ہوئی گاڑیاں، گاڑیوں کے پرزے اور دوسری کینیڈین مصنوعات نہیں چاہتے ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور امریکہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے جانے کے بعد کینیڈا نے بھی جوابی اقدامات شروع کر دیے ہیں
کینیڈا اور امریکہ کے موجودہ تعلقات کو صرف ایک عام تجارتی تنازع سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تاریخ دو صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے دونوں ملکوں کے درمیان 1812 کی جنگ کے بعد بتدریج ایسا تعلق قائم ہوا جس میں اختلافات کے باوجود جنگ کے بجائے مذاکرات اور باہمی تعاون کو ترجیح دی گئی۔ وقت کے ساتھ دونوں ممالک دفاع، توانائی، صنعت، تجارت اور سرحدی سلامتی کے شعبوں میں ایک دوسرے کے انتہائی اہم شراکت دار بن گئے
تجارت نے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ 1988 میں کینیڈا اور امریکہ نے آزاد تجارت کا معاہدہ کیا جو یکم جنوری 1989 کو نافذ ہوا۔ اس معاہدے نے دونوں ملکوں کے درمیان بہت سی تجارتی رکاوٹیں اور محصولات ختم کیے اور سرحد پار تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 1994 میں میکسیکو بھی شامل ہوا تو شمالی امریکہ کی تین بڑی معیشتوں کے درمیان آزاد تجارت کا نیا نظام قائم ہوا بعد میں 2020 میں اس کی جگہ کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے نئے تجارتی معاہدے نے لے لی
اس کئی دہائیوں پر محیط تعاون کا نتیجہ یہ نکلا کہ کینیڈا اور امریکہ کی معیشتیں اس قدر ایک دوسرے میں پیوست ہو گئیں کہ بہت سی مصنوعات دراصل کسی ایک ملک کی نہیں رہیں خاص طور پر گاڑیوں کی صنعت میں ایک گاڑی کے پرزے مختلف صوبوں اور ریاستوں میں تیار ہوتے ہیں، کئی مرتبہ سرحد عبور کرتے ہیں اور پھر مکمل گاڑی تیار ہوتی ہے اونٹاریو اور مشی گن کے درمیان قائم صنعتی سلسلہ اس باہمی انحصار کی سب سے نمایاں مثال ہے
یہی وجہ ہے کہ موجودہ تجارتی جنگ کا سب سے بڑا خطرہ گاڑیوں کی صنعت کو لاحق ہے۔ امریکہ کی جانب سے کینیڈین گاڑیوں، اسٹیل اور دیگر مصنوعات پر بھاری محصولات کے باعث کینیڈین کارخانوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، لیکن اس کا نقصان امریکی کار ساز کمپنیوں کو بھی ہوگا کیونکہ ان کے کارخانوں میں استعمال ہونے والے متعدد پرزے کینیڈا سے آتے ہیں اگر ایک پرزہ سرحد عبور کرتے وقت مہنگا ہو جائے تو اس کا اثر پوری گاڑی کی قیمت پر پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر نے یکم جنوری 2027 سے کینیڈین گاڑیوں، ٹرکوں اور گاڑیوں کے پرزوں پر 50 فیصد محصول عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے
22 اگست 2026 سے امریکہ نے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے محصولات نافذ کیے ہیں ان اقدامات سے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین برآمدات متاثر ہونے کی توقع ہے کینیڈا نے جواب میں امریکی مصنوعات پر بھی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً 900 ارب ڈالر سالانہ کی تجارت کے مستقبل پر خدشات بڑھ گئے ہیں
کینیڈا کے لیے مسئلہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ اس کی معیشت امریکی منڈی سے بہت گہری وابستگی رکھتی ہے اگر کینیڈین کمپنی اپنی تیار کردہ مصنوعات امریکہ میں فروخت نہیں کر پاتی تو اسے یا تو قیمت کم کرنا پڑے گی، اپنا منافع قربان کرنا ہوگا یا پھر پیداوار کم کرنا پڑے گی اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں کمی، کارخانوں کی پیداوار میں کمی اور روزگار کے مواقع متاثر ہونے کا خطرہ ہے حالیہ جائزوں میں بعض ماہرین نے موجودہ محصولات برقرار رہنے کی صورت میں کینیڈا میں تقریباً 90 ہزار سے ایک لاکھ ملازمتوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اس بحران سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ جن کاروباروں کی زیادہ تر برآمدات امریکہ جاتی ہیں، ان کے لیے نئی محصولات کا مطلب یہ ہے کہ امریکی خریداروں کے لیے کینیڈین مصنوعات اچانک بہت مہنگی ہو جائیں گی اس کے نتیجے میں بعض امریکی خریدار متبادل ملکوں سے سامان خرید سکتے ہیں، جس سے کینیڈین کمپنیوں کے آرڈر اور آمدنی کم ہو سکتی ہے
لیکن یہ تصور بھی درست نہیں کہ تجارتی جنگ میں صرف کینیڈا نقصان اٹھائے گا۔ امریکہ کی اپنی معیشت کینیڈا سے گہری وابستہ ہے۔ کینیڈا روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل امریکہ کو فراہم کرتا ہے، جو امریکی مجموعی پٹرولیم استعمال کا تقریباً پانچواں حصہ بنتا ہے۔ کینیڈا امریکہ کو ایلومینیم، پوٹاش، لکڑی، گاڑیوں کے پرزے اور دیگر اہم صنعتی خام مال بھی فراہم کرتا ہے
اگر امریکہ کینیڈین تیل اور خام مال کی جگہ فوری طور پر دوسرے ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی لاگت بڑھ سکتی ہے امریکی ریفائنریاں کئی دہائیوں سے کینیڈین خام تیل کے ساتھ کام کرتی آئی ہیں اور اس تیل کو دوسرے ذرائع سے تبدیل کرنا ہر جگہ آسان نہیں اس لیے کینیڈین توانائی پر بہت زیادہ دباؤ ڈالنے کی صورت میں امریکہ میں پٹرول، ڈیزل اور صنعتی ایندھن کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے
اسی طرح امریکی کار ساز کمپنیوں کو کینیڈین اسٹیل اور پرزوں کی ضرورت ہے اگر یہ مصنوعات محصولات کی وجہ سے مہنگی ہوئیں تو امریکی کارخانوں کی پیداواری لاگت بڑھے گی اور بالآخر اس کا کچھ بوجھ امریکی صارفین پر منتقل ہو سکتا ہے یوں کینیڈا پر لگایا گیا محصول بالواسطہ طور پر امریکی شہری کے لیے بھی مہنگی گاڑی، مہنگا سامان اور زیادہ پیداواری لاگت کا سبب بن سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے ماہرین اسی باہمی انحصار کی وجہ سے خبردار کر رہے ہیں کہ محصولات کا اثر صرف سرحد کے ایک طرف محدود نہیں رہے گا
توانائی کے علاوہ بجلی بھی دونوں ملکوں کے درمیان اہم تعلق ہے کینیڈا امریکی منڈی کو بجلی فراہم کرنے والے اہم ذرائع میں شامل ہے اور بعض امریکی علاقوں میں کینیڈین بجلی مقامی توانائی کے نظام کا اہم حصہ ہے۔ اس لیے اگر تجارتی جنگ توانائی تک پہنچتی ہے تو اس کے اثرات صرف صنعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عام صارفین اور کاروبار بھی متاثر ہو سکتے ہیں
اس بحران کا ایک اور بڑا نقصان اعتماد کا ہو سکتا ہے کینیڈا اور امریکہ نے کئی دہائیوں میں ایک دوسرے پر اس قدر اعتماد کرتے ہوئے صنعتی نظام تشکیل دیے کہ کاروباری اداروں نے طویل مدت کی سرمایہ کاری اسی بنیاد پر کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تجارت نسبتاً مستحکم رہے گی اگر کمپنیوں کو یہ خوف لاحق ہو جائے کہ کسی بھی وقت محصولات دوبارہ بڑھ سکتے ہیں تو وہ مستقبل کی سرمایہ کاری کے فیصلوں میں امریکہ اور کینیڈا کے بجائے دوسرے علاقوں کو ترجیح دے سکتی ہیں
کینیڈا میں اس صورت حال نے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ اور مقامی مصنوعات کی حمایت کے رجحان کو بھی مزید بڑھایا ہے۔ بہت سے کینیڈین صارفین امریکی مصنوعات خریدنے اور امریکہ کے سفر میں کمی کی بات کر رہے ہیں، جبکہ بعض امریکی شہر کینیڈین سیاحوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی مہمات چلا رہے ہیں کیونکہ کینیڈین سیاحت میں کمی سے امریکی کاروباروں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے
اگر یہ تجارتی جنگ طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ ان ممالک کو ہو سکتا ہے جو کینیڈا یا امریکہ کی جگہ ان کی سپلائی چین میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں میکسیکو اس دوڑ میں سب سے نمایاں امیدواروں میں شامل ہے کیونکہ وہ پہلے ہی امریکی صنعت کے ساتھ گہری صنعتی وابستگی رکھتا ہے اگر امریکی کمپنیوں کو کینیڈا سے آنے والے پرزے یا تیار مصنوعات مہنگی پڑنے لگیں تو وہ کچھ پیداوار میکسیکو منتقل کرنے پر غور کر سکتی ہیں
یورپ بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ کینیڈا اپنی تجارت کو امریکہ سے آگے بڑھا کر یورپی منڈیوں میں مزید وسعت دے سکتا ہے، جبکہ یورپی ممالک کینیڈین توانائی، معدنیات، زرعی مصنوعات اور صنعتی خام مال کے زیادہ بڑے خریدار بن سکتے ہیں اسی طرح جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی کینیڈا کے توانائی اور اہم معدنی وسائل کے لیے طویل مدتی شراکت دار بن سکتے ہیں
چین بھی ممکنہ طور پر کینیڈا کے لیے ایک بڑی متبادل منڈی بننے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن کینیڈا کے لیے امریکہ سے انحصار کم کرتے ہوئے کسی ایک نئے ملک پر حد سے زیادہ انحصار پیدا کرنا بھی خطرناک ہوگا۔ اسی وجہ سے کینیڈا کے لیے اصل طویل مدتی حکمت عملی ایک ملک کو دوسرے ملک سے بدلنا نہیں بلکہ اپنی تجارت کو کئی مختلف منڈیوں میں پھیلانا ہو سکتی ہے
اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ بڑھتی ہے تو عالمی صنعت بھی متاثر ہو سکتی ہے شمالی امریکہ کی گاڑیوں، توانائی، معدنیات، زرعی مصنوعات اور صنعتی خام مال کی سپلائی چین میں خلل آنے سے دنیا بھر میں بعض مصنوعات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں دوسری طرف میکسیکو، یورپ، ایشیا اور دیگر خطے ان شعبوں میں اپنی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں جہاں کینیڈا اور امریکہ ایک دوسرے سے پیچھے ہٹ رہے ہوں گے
تاہم دونوں ممالک کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جغرافیہ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ کینیڈا اور امریکہ ایک دوسرے کے ساتھ تقریباً 8,900 کلومیٹر طویل سرحد رکھتے ہیں، ان کے درمیان بڑی شاہراہیں، ریل راستے، بجلی کے نظام، تیل اور گیس کی پائپ لائنیں اور صنعتی سپلائی چینز قائم ہیں۔ کسی ایسی سپلائی چین کو ختم کرکے اس کی جگہ کسی دوسرے براعظم سے سامان منگوانا اکثر زیادہ مہنگا اور وقت طلب ہوگا
اسی لیے موجودہ بحران میں اصل سوال یہ نہیں کہ کینیڈا یا امریکہ ایک دوسرے کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر دونوں ایک دوسرے پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس عمل کی قیمت کون ادا کرے گا۔ کینیڈا کو برآمدات، روزگار اور سرمایہ کاری میں نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ امریکہ کو مہنگے خام مال، صنعتی لاگت، گاڑیوں کی قیمتوں اور توانائی کے شعبے میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
دونوں ممالک کی کئی دہائیوں پر محیط شراکت داری نے ایک ایسی معاشی حقیقت پیدا کر دی ہے جسے سیاسی بیانات سے ختم کرنا آسان نہیں امریکہ کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور کینیڈا بھی امریکی صنعت، توانائی اور صارفین کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسی باہمی انحصار کی وجہ سے موجودہ تجارتی جنگ اگر مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کا نقصان صرف اوٹاوا اور واشنگٹن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے شمالی امریکی معاشی نظام کو متاثر کر سکتا ہے
یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران کو صرف ٹرمپ اور کینیڈا کے درمیان سیاسی اختلاف کے طور پر دیکھنے کے بجائے تقریباً دو صدیوں پر محیط ایک ایسے تعلق کے بحران کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے کئی دہائیوں میں دنیا کی سب سے گہری سرحد پار معاشی شراکت داریوں میں سے ایک شکل اختیار کی اگر مذاکرات دوبارہ کامیاب نہ ہوئے اور محصولات مزید بڑھتے گئے تو کینیڈا کو اپنی برآمدی منڈیاں تیزی سے متنوع بنانا ہوں گی، جبکہ امریکہ کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کینیڈین مصنوعات سے دور ہونے کی کوشش کے نتیجے میں اپنی صنعت اور صارفین پر پڑنے والی اضافی لاگت کو کس حد تک برداشت کیا جا سکتا ہے





