ڈیموکریٹس میں بغاوت کا لمحہ: ٹرمپ کے خلاف غصہ کافی نہیں، پارٹی کے اندر اب اقتدار کا رخ بھی بدل رہا ہے
واشنگٹن:امریکی وسط مدتی انتخابات میں صرف 9 ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی ایک ایسے سیاسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کی سب سے بڑی طاقت اور سب سے بڑا خطرہ ایک ہی جگہ دکھائی دے رہے ہیں،پارٹی کے اپنے ووٹر اب روایتی قیادت سے زیادہ جارحانہ معاشی سیاست اور نئی سیاسی قیادت کا مطالبہ کر رہے ہیں
فلوریڈا میں اینجی نکسن اور مشی گن میں عبدالسلام السید کی ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں کامیابیوں نے اس بحث کو قومی سطح پر پہنچا دیا ہے کہ آیا ڈیموکریٹک پارٹی 2026 کے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر روایتی اعتدال پسند سیاست کی طرف جائے گی یا بڑھتی ہوئی مہنگائی، رہائش کے بحران، صحت عامہ، اجرتوں اور عام امریکی کے معاشی دباؤ کو بنیاد بنا کر زیادہ ترقی پسند اور معاشی پاپولسٹ راستہ اختیار کرے گی
فلوریڈا میں 42 سالہ اینجی نکسن نے پارٹی کے قیام سے وابستہ امیدوار الیکس وِنڈمین کو شکست دے کر ایسی کامیابی حاصل کی جس نے خود ڈیموکریٹک حلقوں کو حیران کر دیا،سابق یونین منتظم اور ریاستی نمائندہ نکسن نے اپنی مہم کو مزدور طبقے، معاشی انصاف، صحت، بچوں کی نگہداشت، رہائش اور کم آمدنی والے خاندانوں کے مسائل کے گرد استوار کیا،وہ ڈیموکریٹک سوشلزم سے وابستہ ہوچکی ہیں اور ان کی مہم نے بڑی مالیاتی طاقت کے بجائے نچلی سطح کی تنظیم کو اپنی اصل قوت قرار دیا
یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ فلوریڈا آج کے امریکا کی سب سے مشکل ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں ڈیموکریٹس کو نومبر میں ریپبلکن سینیٹر ایشلے موڈی کا سامنا کرنا ہے،نکسن کی جیت نے اس لیے ایک بنیادی سوال پیدا کردیا ہے،کیا وہ سیاست جو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر پرائمری میں کامیاب ہو رہی ہے، ایسی ریاست میں عام انتخابات بھی جیت سکتی ہے جہاں ریپبلکن طاقت مضبوط ہے؟
مشی گن میں عبدالسلام السید کی کامیابی نے اس بحث میں ایک اور جہت شامل کردی،ترقی پسند اور فلسطینی حقوق کے حامی موقف رکھنے والے السید نے ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری جیتی، حالانکہ ان کے مقابلے میں نمایاں مالی اور سیاسی وسائل رکھنے والے امیدوار موجود تھے،ان کی کامیابی کو پارٹی کے ترقی پسند دھڑے، عرب اور مسلمان امریکی ووٹرز اور اسرائیل و غزہ کے معاملے پر ڈیموکریٹس کے اندر جاری اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے
لیکن السید کی کامیابی کے بعد پارٹی کے اندر ایک نئی مشکل بھی سامنے آگئی ہے،آج ہی انہوں نے مشی گن کی یہودی ڈیموکریٹک قیادت سے اپنے سابقہ تبصروں پر معذرت کی،یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی میں اسرائیل، غزہ اور یہود دشمنی جیسے معاملات اب بھی شدید اندرونی کشمکش پیدا کر رہے ہیں اور ترقی پسند امیدواروں کے لیے نومبر کی مہم میں یہ ایک حساس سیاسی امتحان بن سکتے ہیں
یہ سب کچھ ایک بڑے معاشی پس منظر میں ہورہا ہے
امریکی ووٹر کے لیے مہنگائی، گھر کا کرایہ، مکان خریدنے کی قیمت، صحت کی لاگت اور روزمرہ اخراجات اب بھی بنیادی سیاسی سوالات میں شامل ہیں،ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک مضبوط رائے یہ ہے کہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت یا جمہوریت کے تحفظ کا بیانیہ کافی نہیں ہوگا،عام ووٹر کو یہ بتایا جانا ضروری ہے کہ اگر ڈیموکریٹس دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو اس کی روزمرہ زندگی میں کیا بدلے گا
یہی وجہ ہے کہ اینجی نکسن جیسے امیدوار پارٹی کے اندر غیر معمولی توجہ حاصل کر رہے ہیں،ان کی سیاست میں صحت عامہ، بچوں کی نگہداشت، اجرتوں اور رہائش جیسے براہ راست معاشی مسائل مرکزی حیثیت رکھتے ہیں،حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں بھی ترقی پسند معاشی تجاویز کو آزاد ووٹرز کے ایک حصے کی حمایت حاصل ہونے کے شواہد ملے ہیں
مگر ڈیموکریٹس کے سامنے دوسرا خطرہ بھی واضح ہے
ریپبلکن پہلے ہی ترقی پسند امیدواروں کی کامیابیوں کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی بائیں جانب بہت زیادہ جھک گئی ہے،ٹرمپ نے بھی مشی گن میں السید کی کامیابی کے بعد اپنی معاشی تقریر کو ڈیموکریٹک ترقی پسندوں پر حملے کے لیے استعمال کیا تھا
یوں ڈیموکریٹس کے سامنے ایک مشکل سیاسی حساب ہے،اگر پارٹی بہت زیادہ اعتدال پسند رہتی ہے تو ترقی پسند اور نوجوان ووٹرز میں جوش کم ہوسکتا ہے،اگر وہ بہت تیزی سے بائیں جانب جاتی ہے تو ریپبلکن امیدوار اسے ’’انتہا پسند‘‘ قرار دے کر متوسط، لاطینی اور دوسرے غیر وابستہ ووٹرز کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کریں گے
اسی کشمکش کے درمیان پارٹی کی روایتی قیادت اور نئی نسل کے درمیان ایک اور سوال بھی اٹھ رہا ہے،کیا ڈیموکریٹس کو نئی قیادت چاہیے؟
مسی چوسٹس میں سینیٹر ایڈ مارکی اور ان سے کم عمر رکن کانگریس سیٹھ مولٹن کے درمیان مقابلہ اسی نسل در نسل بحث کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے،80 سالہ مارکی کے طویل ترقی پسند ریکارڈ کے باوجود مولٹن نے عمر اور نئی ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، کو اپنی مہم کا مرکزی نکتہ بنایا ہے،اس مقابلے نے پارٹی کے اندر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ تجربہ زیادہ اہم ہے یا ایسی نئی قیادت جو مصنوعی ذہانت، روزگار کی تبدیلی اور نئی نسل کے معاشی مسائل کو بہتر طور پر سمجھتی ہو
اس پورے منظرنامے میں 2026 کے انتخابات محض کانگریس کی نشستوں کا مقابلہ نہیں رہے
یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مستقبل کا ریفرنڈم بنتے جارہے ہیں
کیا پارٹی کا مستقبل روایتی مرکزیت میں ہے یا ترقی پسند معاشی پاپولزم میں؟ کیا ڈیموکریٹس ٹرمپ کے خلاف ووٹ لینے کے بجائے اپنے حق میں ووٹ لینے کے لیے ایک مثبت معاشی پروگرام پیش کرسکتے ہیں؟ کیا وہ مزدور طبقے، سیاہ فام اور لاطینی ووٹرز، نوجوانوں، عرب اور مسلمان امریکیوں اور متوسط طبقے کو ایک ہی سیاسی اتحاد میں دوبارہ جمع کرسکتے ہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کانگریس میں غیر معمولی تبدیلی کا عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے،2026 کے انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے درجنوں موجودہ ارکان واپس نہیں آرہے، جس سے نئی نسل کے امیدواروں کے لیے غیر معمولی جگہ پیدا ہوئی ہے
ڈیموکریٹس کے لیے موجودہ سیاسی ماحول بیک وقت امید افزا اور خطرناک ہے،پارٹی کو نومبر میں کانگریس کا کنٹرول واپس لینے کا موقع دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے لیے اسے صرف ٹرمپ مخالف جذبات پر انحصار نہیں کرنا ہوگا
اصل مقابلہ اب اس سوال پر ہے کہ امریکی ووٹر کے بڑھتے ہوئے معاشی غصے کا سیاسی وارث کون بنے گا
اگر ڈیموکریٹس اس غصے کو مہنگائی، رہائش، صحت، اجرت اور معاشی عدم مساوات کے ایک قابلِ عمل پروگرام میں تبدیل کر لیتے ہیں تو اینجی نکسن اور عبدالسلام السید کی کامیابیاں ایک وسیع تر سیاسی تبدیلی کی ابتدائی علامت ثابت ہوسکتی ہیں
لیکن اگر پارٹی اپنی اندرونی لڑائیوں، شناختی سیاست اور اسرائیل و غزہ جیسے تقسیم کن معاملات میں ہی الجھی رہی تو ترقی پسند پرائمری کامیابیاں نومبر میں مطلوبہ انتخابی لہر پیدا کرنے کے بجائے ریپبلکنز کے لیے حملے کا ہتھیار بھی بن سکتی ہیں
اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کے سامنے سب سے بڑا سوال ٹرمپ کو شکست دینا نہیں بلکہ یہ طے کرنا ہے کہ ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہونے والی پارٹی آخر کس چیز کے حق میں کھڑی ہے





