نواز شریف کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کٹھ پتلی وزیراعظم گیلانی کو فوری اصلاحات کے ڈرامے کا حکم، پہلے 100 دن کا منصوبہ سامنے آگیا
لاہور میں آزاد جموں و کشمیر کے نام نہاد انتخابات کے نتیجے میں بننے والے کٹھ پتلی وزیراعظم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کی مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات میں آزاد کشمیر کے عوامی مسائل کے فوری حل، انتخابی وعدوں پر عملدرآمد اور خطے کو ترقی و اصلاحات کی راہ پر ڈالنے کے لیے پہلے 100 دن کا منصوبہ سامنے آگیا
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری طارق فاروق کے ساتھ ملاقات میں کٹھ پتُلی وزیراعظم افتخار گیلانی کو ہدایت کی گئی کہ عوامی مسائل کے حل میں تاخیر نہ کی جائے اور انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے
نواز شریف نے آزاد کشمیر کے لیے پہلے 100 دن کا اصلاحاتی منصوبہ کٹھ پتلی وزیراعظم افتخار گیلانی کے ساتھ شیئر کیا، جس میں صحت، تعلیم، صفائی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے دیگر شعبوں میں فوری بہتری کو ترجیح دی گئی ہے
مسلم لیگ ن کے صدر نے ہدایت کی کہ آزاد کشمیر کو پنجاب کی طرز پر جدید اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاہم ترقی کا دائرہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ دور دراز علاقوں تک بھی بنیادی سہولیات پہنچائی جائیں
100 روزہ منصوبے میں نوجوانوں کے لیے تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے،نواز شریف نے کہا کہ اصلاحاتی پروگرام میں ایسے اقدامات شامل کیے جائیں جن کا براہ راست فائدہ عام شہری کو پہنچے اور حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کی رفتار کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے
وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی نام نہاد حکومت کو وفاقی حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کے فوری حل پر توجہ دینے کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار، ہنرمندی اور معاشی مواقع بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے پر زور دیا
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آزاد کشمیر کی نام نہاد نئی حکومت کو اقتدار سنبھالتے ہی کئی فوری چیلنجز کا سامنا ہے، حالیہ فراڈ انتخابات سے پہلے اور بعد میں خطے میں عوامی بے چینی اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی تھی، جس کے نتیجے میں ریاست میں نہ ہونے کے برابر ووٹنگ بتای جاتی ہے ، احتجاجی تحریک کے پس منظر میں آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں سمیت مختلف سیاسی اور عوامی مطالبات موجود رہے ہیں
کٹھ پتلی وزیراعظم جو حالیہ نام نہاد انتخابات میں بھی شکست کھا گئے تھے اور جنہیں ٹیکنوکریٹ نشست پر وزیراعظم منتخب کیا گیا ، اپنے پہلے خطاب میں آزاد کشمیر میں پنجاب کی طرز پر ترقی اور تبدیلی لانے کا عزم ظاہر کیا تھا، وہ 30 ووٹ حاصل کرکے آزاد کشمیر کے 17ویں نام نہاد وزیراعظم منتخب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد عباسی کو 14 ووٹ ملے
نئی حکومت کے لیے اصل امتحان اب اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا،آزاد کشمیر میں عوامی سطح پر بنیادی سہولیات، سڑکوں، تعلیم، صحت، روزگار اور حکومتی کارکردگی سے متعلق شکایات پہلے ہی سیاسی بحث کا حصہ رہی ہیں
کٹھ پتلی وزیراعظم افتخار گیلانی نے ایک روز قبل تاجروں اور طلبہ سے گفتگو میں یقین دہانی کرائی تھی کہ تعلیمی اداروں میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے اور پنجاب و خیبر پختونخوا سے سڑک رابطوں پر موجود پابندیاں ختم کرنے کے لیے چند دنوں میں اقدامات کیے جائیں گے،انہوں نے راولاکوٹ کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے معمول پر لانے کی یقین دہانی کرائی تھی
یوں مسلم لیگ ن کی قیادت کی لاہور میں ہونے والی یہ ملاقات محض نومنتخب وزیراعظم کو مبارکباد دینے تک محدود نہیں رہی بلکہ نئی حکومت کے لیے ایک واضح سیاسی اور انتظامی سمت متعین کرنے کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے
اب افتخار گیلانی کی کٹھ پتلی حکومت کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ پہلے 100 دن کا یہ منصوبہ کتنی تیزی سے زمین پر اترتا ہے اور کیا آزاد کشمیر کے عوام کو صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور روزمرہ سرکاری خدمات میں واقعی وہ تبدیلی محسوس ہوتی ہے جس کا وعدہ انتخابی مہم میں کیا گیا تھا





