آیت نور کے قتل پر سیاست دانوں کے وعدے، مگر اصل سوال ریاست اور معاشرے سے: 5 سالہ بچی کے ساتھ یہ درندگی کیوں ہوئی؟

آیت نور کے قتل پر سیاست دانوں کے وعدے، مگر اصل سوال ریاست اور معاشرے سے: 5 سالہ بچی کے ساتھ یہ درندگی کیوں ہوئی؟

ہری پور کی 5 سالہ آیت نور کے مبینہ اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے معاملے میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سیاسی سطح پر کئی اہم اعلانات سامنے آئے ہیں، لیکن اس کیس نے اب ایک ایسے بنیادی سوال کو جنم دیا ہے جس کا جواب صرف ملزمان کو سزا دینے سے نہیں ملے گا: آخر ایک معاشرے میں بچوں کے خلاف ایسی درندگی پیدا کہاں سے ہوتی ہے اور ریاست اسے روکنے میں کہاں ناکام رہتی ہے؟
تازہ ترین پیش رفت 30 اگست کو سامنے آئی جب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد آیت نور کے گھر پہنچیں اور اس کے والد سے تعزیت کی،انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پیغام لے کر آئی ہیں کہ پارٹی آیت نور کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور اسے قانونی اور عدالتی کارروائی میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا،روبینہ خالد نے یہ بھی کہا کہ قانون میں موجود سقم کی وجہ سے ملزمان فائدہ اٹھاتے ہیں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے
اس سے ایک روز پہلے 29 اگست کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آیت نور کے گھر پہنچے تھے،انہوں نے اہل خانہ سے تعزیت کی، ملزمان کو سخت ترین سزا دینے کا اعلان کیا، والد کے لیے مالی امداد اور سرکاری ملازمت کا اعلان کیا اور کہا کہ پٹھان کالونی کے گرلز ہائی اسکول کو آیت نور کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔ انہوں نے ہری پور میں تقریباً 2 ارب روپے کے سیف سٹی کیمروں کے منصوبے کا بھی اعلان کیا،سب سے اہم بات یہ تھی کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کے بچوں کے تحفظ کے قانون کو بھی آیت نور کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے
یہ اعلانات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر آیت نور کا معاملہ اب محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں رہا
آیت نور 10 اگست کو ہری پور کی پٹھان کالونی میں اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہوئی تھی،والد کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس نے خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی،تلاش کے دوران 400 سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا جبکہ تقریباً 200 سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ اور متعدد مشتبہ فون نمبروں کا جائزہ لیا گیا،پولیس کے مطابق 12 کیمروں کی فوٹیج نے بچی کی نقل و حرکت اور مشتبہ افراد تک پہنچنے میں خاص مدد دی
24 اگست کو ایک گرفتار مشتبہ شخص کی نشاندہی پر یونیورسٹی لنک روڈ کے قریب ایک خالی گودام کے کنویں سے آیت نور کی لاش برآمد ہوئی،اس کے بعد پوسٹ مارٹم اور فرانزک کارروائی ہوئی اور پولیس نے جنسی زیادتی کی تصدیق کی اطلاع دی،پولیس کے مطابق چار مشتبہ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے
لیکن یہاں ایک غیر معمولی پہلو بھی سامنے آیا ہے،پولیس کے مطابق بعض ملزمان کم عمر ہیں،ان کے شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے براہ راست ان کے نام پر رجسٹرڈ موبائل نمبروں تک پہنچنا بھی آسان نہیں تھا،تفتیش کاروں نے خاندان کے افراد کے نمبروں اور دوسرے تکنیکی شواہد سے کڑیاں جوڑیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ کیس میں صرف جرم کی نوعیت ہی نہیں بلکہ کم عمر ملزمان کے ساتھ قانون کے اطلاق کا سوال بھی موجود ہے
اور یہی وہ مقام ہے جہاں آیت نور کا کیس پاکستان کے بڑے سماجی بحران کی تصویر بن جاتا ہے
کیا ہر ایسا مجرم ذہنی مریض ہوتا ہے؟
نہیں
کسی شخص کا کسی بچے کے خلاف جنسی جرم کرنا لازماً ذہنی بیماری کی علامت نہیں،ایسے جرائم کے پیچھے مختلف عوامل ہوسکتے ہیں، جن میں جنسی استحصال کی مخصوص مجرمانہ رغبت، طاقت اور کمزور فرد پر قابو پانے کا رجحان، تشدد، معاشرتی بے حسی، بچوں کو آسان ہدف سمجھنا، سابقہ استحصال، مجرمانہ ماحول اور سزا سے بچ جانے کا احساس شامل ہوسکتا ہے
لیکن معاشرہ جب بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط حدیں قائم نہیں کرتا تو خطرہ بڑھ جاتا ہے
غربت بھی اس مسئلے کا ایک حصہ ہوسکتی ہے، مگر غربت کو ایسے جرائم کی وجہ قرار دینا بھی درست نہیں،دنیا بھر میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم غریب اور امیر دونوں طبقات میں ہوتے ہیں،فرق یہ ہوسکتا ہے کہ غریب خاندانوں کے بچے بعض اوقات زیادہ غیر محفوظ ماحول، کمزور نگرانی، محدود قانونی رسائی اور ریاستی سہولتوں کی کمی کا زیادہ سامنا کرتے ہیں
اصل مسئلہ غربت سے زیادہ کمزور تحفظ، کمزور اداروں اور سزا کے غیر یقینی احساس کا ہے
اگر ایک بچے کو اغوا کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ پولیس اسے فوری طور پر نہیں پکڑ سکے گی، خاندان دباؤ میں خاموش ہوجائے گا، مقدمہ برسوں چل سکتا ہے اور بالآخر سزا سے بچنے کے راستے موجود ہیں تو قانون کی موجودگی بھی جرم کو نہیں روک سکتی
اسی لیے ریاست کی رٹ صرف سڑک پر پولیس کی موجودگی کا نام نہیں
ریاست کی رٹ کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام شہری کو یقین ہو کہ اس کا بچہ محفوظ ہے، گمشدگی کی اطلاع فوری طور پر سنجیدگی سے لی جائے گی، پولیس کے پاس جدید تفتیشی وسائل موجود ہوں گے، عدالت میں مقدمہ مؤثر طریقے سے چلے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزا یقینی ہوگی
آیت نور کے کیس میں پولیس نے سی سی ٹی وی، فون ریکارڈ، جغرافیائی معلومات اور سرچ آپریشن استعمال کرکے تفتیش کو آگے بڑھایا،یہ اس بات کی مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی مؤثر پولیسنگ کا ذریعہ بن سکتی ہے،لیکن یہی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک شہر میں کیمروں کا مربوط نظام پہلے سے موجود ہوتا تو کیا بچی کی تلاش مزید تیزی سے ممکن ہوسکتی تھی؟
اسی لیے وزیراعلیٰ کی جانب سے ہری پور میں تقریباً 2 ارب روپے کے سیف سٹی کیمروں کے منصوبے کا اعلان محض ترقیاتی منصوبہ نہیں ہونا چاہیے،اگر یہ منصوبہ واقعی بچوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہے تو اس کی کامیابی کا پیمانہ کیمروں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ پولیس کسی جرم کے بعد کتنی تیزی سے مجرم تک پہنچتی ہے
سوشل میڈیا پر غصہ کیوں بڑھ رہا ہے؟
آیت نور کی لاش ملنے کے بعد ہری پور میں شدید احتجاج ہوا،شہریوں، خواتین اور سوشل میڈیا کارکنوں نے انصاف کا مطالبہ کیا اور خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،سوشل میڈیا پر بحث کا ایک بڑا حصہ یہ ہے کہ اگر بچی کی گمشدگی کے ابتدائی دنوں میں قومی سطح پر زیادہ توجہ دی جاتی تو شاید عوامی دباؤ اور وسائل مزید جلد متحرک ہوتے
دوسری طرف سوشل میڈیا پر بعض حلقے سخت ترین اور بعض اوقات قانون سے باہر کی سزاؤں کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں،آیت نور کے والد نے بھی ملزمان کے لیے انتہائی سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے،لیکن ریاست کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ عوام کے غصے کو قانون کے دائرے میں انصاف میں تبدیل کیا جائے، نہ کہ ایسا ماحول پیدا ہو جہاں ہجوم خود فیصلہ کرنے لگے
یہاں انصاف کا مطلب صرف انتقام نہیں
انصاف کا مطلب یہ بھی ہے کہ تفتیش مکمل ہو، شواہد محفوظ کیے جائیں، ملزمان کے خلاف مقدمہ قانون کے مطابق چلے، متاثرہ خاندان کو قانونی مدد ملے اور عدالت کسی جرم کو ثابت ہونے کی صورت میں مؤثر سزا دے
کیونکہ اگر ریاست لوگوں کو یہ یقین دلانے میں ناکام ہوجائے کہ انصاف عدالت کے اندر ملے گا تو معاشرے میں قانون کے بجائے غصہ، انتقام اور ہجوم کا نظام مضبوط ہونے لگتا ہے
بلاول بھٹو کا خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا، وزیراعلیٰ کا ہری پور پہنچنا، قانون کو آیت نور کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان، سیف سٹی منصوبہ اور مالی امداد، یہ سب فوری سیاسی اور انتظامی ردعمل ہیں
مگر آیت نور کے نام پر اصل تبدیلی تب ہوگی جب اس کیس کے بعد یہ سوال بھی پوچھا جائے کہ بچوں کے تحفظ کا موجودہ نظام کہاں کمزور ہے
کتنے بچے لاپتہ ہوتے ہیں؟
کتنے مقدمات میں فوری تفتیش نہیں ہوتی؟
کتنے خاندان پولیس اور عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں؟
کتنے ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں؟
اور کتنے واقعات ایسے ہیں جو کبھی خبر ہی نہیں بنتے؟
آیت نور اب واپس نہیں آسکتی،اس کے خاندان کا نقصان ناقابل تلافی ہے،لیکن اس سانحے کو صرف ایک اور افسوسناک خبر بنا کر بھلا دینا شاید اس واقعے کا سب سے بڑا المیہ ہوگا
اصل سوال یہ نہیں کہ آج آیت نور کے خاندان کے ساتھ کون کھڑا ہے
اصل سوال یہ ہے کہ کل کسی اور آیت نور کو بچانے کے لیے ریاست کہاں کھڑی ہوگی

قومی خبریں سے مزید