ناروے سوگ میں ڈوب گیا، بادشاہ ہاکون ہشتم نے نئے دور کا آغاز کر دیا
اوسلو: ناروے میں بادشاہ ہیرالڈ کے انتقال کے بعد شاہی خاندان اور عوام سوگ میں ہیں جبکہ 53 سالہ ہاکون ہشتم نے تخت سنبھال کر ملک کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔ سابق بادشاہ ہیرالڈ 89 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے اور انہوں نے تقریباً 35 سال تک ناروے پر حکمرانی کی
بادشاہ ہیرالڈ کے انتقال کے بعد ناروے بھر میں قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ دارالحکومت اوسلو میں شاہی محل کے باہر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جہاں مرحوم بادشاہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پھولوں کے ڈھیر لگ گئے صرف جمعے کے روز 20,000 سے زائد افراد نے شاہی محل پہنچ کر مرحوم بادشاہ کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کیا
ناروے کے سرکاری اور عوامی مقامات پر قومی پرچم سرنگوں کر دیے گئے ہیں جبکہ مختلف شہروں کے بلدیاتی مراکز میں تعزیتی کتابیں رکھی گئی ہیں تاکہ شہری اپنے تاثرات اور مرحوم بادشاہ کے لیے تعزیتی پیغامات درج کر سکیں
نئے بادشاہ ہاکون ہشتم نے ہفتے کے روز قوم سے اپنا پہلا خطاب کیا انہوں نے شاہی محل میں مختلف اہم اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ منگل کو وہ ناروے کی پارلیمان میں وفاداری کا حلف اٹھائیں گے
ناروے کے وزیراعظم یونس گار ستور نے نئے بادشاہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ ایک دور ختم ہو گیا اور نیا دور شروع ہو گیا ہے ان کے مطابق بادشاہ ہیرالڈ نے کئی دہائیوں تک ناروے کے ساتھ رہتے ہوئے ایسے وقت میں ملک کی قیادت کی جب معاشرہ اور معیشت بڑی تبدیلیوں سے گزرے
بادشاہ ہیرالڈ کو ناروے میں ایک کھلے، برداشت کرنے والے اور عوام کو متحد رکھنے والے سربراہ کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر 2011 میں انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند اینڈرس بیرنگ بریوک کے حملے کے بعد ان کا قوم سے خطاب آج بھی ناروے کے عوام کے ذہنوں میں موجود ہے۔ اس حملے میں 77 افراد ہلاک ہوئے تھے
بادشاہ ہیرالڈ کے آخری برسوں میں صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا تھا جس کے باعث انہیں اپنی سرکاری مصروفیات محدود کرنا پڑی تھیں۔ وہ 17 اگست سے اوسلو کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے انہیں خون کے سرخ خلیوں کے تیزی سے ختم ہونے کے باعث پیدا ہونے والی بیماری لاحق تھی، جس سے تھکن اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں
مرحوم بادشاہ کا تابوت جمعے کو اوسلو یونیورسٹی ہسپتال سے شاہی محل منتقل کر دیا گیا تھا۔ عوام کو شاہی محل کے عبادت خانے میں تابوت دیکھنے کا موقع بھی دیا جائے گا، تاہم آخری رسومات کی تاریخ ابھی مقرر نہیں کی گئی
ناروے میں نئے بادشاہ کی روایتی تاج پوشی کی تقریب نہیں ہوگی کیونکہ ملک نے 1908 میں تاج پوشی کی روایت ختم کر دی تھی۔ تاہم ہاکون ہشتم اپنے والد اور دادا کی طرح ٹرونڈہائم کے گرجا گھر میں اپنے دور حکومت کی مذہبی توثیق کی تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں
ہاکون ہشتم ایک ایسی بادشاہت کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں جسے جدید اور نسبتاً سادہ شاہی نظام کے طور پر جانا جاتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں شاہی خاندان کو متعدد تنازعات اور اسکینڈلز کا بھی سامنا رہا ہے نئے بادشاہ کے لیے اب اہم چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنے والد کی قائم کردہ عوامی مقبولیت اور اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے ناروے کی بدلتی ہوئی نئی نسل کے ساتھ بھی مضبوط تعلق قائم کریں





