البرٹا اور کیوبیک میں علیحدگی کی بحث نئی نسل تک پہنچ گئی، نوجوانوں کے رجحانات میں نمایاں فرق سامنے آگیا
کینیڈا کے صوبوں البرٹا اور کیوبیک میں کینیڈا سے علیحدگی کی بحث ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہے، تاہم دونوں صوبوں میں اس تحریک کو آگے بڑھانے والے طبقے کی عمر اور سوچ میں واضح فرق نظر آ رہا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق کیوبیک میں نوجوان نسل، خصوصاً نئی نسل کے افراد، آزادی اور علیحدگی کے تصور میں بڑھتی دلچسپی دکھا رہے ہیں، جبکہ البرٹا میں علیحدگی کی حمایت نسبتاً زیادہ عمر کے لوگوں میں نظر آتی ہے
کیوبیک میں نئی نسل کے نوجوانوں کے لیے یہ معاملہ ماضی کی نسبت ایک مختلف انداز میں سامنے آ رہا ہے بہت سے نوجوان 1995 کے اُس ریفرنڈم کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جس میں کیوبیک نے کینیڈا سے علیحدگی کے سوال پر ووٹ دیا تھا کے باوجود نوجوانوں کی ایک نئی تعداد اب خود کو کیوبیک کی آزادی کی بحث میں شامل کر رہی ہے
رپورٹ کے مطابق رواں موسم گرما میں کیوبیک کی آزادی کے حامی ایک بڑے اجتماع میں تقریباً 12,000 افراد شریک ہوئے، جن میں بڑی تعداد نئی نسل سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی تھی۔l تحریک سے وابستہ کارکنوں کا کہنا ہے کہ نوجوان اپنے مستقبل پر زیادہ اختیار، ماحول، ثقافت اور فرانسیسی زبان کے تحفظ جیسے معاملات کو علیحدگی کی بحث سے جوڑ رہے ہیں
کیوبیک کی آزادی کی حامی تنظیم سے وابستہ 32 سالہ کیمیل گوئیٹ گنگرا کے مطابق نوجوانوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے کا زیادہ اختیار چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل نے آزادی کے تصور کو اپنے انداز میں دوبارہ دریافت کیا ہے، اور ضروری نہیں کہ اس پر والدین یا پچھلی نسلوں کا اثر ہو
دوسری جانب البرٹا میں صورتحال مختلف ہے۔ رپورٹ کے مطابق البرٹا میں علیحدگی کی حمایت کرنے والے افراد میں درمیانی عمر کے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے رائے عامہ کے ماہر جان سانتوس کے مطابق علیحدگی کے رجحان کی سب سے زیادہ شرح درمیانی عمر کے طبقات میں دیکھی جا رہی ہے
تاہم البرٹا کے نوجوانوں میں بھی علیحدگی کے حامی موجود ہیں۔ 23 سالہ میڈیسن ہومز اور ان کی 22 سالہ بہن می کیسی ہومز البرٹا کی خودمختاری کے سوال پر نوجوانوں میں گفتگو کر رہی ہیں ان کے مطابق نوجوانوں میں اس معاملے کے بارے میں تجسس بڑھ رہا ہے اور بعض نوجوان اس بحث کو یہ سوچ کر دیکھ رہے ہیں کہ اگر البرٹا الگ ریاست بنے تو عملی طور پر اس کا نظام کس طرح چلایا جا سکتا ہے
میڈیسن ہومز کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل غیر یقینی صورتحال سے شاید اتنی خوفزدہ نہیں جتنی بڑی عمر کی نسلیں ہیں ان کے مطابق نوجوانوں کو روزگار کے مواقع، زندگی کے بڑھتے اخراجات اور اپنے مستقبل کے بارے میں بھی شدید خدشات ہیں، تاہم ان میں سے بہت سے نوجوانوں کے پاس علیحدگی کے ممکنہ نتائج پر تفصیلی تحقیق کرنے کے لیے وقت نہیں
البرٹا میں ہر نوجوان علیحدگی کا حامی نہیں۔ 21 سالہ کیلگری کے رہائشی الیکس لیونٹوچ کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوانوں کو ممکنہ ریفرنڈم کا علم تو ہے، لیکن شاید وہ ابھی اس کے معاشی اور سیاسی نتائج کو پوری طرح نہیں سمجھتے
دستیاب رائے عامہ کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ البرٹا میں علیحدگی کی حمایت ایک واضح اکثریت نہیں ہے جنوری 2026 کے ایک سروے میں البرٹا کے 28 فیصد افراد نے علیحدگی کے حق میں ووٹ دینے کا امکان ظاہر کیا تھا، جبکہ کیوبیک میں یہ شرح 31 فیصد تھی تاہم معاشی اور سماجی نتائج سامنے رکھ کر سوال کرنے پر حقیقی اور پائیدار حمایت دونوں صوبوں میں نمایاں طور پر کم ہو گئی تھی
البرٹا میں علیحدگی کا سوال اب عملی سیاسی عمل کی طرف بھی بڑھ چکا ہے۔ علیحدگی کے حامی گروپ کی جانب سے تقریباً 302,000 دستخط جمع کرائے جا چکے ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر ریفرنڈم کے لیے مطلوبہ تعداد اس سے کم تھی تاہم دستخطوں کی تصدیق اور قانونی معاملات سمیت کئی مراحل ابھی باقی ہیں
یوں البرٹا اور کیوبیک میں علیحدگی کی بحث اگرچہ ایک ہی بنیادی سوال یعنی کینیڈا سے الگ ہونے کے تصور کے گرد گھومتی ہے، لیکن نئی نسل کا کردار دونوں صوبوں میں مختلف دکھائی دے رہا ہے کیوبیک میں نوجوان آزادی کی تحریک کو نئی شکل دیتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ البرٹا میں علیحدگی کا رجحان اب بھی زیادہ تر درمیانی عمر کے طبقات میں مضبوط ہے، اگرچہ نوجوانوں میں بھی اس معاملے پر دلچسپی بڑھ رہی ہے





