فیفا کرپشن اسکینڈل میں باپ بیٹے کا رشوت دینے کا اعتراف، کھیلوں کے اہم نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر ادا کیے

فیفا کرپشن اسکینڈل میں باپ بیٹے کا رشوت دینے کا اعتراف، کھیلوں کے اہم نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر ادا کیے

فیفا کے بڑے کرپشن اسکینڈل میں ملوث ارجنٹائن کے کھیلوں کے کاروباری ادارے کے مالک باپ بیٹے ہیگو جنکس اور ماریانو جنکس نے بین الاقوامی فٹ بال حکام کو رشوت دینے کا اعتراف کر لیا ہے دونوں نے امریکہ کے استغاثہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت مقدمے کی سماعت سے بچنے کے لیے رشوتوں کی ادائیگی کا اعتراف کیا
امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق دونوں افراد نے کھیلوں کے حکام کو کروڑوں ڈالر کی رشوتیں ادا کیں تاکہ مختلف فٹ بال مقابلوں کے قیمتی نشریاتی اور تشہیری حقوق حاصل کیے جا سکیں ان حقوق میں عالمی کپ کے کوالیفائنگ مقابلوں اور کوپا امریکا جیسے بڑے ٹورنامنٹس کے میچز بھی شامل تھے
ہیگو جنکس اور ان کے بیٹے ماریانو جنکس ارجنٹائن کی کھیلوں کی مارکیٹنگ کمپنی فل پلے کے شریک مالکان ہیں دونوں پر 2015 میں سامنے آنے والے وسیع فیفا کرپشن اسکینڈل کے دوران فرد جرم عائد کی گئی تھی
امریکی تحقیقات میں سامنے آیا تھا کہ کھیلوں کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے فٹ بال حکام کو بھاری رقوم دے کر مقابلوں کے نشریاتی اور مارکیٹنگ حقوق حاصل کیے اس اسکینڈل کے نتیجے میں فیفا اور شمالی و جنوبی امریکہ کی فٹ بال تنظیموں کے متعدد عہدیداروں کے خلاف گرفتاریاں، مقدمات اور سزائیں سامنے آئیں
حالیہ معاہدے کے تحت امریکی حکام جنکس باپ بیٹے کے خلاف فراڈ کے الزامات ختم کر دیں گے، تاہم دونوں نے اپنے خلاف عائد الزامات سے متعلق حقائق تسلیم کیے ہیں اور 50 ملین ڈالر ضبط کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے
عدالتی دستاویز کے مطابق دونوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے فٹ بال کے عہدیداروں کو رشوتیں ادا کیں تاکہ مختلف ٹورنامنٹس کے میڈیا اور مارکیٹنگ حقوق حاصل کرنے کی کوششوں میں ان کی حمایت حاصل ہو سکے
یہ معاملہ 2015 میں شروع ہونے والی اس وسیع تحقیقات کا حصہ ہے جس نے عالمی فٹ بال کی اعلیٰ انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا اس وقت متعدد فیفا عہدیداروں پر رشوت، مالی بدعنوانی اور کھیلوں کے حقوق کی غیر قانونی خرید و فروخت سے متعلق الزامات سامنے آئے تھے
تازہ اعتراف نے ایک دہائی سے زائد عرصے بعد اس اسکینڈل کے ایک اہم باب کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ بڑے فٹ بال ٹورنامنٹس کے تجارتی اور نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے لیے کس بڑے پیمانے پر رشوت کا نظام استعمال کیا گیا تھا

قومی خبریں سے مزید