جیسن کینی کا کنزرویٹو قیادت کی دوڑ میں شامل ہونے سے انکار، ارکان پارلیمنٹ پر ٹرمپ کے خلاف سخت مؤقف اپنانے پر زور

جیسن کینی کا کنزرویٹو قیادت کی دوڑ میں شامل ہونے سے انکار، ارکان پارلیمنٹ پر ٹرمپ کے خلاف سخت مؤقف اپنانے پر زور

سابق وفاقی کنزرویٹو وزیر اور البرٹا کے سابق پریمیئر جیسن کینی نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سنبھالنے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم انہوں نے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف زیادہ سخت اور واضح مؤقف اختیار کریں
جیسن کینی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر کنزرویٹو پارٹی کی قیادت میں تبدیلی کا موقع پیدا ہوا تو وہ قیادت کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس عہدے کے امیدوار بننے کا ارادہ نہیں رکھتے
کینی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کنزرویٹو پارٹی کے اندر پیئر پوئیلیور کی قیادت اور پارٹی کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ تاہم پارٹی کی قیادت میں فوری تبدیلی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا
جیسن کینی نے خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے معاملے پر کنزرویٹو ارکان پارلیمنٹ کو زیادہ مضبوط مؤقف اختیار کرنے کا مشورہ دیا ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے کینیڈا پر تجارتی دباؤ کے سامنے کینیڈین مفادات کا بھرپور دفاع کیا جانا چاہیے
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کنزرویٹو ارکان پارلیمنٹ کو ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی پالیسیوں کے بارے میں زیادہ واضح اور دوٹوک انداز میں بات کرنی چاہیے اور کینیڈا کے معاشی مفادات کے تحفظ کو اپنی سیاسی ترجیحات میں نمایاں مقام دینا چاہیے
کینی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک مرتبہ پھر کینیڈین سیاست کا اہم موضوع بن چکی ہے امریکی محصولات اور تجارتی دباؤ کے باعث کینیڈا میں کاروباری اداروں، کارکنوں اور مختلف صنعتی شعبوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے
کینی نے ماضی میں وفاقی سطح پر اہم ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ البرٹا کے پریمیئر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں ان کی جانب سے کنزرویٹو قیادت کی دوڑ سے خود کو الگ رکھنے کا اعلان پارٹی کے اندر قیادت سے متعلق قیاس آرائیوں کے درمیان اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے
تاہم ٹرمپ کے معاملے پر ان کا واضح پیغام یہ ہے کہ کنزرویٹو ارکان پارلیمنٹ کو کینیڈا کے مفادات کے دفاع میں زیادہ سخت، واضح اور مضبوط آواز اٹھانی چاہیے

قومی خبریں سے مزید