کینیڈا نے امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف کی فہرست میں مزید مصنوعات شامل کردیں

کینیڈا نے امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف کی فہرست میں مزید مصنوعات شامل کردیں

کینیڈا نے امریکا کی جانب سے تجارتی محصولات میں مسلسل اضافے کے جواب میں امریکی اشیا پر عائد کیے جانے والے جوابی ٹیرف کی فہرست میں مزید مصنوعات شامل کردی ہیں یہ فیصلہ امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے کینیڈا پہلے ہی امریکی مصنوعات کی 700 سے زائد اقسام پر مجموعی طور پر تقریباً 27.6 ارب ڈالر مالیت کے جوابی ٹیرف کا اعلان کر چکا ہے
کینیڈین حکومت کے مطابق جوابی ٹیرف کی فہرست میں تبدیلیاں ملک کے مختلف صنعتی شعبوں، کاروباری اداروں اور صوبائی حکومتوں سے حاصل ہونے والی آرا کی بنیاد پر کی گئی ہیں حکومت کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد کینیڈا کے تجارتی ردعمل کو زیادہ مؤثر بنانا اور امریکی ٹیرف کے مقابلے میں ممکنہ حد تک رقم کے لحاظ سے برابر اور شرح کے لحاظ سے مطابقت رکھنے والا جواب دینا ہے
کینیڈا کے جوابی ٹیرف تین مختلف شرحوں، یعنی 15 فیصد، 25 فیصد اور 50 فیصد پر مشتمل ہیں۔ نئی شامل کی جانے والی امریکی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، جبکہ یہ نئے اقدامات 8 ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے
نئی فہرست میں لکڑی سے تیار کیا جانے والا کوئلہ، امریکی تانبے کی تاریں اور مختلف مطبوعہ اشیا شامل ہیں اس کے علاوہ چھپی ہوئی تصاویر اور تصویری مواد، پلاسٹر اور پلاسٹر سے تیار کردہ اشیا کو بھی نئی فہرست میں شامل کیا گیا ہے
کینیڈا نے شیشے سے بنے مختلف برتنوں اور پیکنگ کے لیے استعمال ہونے والے شیشے کے ڈبوں، بوتلوں، جار، شیشیوں اور دیگر ظروف پر بھی جوابی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں خوراک محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے شیشے کے جار، ڈھکن اور شیشے سے بنے دیگر بند کرنے والے سامان بھی شامل ہیں
یہ تبدیلی اس وقت کی گئی ہے جب کینیڈا نے ایک روز قبل امریکی سمندری خوراک اور مچھلی کی مصنوعات کو ابتدائی جوابی ٹیرف کی فہرست سے نکال دیا تھا کینیڈین حکام کے مطابق صنعتی شعبوں سے حاصل ہونے والی آرا کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کیونکہ امریکی سمندری خوراک پر ٹیرف عائد کرنا کینیڈا کے اپنے مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا تھا
کینیڈا کے وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شامپین نے بھی امریکی سمندری خوراک کو فہرست سے نکالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کینیڈا کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ تجارتی مذاکرات کے دوران کینیڈا اپنے مفادات کا دفاع جاری رکھے گا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی اور دیگر اہم معاملات پر تعاون بھی جاری رہے گا
کینیڈا اب اپنی تجارت کو امریکا پر کم انحصار کرنے کے لیے دنیا کے دوسرے حصوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے پر بھی توجہ دے رہا ہے کینیڈین حکومت کے مطابق عالمی سطح پر نئے تجارتی تعلقات قائم کرنا اور موجودہ تجارتی شراکت داری کو متنوع بنانا طویل مدت میں کینیڈا کی اقتصادی مضبوطی کے لیے اہم ہوگا
تجارتی کشیدگی کے ساتھ ساتھ کینیڈا نے ملک کے اندر صوبوں اور علاقوں کے درمیان تجارت کی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے بھی اقدامات تیز کر دیے ہیں داخلی تجارت سے متعلق وفاقی، صوبائی اور علاقائی وزرا نے اصولی معاہدہ 2026 کے موسم خزاں کے اختتام تک مکمل کرنے پر اتفاق کیا ہے اس عمل میں مزدوروں کی نقل و حرکت، پیشہ ورانہ اسناد کی باہمی منظوری اور مختلف مصنوعات کی اندرون ملک ترسیل میں موجود رکاوٹیں کم کرنے پر توجہ دی جائے گی
موجودہ صورتحال میں کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ دونوں جانب سے محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ کاروباری ادارے بھی اپنی رسد، منڈیوں اور تجارتی شراکت داروں کے بارے میں نئے فیصلے کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کینیڈا کا تازہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اوٹاوا امریکی تجارتی اقدامات کے جواب میں اپنی پالیسی کو حالات اور کاروباری شعبوں کی آرا کے مطابق مسلسل تبدیل کر رہا ہے

قومی خبریں سے مزید