Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسلام آباد کے اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت، ہنگامی حفاظتی نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے

اسلام آباد کے اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت، ہنگامی حفاظتی نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے نے اسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری اور حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں واقعے میں نوزائیدہ نگہداشت کے شعبے میں موجود 14 بچے جان سے گئے تھے
واقعے کے بعد یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ اگر کسی اسپتال کے انتہائی نگہداشت والے شعبے میں اچانک آگ لگ جائے تو وہاں موجود ایسے نومولود بچوں کو کتنی تیزی سے محفوظ مقام تک منتقل کیا جا سکتا ہے جو خود حرکت کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے
اس المناک واقعے نے اسپتال کے دروازوں، ہنگامی راستوں، آگ سے بچاؤ کے انتظامات، بجلی کے نظام اور طبی عملے کی ہنگامی تربیت سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے صرف طبی سہولیات کافی نہیں بلکہ آگ یا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری انخلا کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے
یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر حفاظتی یا جراثیمی خطرات کے باعث کسی وارڈ کے دروازے بند رکھے جاتے ہیں تو ہنگامی صورتحال میں انہیں فوری طور پر کھولنے کا انتظام موجود تھا یا نہیں، کیا ہنگامی راستے قابل استعمال تھے، کیا عملے نے بچوں کو فوری طور پر منتقل کرنے کی مشق کی تھی اور کیا بجلی اور طبی آلات کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا تھا
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی ذمہ داری صرف کسی ایک ملازم، نرس، ڈاکٹر یا حفاظتی اہلکار پر ڈالنے کے بجائے پورے نظام کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ اسپتال میں مریضوں کی حفاظت عمارت، بجلی کے نظام، آلات، عملے کی تعداد، تربیت، حفاظتی انتظامات اور انتظامی نگرانی سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوتی ہے
اس واقعے کے بعد ملک بھر کے اسپتالوں میں نومولود اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں کے حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں کسی ہنگامی صورتحال کے دوران قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں
متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ سانحہ ناقابل تلافی نقصان ہے، تاہم اس واقعے کی مکمل تحقیقات اور حفاظتی نظام میں بنیادی اصلاحات ہی اس بات کو یقینی بنا سکتی ہیں کہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسی المناک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے

قومی خبریں سے مزید