اپنا انتخابات: نتائج سے پہلے تینوں امیدواروں کے کامیابی کے دعوے، اصل فیصلہ کل شام ہوگا
امریکن پاکستانی فزیشنز ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ، APPNA، کے 2026 کے انتخابات کے نتائج کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے،صدر منتخب کی نشست کے لیے ڈاکٹر شہزاد اقبال، ڈاکٹر طلحہ صدیقی اور ڈاکٹر لبنیٰ نعیم کے درمیان مقابلہ ہوا ہے ،جبکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی 3 نشستوں کے لیے بھی امیدوار میدان میں تھے
تازہ اطلاعات کے مطابق انتخابی نتائج کل، جمعہ 28 اگست کی شام 7 بجے ایسٹرن ٹائم کے مطابق امریکہ میں سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کیے جائیں گے،اس اعلان کے بعد گزشتہ کئی روز سے جاری قیاس آرائیوں، دعوؤں اور جوابی دعوؤں کا بھی خاتمہ ہو جائے گا
صدر منتخب کی نشست پر اصل مقابلہ ڈاکٹر طلحہ صدیقی اور ڈاکٹر شہزاد اقبال کے درمیان قرار دیا جا رہا ہے،ڈاکٹر شہزاد اقبال اور ڈاکٹر لبنیٰ نعیم علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ ڈاکٹر طلحہ صدیقی ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے ہیں
انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں دونوں بڑے امیدواروں کے حامی اپنی اپنی کامیابی کے بارے میں غیر معمولی اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں،دونوں جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ان کے امیدوار کامیاب ہو چکے ہیں، جبکہ بعض حلقوں میں ایک دوسرے کے انتخابی دعوؤں کا مذاق بھی اڑایا جا رہا ہے
ڈاکٹر طلحہ صدیقی کے حامیوں کی جانب سے تقریباً 4,474 رجسٹرڈ ووٹرز کے تناظر میں مختلف اندازے پیش کیے جا رہے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بدترین صورت میں بھی ڈاکٹر طلحہ صدیقی تقریباً 1,350 ووٹ حاصل کر سکتے ہیں جبکہ بہترین صورت میں ان کے ووٹ 1,500 تک پہنچ سکتے ہیں
دوسری جانب ڈاکٹر شہزاد اقبال کے حامی اس سے کہیں زیادہ مضبوط دعویٰ کر رہے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ان کے امیدوار کے حق میں تقریباً 2,200 ووٹ ڈالے گئے ہیں، اگر ان ووٹوں میں سے تیس فیصد ووٹوں کو ڈاکٹر شہزاد اقبال کے حق میں شمار نہ بھی کیا جائے تب بھی وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائیں گے
تاہم ان دعوؤں میں سے کسی کی بھی طور پر تصدیق ممکن نہیں اور حتمی فیصلہ ووٹوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ہوسکے گا
ڈاکٹر لبنیٰ نعیم کے ووٹ بینک کے بارے میں بھی مختلف اندازے سامنے آ رہے ہیں، بعض حلقے ان کے لیے 900 تک ووٹ کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ زیادہ عام اندازہ تقریباً 600 ووٹ کا ہے
ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر لبنیٰ نعیم کو خواتین کے ووٹ کے ساتھ ہمدردی کا ووٹ بھی حاصل ہوا ہے اور ان کا اپنا مستقل ووٹ بینک موجود ہے،ان کے حمایتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے انتخابات میں بھی ڈاکٹر لبنیٰ نعیم کو ایک مخصوص تعداد میں ووٹ ملتے رہے ہیں، اس لیے انہیں صرف چند سو ووٹ تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا
دوسری طرف انتخابی حساب کتاب کرنے والے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر طلحہ صدیقی اور ڈاکٹر شہزاد اقبال میں سے ایک کو تقریباً 1400 اور دوسرے کو تقریباً 1,300 ووٹ ملتے ہیں تو مجموعی ووٹوں کا بڑا حصہ دونوں امیدوار لے جائیں گے، جس کے بعد ڈاکٹر لبنیٰ نعیم کے لیے ووٹوں کی تعداد محدود رہ سکتی ہے
یہی وجہ ہے کہ اس وقت تینوں امیدواروں کے حامی اپنی اپنی جیت کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن اصل نتیجہ کل شام سامنے آئے گا
ڈاکٹر لبنیٰ نعیم کی انتخابی پوزیشن اس مقابلے کا ایک اہم سیاسی پہلو بھی بن چکی ہے,جنہیں نہ صرف پاکستان تحریک انصاف اوورسیز کی حمایت حاصل رہی ہے بلکہ ڈاکٹر لبنی نعیم کو تحریک انصاف اوورسیز نے باقاعدہ انڈوس بھی کیا ہے ،یاد رہے تحریک انصاف کی جانب سے بیرون ملک پاکستانیوں میں وسیع حمایت کا دعویٰ بھی کیا جاتا رہا ہے
اگر حتمی نتیجے میں ڈاکٹر لبنیٰ نعیم تیسرے نمبر پر آتی ہیں تو یہ نتیجہ محض APPNA کے اندرونی انتخاب تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے ایک بڑا سیاسی سوال بھی پیدا ہوگا کہ کیا بیرون ملک پاکستانی واقعی پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی نمائندگی کو اسی طرح قبول کرتے ہیں جس طرح یہ تاثر پیش کیا جاتا ہے
خصوصاً ایسی صورت میں جب پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ امیدوار تیسرے نمبر پر رہیں تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ کیا اوورسیز پاکستانیوں میں تحریک انصاف کی مقبولیت کے دعوے حقیقت پر مبنی ہیں یا یہ تاثر بڑی حد تک سیاسی اور میڈیا پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے، خیال رہے اپنا جہاں ممبران کی اکثریت کی پاکستان میں سیاسی وابستگی تحریک انصاف سے بتائ جاتی ہے تاہم اپنا میں گزشتہ چار سال سے مسلسل پرو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں
اس سوال کا حتمی جواب بھی کل کے نتائج کے بعد ہی سامنے آئے گا،ووٹوں کی مکمل تقسیم واضح ہونے کے بعد یہ اندازہ لگانا ممکن ہوگا کہ کس امیدوار کے دعوے حقیقت کے قریب تھے اور APPNA کے ارکان نے اصل میں کس امیدوار کو اپنی حمایت دی
کل شام 7 بجے ایسٹرن ٹائم نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی APPNA کے اس انتہائی متنازع اور دلچسپ انتخاب کی اصل تصویر سامنے آ جائے گی





