ٹرمپ کا فرانسیسی زبان کے معاملے پر کینیڈا سے نیا تنازع، کارنی کے مؤقف کو مسترد کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ حالیہ تجارتی مذاکرات کے دوران امریکی مطالبات سے کینیڈا میں فرانسیسی زبان کے تحفظ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوا تھا
ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا مقصد کبھی بھی کینیڈین شہریوں کو فرانسیسی زبان بولنے سے روکنا نہیں رہا اور نہ ہی واشنگٹن فرانسیسی زبان کے تحفظ کے معاملے میں مداخلت کرنا چاہتا ہے انہوں نے کارنی کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے اسے سیاسی انداز میں پیش کیا گیا دعویٰ قرار دیا
ٹرمپ نے خاص طور پر کیوبک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فرانسیسی بولنے والے کینیڈین باشندے پسند ہیں اور فرانسیسی زبان کے خلاف کسی امریکی اقدام کا تصور درست نہیں۔ ان کے مطابق تجارتی مذاکرات کو فرانسیسی زبان کے تحفظ کے معاملے سے جوڑنا غیر ضروری ہے
یہ تنازع کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ کارنی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات میں امریکی مطالبات کے بعض حصے کینیڈا اور خصوصاً کیوبک میں فرانسیسی زبان اور ثقافتی تحفظ کے لیے موجود قوانین پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
کینیڈا میں فرانسیسی زبان کو خصوصی آئینی اور ثقافتی اہمیت حاصل ہے، جبکہ کیوبک میں فرانسیسی زبان کے تحفظ کے لیے کئی قوانین نافذ ہیں کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ تجارتی معاہدہ کرتے ہوئے ان قوانین اور کینیڈا کی ثقافتی شناخت کے بنیادی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا
امریکی تجارتی حکام نے بھی کینیڈین مؤقف کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات میں فرانسیسی زبان سے متعلق معاملات کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا
دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مذاکرات کے اچانک تعطل کے بعد یہ معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے کینیڈا اور امریکا پہلے ہی محصولات، تجارتی رکاوٹوں اور مختلف شعبوں میں مارکیٹ تک رسائی کے معاملے پر شدید اختلافات کا شکار ہیں
کارنی حکومت کے لیے فرانسیسی زبان کا تحفظ صرف تجارتی معاملہ نہیں بلکہ کینیڈا کی قومی شناخت اور ثقافتی خودمختاری سے جڑا ہوا مسئلہ ہے دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن نے فرانسیسی زبان یا فرانسیسی بولنے والے کینیڈین باشندوں کے حقوق کو نشانہ بنانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا
اس نئے تنازع نے کینیڈا اور امریکا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک اور حساس مسئلے کا اضافہ کر دیا ہے، جہاں تجارتی مذاکرات اب زبان، ثقافت اور کینیڈا کی خودمختاری سے متعلق وسیع تر بحث میں تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں





