پاکستان میں نوجوانوں کا بحران سنگین، بے پناہ صلاحیت کے باوجود بہتر مستقبل کے مواقع محدود
اسلام آباد: پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی آبادی ملک کے لیے ایک اہم طاقت بن سکتی ہے، لیکن تعلیم، روزگار اور بہتر مواقع کی کمی کے باعث یہی نوجوان شدید مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان آئیڈل کے اختتامی مقابلے نے نوجوانوں کی غیر معمولی صلاحیتوں کو اجاگر کیا، مگر اس کامیابی کے ساتھ ملک میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے بحران نے بھی ایک بار پھر توجہ حاصل کی ہے
پاکستان آئیڈل کے مقابلے میں ملک کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں نوجوانوں نے حصہ لیا اور تقریباً ایک سال جاری رہنے والے مقابلے کے بعد فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی حرا قیصر نے کامیابی حاصل کی تین بچوں کی ماں حرا قیصر نے موسیقی کی کوئی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی، تاہم اپنی گائیکی کی صلاحیت سے ناظرین اور ججز کو متاثر کیا
اس مقابلے میں خاص طور پر چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے نوجوانوں کی صلاحیت نمایاں ہوئی، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود قومی سطح پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی یہ نوجوانوں میں موجود اس بڑے ہنر کی نشاندہی کرتا ہے جو مناسب مواقع ملنے کی صورت میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے
تاہم دوسری جانب ملک کی نوجوان آبادی کو تعلیم اور روزگار کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان کی تقریباً 64 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے، جبکہ ہر سال تقریباً 40 لاکھ افراد آبادی میں شامل ہو رہے ہیں
ملک میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو دنیا میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی بڑی تعداد میں شامل ہیں اسکول جانے والے بہت سے بچوں کو بھی بنیادی پڑھنے اور لکھنے کی مناسب صلاحیت حاصل نہیں ہو پاتی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نوجوان کم تعلیم یافتہ اور غیر ہنرمند افرادی قوت میں شامل ہو رہے ہیں
روزگار کے محدود مواقع اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں بعض نوجوان غیر قانونی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، جس میں انہیں خطرناک سفری حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی افراد راستے میں اپنی جان بھی گنوا بیٹھتے ہیں
نوجوانوں کے اس بحران میں صرف روزگار کی کمی ہی مسئلہ نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، بنیادی جمہوری حقوق اور ریاستی اداروں پر اعتماد میں کمی بھی اہم عوامل قرار دیے جا رہے ہیں سیاسی اور معاشی بے یقینی نے نوجوانوں میں مایوسی، بے اعتمادی اور مستقبل کے بارے میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے
بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی بھی اسی وسیع بحران کا حصہ سمجھی جا رہی ہے
ریاستی اقدامات اور سخت ردعمل نے بعض معاملات میں حالات کو مزید پیچیدہ کیا ہے، جبکہ سیاسی نظام میں طاقت کے ارتکاز پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں
ملک کو اس وقت ایک ایسے جامع نظام کی ضرورت ہے جس میں نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، روزگار اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوان آبادی اگر مناسب تعلیم اور ہنر سے لیس ہو تو یہ ملک کی معیشت کے لیے ایک بڑی طاقت بن سکتی ہے، لیکن اگر انہیں مسلسل مواقع سے محروم رکھا گیا تو یہی آبادی معاشرتی اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتی ہے
پاکستان آئیڈل جیسے مقابلے نوجوانوں کی صلاحیت اور امید کی ایک جھلک ضرور دکھاتے ہیں، لیکن چند کامیاب نوجوان پورے ملک کے نوجوانوں کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ اصل ضرورت ایسے مستقل اقدامات کی ہے جن کے ذریعے ملک کے کروڑوں نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور باعزت روزگار کے حقیقی مواقع فراہم کیے جا سکیں





