فورٹ ایری میں دو نوجوان خواتین کے قتل کا مجرم کرسٹوفر لوکاس عمر قید کا سزاوار، 22 سال بعد پیرول کی درخواست دے سکے گا

فورٹ ایری میں دو نوجوان خواتین کے قتل کا مجرم کرسٹوفر لوکاس عمر قید کا سزاوار، 22 سال بعد پیرول کی درخواست دے سکے گا

فورٹ ایری: اونٹاریو کے فورٹ ایری میں پانچ سال قبل ایک گھر میں ہونے والی تقریب کے دوران دو نوجوان خواتین کو قتل کرنے والے 27 سالہ کرسٹوفر لوکاس کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے، تاہم وہ 22 سال قید مکمل کرنے کے بعد پیرول کے لیے درخواست دینے کا اہل ہوگا
کرسٹوفر لوکاس کو جولینا پینونزیو اور کرسٹین کروکس کے دوسرے درجے کے قتل کے دونوں مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ دونوں نوجوان خواتین کو 19 جنوری 2021 کی علی الصبح فورٹ ایری میں ایک گھر میں ہونے والی تقریب کے دوران گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔ جولینا کی عمر 20 سال جبکہ کرسٹین صرف 18 سال کی تھیں
عدالت میں مقدمے کی کارروائی تقریباً 12 ہفتوں تک جاری رہی استغاثہ کا مؤقف تھا کہ جولینا اپنی دوست پر حملے کے بعد وہاں سے نکلنے اور ہنگامی مدد کے لیے فون کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب اسے سات گولیاں ماری گئیں مقدمے میں براہ راست ایسا کوئی عینی شاہد موجود نہیں تھا جو فائرنگ کرنے والے شخص کی شناخت کر سکتا، تاہم استغاثہ نے واقعے کے بعد لوکاس کے رویے سمیت متعدد شواہد پیش کیے جن کی بنیاد پر جیوری نے اسے دونوں قتلوں کا مجرم قرار دیا
جولینا کی والدہ لیزا مل کاسٹر نے مقدمے کے فیصلے کے بعد کہا کہ تقریباً پانچ سال بعد پہلی مرتبہ انہیں ایک رات سکون سے نیند آئی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی
خاندان نے مقدمے کی پوری کارروائی کے دوران عدالت میں حاضری دی اور قتل کے انتہائی تکلیف دہ شواہد بھی سنے جولینا کی والدہ نے اپنی بیٹی کو انتہائی وفادار دوست، کمزور افراد کا ساتھ دینے والی اور خوش مزاج شخصیت کے طور پر یاد کیا
لیزا مل کاسٹر اب قانون میں تبدیلی کے لیے مہم چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ایک ایسا قانون متعارف کرایا جائے جس کے تحت متعدد جرائم میں سزا پانے والے افراد کو بعض حالات میں سزائیں ایک کے بعد ایک مکمل کرنا پڑیں، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کا زیادہ مضبوط احساس مل سکے
عدالت کی جانب سے لوکاس کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے اور 22 سال تک اسے پیرول کے لیے درخواست دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے بعد پیرول کے لیے اہل ہونا رہائی کی ضمانت نہیں ہوتا بلکہ متعلقہ حکام اس وقت اس کے رویے، جیل میں کارکردگی اور دیگر عوامل کا جائزہ لیتے ہیں
یہ دوہرا قتل جنوری 2021 میں پیش آیا تھا اور اس کے بعد تقریباً پانچ سال تک جاری رہنے والی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد اب مقدمے کا اہم مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ مقتول خواتین کے خاندانوں کے لیے عدالتی فیصلے کے باوجود ان کی جدائی کا غم برقرار ہے، جبکہ جولینا کی والدہ اب متاثرہ خاندانوں کے لیے قانونی نظام میں مزید تبدیلیاں لانے کی کوشش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں

قومی خبریں سے مزید