ایران کے تجارتی شراکت داروں پر امریکی دباؤ کی ممکنہ مثال عراق بن سکتا ہے
واشنگٹن: عراق اس بات کی مثال بن سکتا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے باہر کرنے کی دھمکی کو کس طرح عملی شکل دے سکتا ہے
امریکا پہلے ہی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کے الزام میں متعدد عراقی بینکوں پر پابندیاں عائد کرچکا ہے، تاہم واشنگٹن نے اب تک ایسے اقدامات سے گریز کیا ہے جو اپنے اس اہم اتحادی کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہوں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کو معاشی سہارا فراہم کریں گے انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،اس تناظر میں ایران کے حالیہ برسوں کے بڑے تجارتی شراکت دار چین، متحدہ عرب امارات، ترکی، بھارت، پاکستان اور عمان بھی امریکی دباؤ کی زد میں آسکتے ہیں
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو ایران کے خلاف پابندیوں پر مبنی ’’اقتصادی یلغار‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے تجارتی شراکت داروں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا
عراق میں امریکی اقدامات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے مالیاتی اداروں کو پابندیوں کے ذریعے دباؤ میں لاکر تہران کی عالمی تجارت تک رسائی محدود کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، جبکہ ایسے اقدامات کے معاشی اثرات کو قابو میں رکھنے کے لیے اتحادی ممالک کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے





