روزانہ پٹرول قیمتوں کا نظام: چند روپے کی تبدیلی، مگر عوام اور معیشت کے لیے اربوں کا سوال
اسلام آباد: حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 1.12 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.11 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پٹرول 343.10 روپے اور ڈیزل 371.80 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے،نئی قیمتیں 26 اور 27 اگست کے لیے نافذ ہوں گی،یہ معمولی نظر آنے والا اضافہ دراصل پاکستان کے اس نئے نظام کی ایک بڑی بحث کو دوبارہ سامنے لے آیا ہے جس کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے
بظاہر حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر صارفین تک زیادہ تیزی سے منتقل کیا جائے اور قیمتوں کے نظام میں شفافیت پیدا کی جائے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی منڈی میں ہونے والی روزانہ کی تبدیلی کا تمام بوجھ اسی رفتار سے پاکستانی صارف پر منتقل کرنا واقعی ایک منصفانہ نظام ہے؟
پاکستان میں عام آدمی کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پٹرول آج 1 روپے یا 2 روپے مہنگا ہو گیا،اصل مسئلہ یہ ہے کہ قیمت کتنی بار تبدیل ہو رہی ہے اور اس تبدیلی کا اثر اس شخص کی زندگی پر کیسے پڑ رہا ہے جس کی آمدنی، کاروباری لاگت اور سفری اخراجات پہلے ہی طے شدہ ہوتے ہیں
ایک ٹیکسی ڈرائیور صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ آج پٹرول کی قیمت کیا ہے،ایک رکشہ ڈرائیور اپنے مسافر سے کرایہ طے کرتا ہے،ایک وین یا بس کا مالک پورے دن کے اخراجات کا حساب لگاتا ہے،ایک ٹرک ڈرائیور ایک شہر سے دوسرے شہر تک سامان پہنچانے کا کرایہ اس وقت طے کرتا ہے جب ڈیزل کی ایک مخصوص قیمت موجود ہوتی ہے
اب فرض کریں ایک ٹرک کو ایک ہزار کلومیٹر کا سفر کرنا ہے اور مالک نے موجودہ ڈیزل قیمت کے حساب سے کرایہ طے کر لیا،سفر شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد قیمت تبدیل ہو گئی،ٹرک کو راستے میں دوبارہ ڈیزل خریدنا ہے اور نئی قیمت پہلے سے زیادہ ہے،وہ اضافی رقم کون ادا کرے گا؟ ٹرک مالک؟ ڈرائیور؟ سامان بھیجنے والا؟ یا بالآخر وہ صارف جو اس سامان کو خریدے گا؟
یہی وہ نکتہ ہے جسے صرف عالمی تیل کی قیمتوں کے گراف سے نہیں سمجھا جا سکتا
روزانہ قیمت تبدیل کرنے کا نظام کاغذ پر شفافیت کا نظام دکھائی دے سکتا ہے، لیکن عملی زندگی میں یہ غیر یقینی بھی پیدا کرتا ہے،کاروباری شخص کو یہ معلوم نہیں کہ چند گھنٹے بعد اس کی نقل و حمل کی لاگت کیا ہوگی،کسان کو معلوم نہیں کہ اس کی فصل منڈی تک پہنچانے کی لاگت کیا بنے گی،مسافر کو معلوم نہیں کہ ٹیکسی یا رکشے کا کرایہ کب تبدیل ہوگا،اور عام گھرانے کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ آج گھر سے نکلنے کے بعد واپس آنے تک پٹرول کی قیمت وہی رہے گی یا نہیں
اس نظام کا دوسرا اور زیادہ بنیادی سوال مارکیٹ کے اندر موجود مفادات کا ہے،پاکستان میں پٹرولیم کے کاروبار سے وابستہ بڑے تجارتی مفادات کے بارے میں طویل عرصے سے سوال اٹھتے رہے ہیں،ناقدین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں بار بار تبدیلی کا ایسا نظام جس میں قیمت اوپر نیچے ہوتی رہے، اس شعبے کے بڑے کھلاڑیوں کو قیمتوں کے فرق، ذخیرہ اندوزی اور خرید و فروخت کے وقت کے ذریعے غیر معمولی فائدہ حاصل کرنے کے مواقع فراہم کر سکتا ہے،یہ ایک سنگین الزام ہے اور اس کی باقاعدہ تحقیقات اور اعداد و شمار کے ذریعے تصدیق ضروری ہے، لیکن حکومت کو اس سوال کا جواب ضرور دینا چاہیے کہ روزانہ قیمتوں کے اس نظام میں ناجائز منافع خوری کے امکانات کو روکنے کے لیے کیا حفاظتی انتظام موجود ہیں
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ قیمتیں صرف پٹرول پمپ پر صارف کے بل کو متاثر نہیں کرتیں،ڈیزل تقریباً پوری معیشت کے پہیوں کو چلاتا ہے،ٹرک، بسیں، وینیں، زرعی مشینری، تعمیراتی آلات اور سامان کی ترسیل سب اس سے متاثر ہوتے ہیں،چنانچہ ڈیزل میں ایک معمولی اضافہ بھی بالآخر سبزی، آٹا، دودھ، کپڑے، تعمیراتی سامان اور دیگر اشیا کی قیمت میں شامل ہو سکتا ہے
اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ موجودہ سطح عام صارف کے لیے پہلے ہی غیر معمولی طور پر بلند ہے،ڈیزل کی قیمت رواں سال اپریل میں 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، جبکہ پٹرول 458.41 روپے فی لیٹر تک گیا،اس کے بعد قیمتیں کم ہوئیں، لیکن موجودہ نرخ اب بھی عام پاکستانی کی آمدنی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں
اس لیے اصل بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ حکومت نے آج پٹرول 1.12 روپے اور ڈیزل 1.11 روپے مہنگا کیوں کیا،اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا ایسا نظام کیوں نہ بنایا جائے جو عالمی منڈی کی تبدیلیوں کو بھی مدنظر رکھے اور صارف، ٹرانسپورٹر، صنعت، کسان اور چھوٹے کاروبار کو قیمتوں کے مسلسل اتار چڑھاؤ سے کچھ استحکام بھی دے
عوام کو عالمی تیل کی قیمت کا بوجھ اٹھانے سے انکار نہیں،لیکن عوام یہ ضرور پوچھ سکتے ہیں کہ اگر قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق کم بھی ہوتی ہیں تو کمی اسی رفتار سے ان تک پہنچتی ہے یا نہیں، اور اگر قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا بوجھ فوری طور پر ان پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت کو روکنے کا مؤثر نظام کہاں ہے؟
پاکستان کے لیے پٹرول صرف ایک شے نہیں، پوری معیشت کی بنیادی لاگت ہے،اس لیے قیمتوں میں روزانہ کی لچک اگر واقعی شفافیت کے نام پر اختیار کی گئی ہے تو اس شفافیت کا دوسرا حصہ بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے،قیمت کیسے بنی، کس نے کتنا کمایا، حکومت نے کتنا ٹیکس لیا، تقسیم کے نظام میں کس کا کتنا حصہ ہے اور صارف کو عالمی قیمت میں کمی کا فائدہ کتنی تیزی سے پہنچایا گیا
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ روزانہ قیمتوں کا نظام عالمی منڈی کی تبدیلیوں کو عوام تک منتقل کرنے کا ذریعہ تو بن جائے، مگر ان لوگوں کے لیے ایک ایسا میدان بھی بن جائے جو قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو عام صارف سے کہیں بہتر سمجھتے اور استعمال کرتے ہیں





