چین میں ٹیسلا سمیت 9 کمپنیوں کی 43 لاکھ گاڑیوں کی ریکارڈ واپسی، ہنگامی دروازہ کھولنے کے نظام پر سوالات
بیجنگ: چین نے گاڑیوں کی حفاظت کے شعبے میں اپنے سخت ہوتے ہوئے ضوابط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسلا سمیت 9 بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی تقریباً 43 لاکھ گاڑیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے،یہ چین کی تاریخ میں گاڑیوں کی واپسی کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے
واپسی کی بنیادی وجہ برقی گاڑیوں میں ہنگامی صورت حال کے دوران مسافروں کے گاڑی کے اندر پھنس جانے کا خدشہ ہے،متعلقہ گاڑیوں میں موجود ہنگامی بٹن یا لیور، جن کے ذریعے بجلی کی فراہمی بند ہونے کی صورت میں دروازہ دستی طور پر کھولا جا سکتا ہے، بعض حالات میں تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے
اس اقدام میں امریکی کمپنی ٹیسلا کے علاوہ چینی برقی گاڑی بنانے والی کمپنیاں ژیاؤمی اور لیپ موٹر بھی شامل ہیں،تمام متعلقہ کمپنیوں کو متاثرہ گاڑیوں میں ہنگامی دروازہ کھولنے کے نظام میں ضروری اصلاحات کرنا ہوں گی
برقی گاڑیوں کے حوالے سے صارفین کا ایک دیرینہ خدشہ یہ رہا ہے کہ حادثے یا بیٹری کی خرابی کے نتیجے میں بجلی کا نظام بند ہو جائے تو گاڑی کے اندر موجود افراد دروازے کھولنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں،روایتی گاڑیوں کے برعکس جدید برقی گاڑیوں میں دروازوں کے لیے الیکٹرانک نظام اور پوشیدہ یا مختلف نوعیت کے ہینڈلز تیزی سے عام ہوئے ہیں
چین نے اسی مسئلے کے پیش نظر گاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے اپنے ضوابط بھی سخت کیے ہیں،حکام نے بیرونی الیکٹرانک دروازہ کھولنے والے ہینڈلز کے ایسے استعمال پر بھی پابندی عائد کی ہے جن کے ساتھ روایتی دستی طریقے سے دروازہ کھولنے کا متبادل موجود نہ ہو
چین دنیا کی سب سے بڑی گاڑیوں کی منڈی ہونے کے ساتھ ساتھ برقی گاڑیوں کی تیاری اور فروخت میں بھی عالمی مرکز بن چکا ہے،مقامی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی، خودکار نظام اور برقی گاڑیوں کے نئے ماڈلز متعارف کرا رہی ہیں، جس کے باعث گاڑیوں کے حفاظتی معیار بھی عالمی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر گاڑیوں کی واپسی اس بات کی علامت ہے کہ بیجنگ اب صرف برقی گاڑیوں کی پیداوار اور ٹیکنالوجی میں سبقت حاصل کرنے پر توجہ نہیں دے رہا بلکہ گاڑیوں کی حفاظت کے لیے ایسے قواعد بھی وضع کر رہا ہے جو دنیا کی بڑی کمپنیوں کو اپنے ڈیزائن اور حفاظتی نظام تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں
43 لاکھ گاڑیوں کی یہ واپسی چین کی آٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑا حفاظتی امتحان بھی ہے اور اس بات کا اشارہ بھی کہ دنیا کی سب سے بڑی گاڑیوں کی منڈی میں حفاظتی ضوابط اب عالمی کار ساز کمپنیوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں





