’ہارنے کا عادی نہیں‘‘: ایلون مسک کا کرسر کے ملازمین سے خطاب، گروک کے اے آئی مقابلے میں پیچھے رہ جانے کا اعتراف

’ہارنے کا عادی نہیں‘‘: ایلون مسک کا کرسر کے ملازمین سے خطاب، گروک کے اے آئی مقابلے میں پیچھے رہ جانے کا اعتراف

واشنگٹن: ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں اپنی کمپنی گروک کے پیچھے رہ جانے کا غیر معمولی طور پر کھل کر اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’’ہارنے کے عادی نہیں‘‘ اور اب کرسر کے 1,000 سے زیادہ ملازمین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی اے آئی کمپنی کو حریفوں، خصوصاً اینتھروپک، کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے میں مدد کریں گے،یہ انکشاف دی انفارمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے سامنے آیا ہے، جسے گِزموڈو نے بھی تفصیل سے رپورٹ کیا ہے
یہ خطاب اگست کے وسط میں ہوا، جب مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کے لیے کوڈ لکھنے والے پلیٹ فارم کرسر کو تقریباً 60 ارب ڈالر کے معاہدے میں حاصل کیا،15 اگست کو اس سودے کی تکمیل کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد کرسر اسپیس ایکس کا حصہ بن گیا۔ (TechCrunch⁠)

رپورٹ کے مطابق یہ مسک کا کرسر کے ملازمین سے پہلا آل ہینڈز خطاب تھا۔ انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سان فرانسسکو ہیڈکوارٹرز اور دیگر مقامات پر موجود ایک ہزار سے زیادہ ملازمین سے بات کی،دی انفارمیشن نے اپنی رپورٹ پانچ ایسے افراد کی معلومات کی بنیاد پر تیار کی جو اجلاس سے واقف تھے
مسک نے مبینہ طور پر ملازمین کو بتایا کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس اپنی اپنی صنعتوں میں نمایاں برتری رکھتی ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت کے میدان میں ان کی کمپنی اس مقام پر نہیں جہاں وہ اسے دیکھنا چاہتے ہیں،ان کے مطابق گروک اپنے حریفوں سے پیچھے ہے اور اسے فوری طور پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے
مسک نے خاص طور پر اینتھروپک کا نام لیا اور اسے موجودہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں ایک انتہائی مضبوط حریف کے طور پر تسلیم کیا،یہ اعتراف اس لیے قابل ذکر ہے کہ مسک خود ایک طویل عرصے سے مصنوعی ذہانت کی صنعت میں اوپن اے آئی اور دیگر بڑی کمپنیوں کے ساتھ مقابلے میں ہیں
رپورٹ کے مطابق مسک نے اپنی موجودہ صورتحال کو اس انداز میں بیان کیا کہ وہ ’’ہارنے کے عادی نہیں‘‘۔ ان کا مقصد کرسر کی ٹیکنالوجی اور اس کی انجینئرنگ ٹیم کو استعمال کرتے ہوئے گروک کو تیزی سے بہتر بنانا اور اے آئی کی عالمی دوڑ میں دوبارہ برتری حاصل کرنا ہے
اسپیس ایکس کی جانب سے کرسر کو خریدنے کا فیصلہ اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے،کرسر بنیادی طور پر ایسا مصنوعی ذہانت کا پلیٹ فارم ہے جو سافٹ ویئر ڈویلپرز کو کوڈ لکھنے، تبدیل کرنے اور پروگرامنگ کے مختلف کاموں میں اے آئی کی مدد فراہم کرتا ہے،اسپیس ایکس کے ساتھ شامل ہونے کے بعد کرسر کو کمپنی کے وسیع کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی حاصل ہوگی
کرسر نے معاہدہ مکمل ہونے کے بعد کہا تھا کہ اسپیس ایکس کے ساتھ شمولیت سے اسے دنیا میں موجود سب سے بڑے جی پی یو کمپیوٹنگ نظام تک رسائی ملے گی،کمپنی کے مطابق یہی کمپیوٹنگ صلاحیت مصنوعی ذہانت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ترقی دینے میں مدد دے سکتی ہے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی صنعت میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، گوگل اور دیگر کمپنیاں جدید ترین ماڈلز اور اے آئی ایجنٹس کی تیاری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں ،مسک کی اپنی اے آئی کمپنی ایکس اے آئی بھی گروک کو اس مقابلے میں آگے لانے کے لیے بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ وسائل اور ڈیٹا استعمال کر رہی ہے
اس سے پہلے مسک اسپیس ایکس کے ملازمین کو یہ بھی بتا چکے ہیں کہ گروک کی تربیت میں اسپیس ایکس کے اندر موجود وسیع معلومات اور ڈیٹا کو استعمال کیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کا اے آئی نظام اسپیس ایکس کے مجموعی علم اور معلومات سے تربیت حاصل کرے گا
کرسر کی خریداری اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ صرف ایک اے آئی سافٹ ویئر کمپنی کا حصول نہیں بلکہ مسک کی جانب سے اے آئی کے لیے ایک مکمل نظام تیار کرنے کی کوشش کا حصہ دکھائی دیتا ہے،اسپیس ایکس کے پاس وسیع کمپیوٹنگ بنیادی ڈھانچہ ہے، جبکہ کرسر کے پاس اے آئی کے ذریعے سافٹ ویئر تیار کرنے اور پروگرامنگ کو خودکار بنانے کی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ ٹیم موجود ہے
تاہم اس بڑے معاہدے کے بعد کرسر کے اندر تبدیلیاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق کمپنی کے ملازمین کو اسپیس ایکس کے اے آئی ڈویژن کے تحت مختلف ٹیموں میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور انتظامی و معاوضے کے ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں،کچھ ملازمین کمپنی چھوڑ بھی چکے ہیں
مسک کے لیے اصل چیلنج اب یہی ہے کہ 60 ارب ڈالر کی اس سرمایہ کاری کو ایسی اے آئی ٹیکنالوجی میں تبدیل کیا جائے جو گروک کو اینتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل جیسے حریفوں کے مقابلے میں حقیقی برتری دلا سکے
کرسر کے حصول اور ملازمین سے مسک کے پہلے خطاب نے ایک بات واضح کر دی ہے،دنیا کی امیر ترین ٹیکنالوجی شخصیات میں شمار ہونے والے مسک مصنوعی ذہانت کی موجودہ دوڑ میں اپنی پوزیشن سے مطمئن نہیں اور اب وہ کرسر کی پوری ٹیم اور اسپیس ایکس کے وسائل کو گروک کو دوبارہ مقابلے کی صف اول میں لانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں

قومی خبریں سے مزید