ایلن مسک نے روٹی کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کردیا، کسی کو روٹی نہیں ملے گی جب تک ہر کام کے لیے روبوٹ نہیں لگا دیتا

ایلن مسک نے روٹی کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کردیا، کسی کو روٹی نہیں ملے گی جب تک ہر کام کے لیے روبوٹ نہیں لگا دیتا

واشنگٹن: ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے قدیم روم میں شہریوں کو مفت اناج فراہم کرنے کی مثال دیتے ہوئے حکومتی امداد اور فلاحی پروگراموں پر تنقید کی ہے، تاہم ان کے اپنے مستقبل کے تصور میں ایسی دنیا دکھائی دیتی ہے جہاں انسانوں کو کام کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور روبوٹ ان کی جگہ زیادہ تر کام انجام دیں گے
مسک نے پیر کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے قدیم روم کا حوالہ دیا،اصل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روم نے 73 قبل مسیح میں تقریباً 40 ہزار شہریوں کو مفت اناج فراہم کیا، جبکہ چند دہائیوں بعد جولیس سیزر کے دور میں مفت راشن حاصل کرنے والوں کی تعداد 3 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ گئی تھی،پوسٹ میں اسے حکومتی فلاحی نظام کے بڑھتے ہوئے انحصار کی مثال قرار دیا گیا تھا
مسک نے اس پوسٹ کے جواب میں مختصر تبصرہ کیا کہ قدیم روم کے لوگوں کو بھی یہی مسائل درپیش تھے،ان کے اس تبصرے کو جدید دور میں حکومتی امداد، خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لیے خوراک کی معاونت، کے خلاف ان کے سابقہ مؤقف سے جوڑا جا رہا ہے
مسک طویل عرصے سے یہ پیش گوئی کرتے آئے ہیں کہ انسانوں کا مستقبل ایسی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں روبوٹ زیادہ تر جسمانی اور روزمرہ کے کام انجام دیں گے،ان کے مطابق ٹیسلا کا انسان نما روبوٹ آپٹیمس مستقبل میں گھریلو کاموں سے لے کر بچوں کی دیکھ بھال تک مختلف ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے
مسک کا تصور صرف فیکٹریوں میں روبوٹ کے استعمال تک محدود نہیں،وہ ایسی مستقبل کی معیشت کی بات کرتے رہے ہیں جس میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس اتنی ترقی کر جائیں گے کہ اشیا اور خدمات کی پیداوار میں انسانی محنت کی ضرورت انتہائی کم رہ جائے گی،اس صورت میں انسانوں کو موجودہ معنوں میں روزگار کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور معاشرے میں دولت کی فراوانی پیدا ہو سکتی ہے
یہاں مسک کے ناقدین بنیادی تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں،ایک طرف مسک حکومت کی جانب سے لوگوں کو مفت خوراک یا مالی فوائد فراہم کرنے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ خود ایک ایسے مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں جس میں روبوٹ انسانی محنت کی جگہ لے لیں گے اور انسانوں کو کام کیے بغیر زندگی گزارنے کے لیے وسائل دستیاب ہوں گے
مسک کی روبوٹ سے متعلق امیدوں کا مرکز آپٹیمس ہے، جسے ٹیسلا عمومی مقاصد کے لیے تیار کر رہی ہے،مسک نے مختلف مواقع پر کہا ہے کہ یہ روبوٹ مستقبل میں ایسے کام کر سکے گا جو اس وقت انسان انجام دیتے ہیں،ٹیسلا کی جانب سے روبوٹ کو گھریلو اور صنعتی کاموں کے لیے تیار کرنے کی کوشش جاری ہے، تاہم روبوٹ کی مکمل خودمختاری اور بڑے پیمانے پر حقیقی دنیا میں قابل اعتماد کارکردگی کے حوالے سے ابھی اہم تکنیکی چیلنجز موجود ہیں
گِزموڈو نے اپنی رپورٹ میں مسک کے ان دونوں مؤقفوں کو ایک دوسرے کے متضاد قرار دیا ہے،رپورٹ کے مطابق مسک عام شہریوں کے لیے حکومتی امداد پر اعتراض کرتے ہیں اور اسے انحصار بڑھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن ان کا اپنا ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل انسانی معاشرے کو ایسی صورتحال کی طرف لے جانے کا تصور پیش کرتا ہے جہاں لوگوں کو روزگار کے بغیر بھی زندگی گزارنے کے لیے وسائل میسر ہوں گے
مسک اس سے قبل حکومتی اخراجات اور سرکاری اداروں کے حجم میں کمی کے حامی رہے ہیں،تاہم ان کے ناقدین کا سوال ہے کہ اگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس لاکھوں یا کروڑوں ملازمتوں کی جگہ لے لیتے ہیں تو ان لوگوں کی معاشی ضروریات کیسے پوری ہوں گی جو اپنی محنت سے آمدنی حاصل نہیں کر سکیں گے
یہ بحث اس وقت مزید اہم ہو گئی ہے جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے نظام تیار کر رہی ہیں جو پہلے انسانی کارکنوں کے ذریعے انجام دیے جانے والے کاموں کو خودکار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں
مسک کا مؤقف یہ ہے کہ روبوٹ اور مصنوعی ذہانت انسانی محنت کو ختم کرنے کے بجائے ایک ایسے دور کا آغاز کریں گے جہاں پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوگا اور بنیادی ضروریات پوری کرنا زیادہ آسان ہو جائے گا،لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی دولت خود بخود تمام شہریوں تک نہیں پہنچتی،اس کے لیے معاشی اور سیاسی نظام کو بھی تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے
قدیم روم کے مفت اناج سے متعلق مسک کی تازہ پوسٹ نے اسی پرانے سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ حکومت کو شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں کس حد تک کردار ادا کرنا چاہیے،دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس شخص نے موجودہ دور میں مفت حکومتی فوائد پر تنقید کی ہے، وہی ایک ایسے مستقبل کی پیش گوئی کر رہا ہے جس میں روبوٹ انسانی کارکنوں کی جگہ لے کر انسانوں کو کام سے آزاد کر دیں گے
یوں مسک کی تازہ تنقید نے صرف قدیم روم اور حکومتی امداد پر بحث نہیں چھیڑی بلکہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، روزگار اور مستقبل کی معیشت کے بارے میں ایک بڑے سوال کو بھی دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا ہے،اگر روبوٹ واقعی انسانوں کے بیشتر کام سنبھال لیتے ہیں تو اس نئی دولت کی تقسیم کس طرح ہوگی اور عام انسان کس معاشی نظام کے تحت زندگی گزارے گا

قومی خبریں سے مزید