نیویارک پاکستان ڈے پریڈ سے ڈکس ہلز میلے تک:انا ، خودغرضی ، کسمپرسی ، بے بسی و انتشار کا دردناک منظر،خالی سڑکیں ،منقسم قیادت بے نام گرینڈ مارشل، جو کچھ ہوا حیران کن تھا، حکومت پاکستان نے بھی مکمل لاتعلقی اختیار کرلی
نیویارک: مین ہیٹن میں اتوار 23 اگست کو ہونے والی پاکستان ڈے پریڈ اس بار صرف ایک ثقافتی تقریب نہیں بلکہ پاکستانی امریکی کمیونٹی میں جاری شدید انتظامی، سیاسی خود غرضی ، نمود و نمائش اور قانونی اختلافات کی عکاس بن کر سامنے آئی، جہاں پریڈ کمیٹی کے متحارب دھڑے، محدود عوامی شرکت، نمایاں پاکستانی سرکاری حکام کی عدم موجودگی اور گرینڈ مارشل کے انتخاب پر بھی سوالات نے ایونٹ کی ساکھ کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے
نیویارک سٹی کے مطابق پریڈ میڈیسن ایونیو پر 38ویں اسٹریٹ سے شروع ہو کر 27ویں اسٹریٹ تک پہنچی، جبکہ شہر کے مقامی انتظامی کیلنڈر میں اس تقریب کے لیے میڈیسن ایونیو کا 38ویں سے 24ویں اسٹریٹ تک حصہ درج کیا گیا تھا
پریڈ ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان ڈے پریڈ کمیٹی کی قیادت دو متحارب گروپوں میں تقسیم ہے اور معاملہ عدالت تک پہنچ چکا ہے،دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2025 میں ہونے والے انتخابات میں قاسم مجید کو صدر، احمد خان کو چیئرمین اور احمد جان کو شریک چیئرمین منتخب کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ ڈاکٹر حق کو سرپرست اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا
مگر اس کے بعد کمیٹی کے اندر انتخابات، آئینی اختیار، ٹرسٹی شپ ، ایگزیکیٹو کمیٹی ، اور پریڈ کے انتظامی کنٹرول پر اختلافات شدت اختیار کرتے گئے، جولائی 2026 میں سامنے آنے والی رپورٹس میں بھی کمیٹی کے اندر انتخابی عمل، قواعد کی خلاف ورزیوں، مالی شفافیت اور انتظامی اختیار کے حوالے سے سنگین اختلافات کا ذکر کیا گیا تھا
اتوار کی پریڈ کے بارے میں موقع پر موجود افراد کے مطابق قاسم مجید گروپ مکمل طور پر غائب تھا جس کی شرکت کے لیے احمد جان لودھی گروپ نے آخری لمحات تک کوشش کی، جس کی وجہ ذرائع کے مطابق دونوں جانب سے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے اور یکم ستمبر کو سماعت مقرر ہے، جہاں دونوں کی جانب سے انتخابات کے پسمنظر میں ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے کے الزامات لگائے ہیں اور جس کے نتیجے میں جھوٹ بولنے کا ثبوت ملنے پر باقاعدہ سزا ملنے کا بھی خدشہ ہے
پریڈ کی ایک اہم اور غیر معمولی بات پاکستان کے سفارتی حکام کی عدم موجودگی بھی رہی،گزشتہ سال بھی پاکستان کے سفارت خانے یا نیویارک قونصلیٹ جنرل کے کسی اعلیٰ سطح کے نمائندے کی پریڈ میں نمایاں موجودگی نظر نہیں آئی تھی اور اس سال بھی سفیر، قونصل جنرل یا کسی نمایاں پاکستانی سرکاری افسر کی شرکت سامنے نہیں آئی،یہ صورتحال اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ ماضی میں پاکستان کے اعلیٰ سفارتی حکام اس پریڈ میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 2016 میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی نے نیویارک کی پریڈ کا معائنہ کیا تھا اور اس وقت تک پریڈ میں 12 فلوٹس دیکھنے کو مل جاتے تھے اور کمیونٹی کی حاضری بھی مناسب حد تک دیکھی جاتی تھی
اس سال کی صورتحال کو بعض کمیونٹی حلقے اس بات سے جوڑ رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اور نیویارک میں پاکستان کے سفارتی حکام شاید اس تنازع میں کسی ایک دھڑے کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کر رہے ہیں،تاہم سرکاری طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت پاکستان نے باضابطہ طور پر پریڈ کو مسترد یا ’’ڈس اون‘‘ کیا ہے، کیونکہ اس حوالے سے کوئی واضح سرکاری بیان سامنے نہیں آیا
پریڈ کے شرکا اور مقامی مبصرین کے مطابق گزشتہ چند سالوں کی طرح اس مرتبہ بھی میڈیسن ایونیو پر وہ ہجوم نظر نہیں آیا جو کبھی اس تقریب کی شناخت سمجھا جاتا تھا،بعض شرکا نے پریڈ کے آغاز اور مارچ کے موقع پر حاضری نہ ہونے کے برابر بتائ ہے جبکہ پریڈ کمیٹی کے ممبران کی سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز اس موقع پر چند درجن افراد نظر آتے ہیں،جبکہ میلے کے حصے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ بہتری دکھائی دی اور اندازاً 800 سے 1,000 افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا،ان اعداد و شمار کی آزادانہ گنتی دستیاب نہیں،
یہ منظر ماضی کے ان برسوں سے بالکل مختلف تھا جب پاکستان ڈے پریڈ کو نیویارک میں پاکستانی امریکی کمیونٹی کے بڑے اور اہم ترین عوامی اجتماعات میں شمار کیا جاتا تھا،2018 میں منتظمین نے عاطف اسلم کی شرکت کے باعث 20,000 سے 25,000 افراد کی شرکت کی امید ظاہر کی تھی
اس سال پریڈ میں گرینڈ مارشل کے طور پر ڈاکٹر پرویز اقبال نامی شخص کی نامزدگی بھی کمیونٹی میں بحث کا موضوع بنی رہی،دستیاب اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر پرویز اقبال امریکی پاکستانی ڈاکٹر اعجاز احمد کی پرو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ تشہیری کمپنی “ پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی کے نمائشی صدر ہیں، جبکہ ڈاکٹر اعجاز احمد اس تنظیم کے چیئرمین ہیں۔ 2025 میں ڈاکٹر پرویز اقبال کو تنظیم کے قومی بورڈ کا صدر منتخب کیے جانے کی باقاعدہ اطلاع بھی جاری کی گئی تھی ، تاہم کمیونٹی کے حلقوں کے مطابق ڈاکٹر اعجاز تنظیم میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے ساتھ امریکی جمہوری نظام کے قوانین کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوئے کاغذوں کا پیٹ بھرنے کے لیے تنظیم میں انتخابات اور ان کے نتیجے میں عہدوں کی تقسیم عین اسی طرح کرتے ہیں جیسے پاکستانی سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کی روایت رہی ہے ، عوامی سطح پر کہا ہے جارہا ہے ڈاکٹر اعجاز نے پریڈ کمیٹی کو اپنی تشہیری کمپنی کے فلوٹ کے بدلے تنظیم کے نمائشی صدر کی مبینہ فرمائش پر انہیں گرینڈ مارشل بنا کر انکی نمائش کی خواہش کو عملی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ،
ڈاکٹر پرویز اقبال کی بطور گرینڈ مارشل نامزدگی پر بعض کمیونٹی حلقوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا گرینڈ مارشل کا منصب کسی ایسی شخصیت کو نہیں ملنا چاہیے جس کی پاکستانی امریکی کمیونٹی میں طویل عوامی خدمات ہوں یا قومی و بین الاقوامی سطح پر کوئ کارنامہ گرینڈ مارشل بننے والی شخصیت کے نام سے منسوب ہے جیسا کے اس منصب کے لیے ہمیشہ سے تمام مہذب انسانی معاشروں میں یہی تاریخی روایت دیکھنے سننے کو ملتی ہے
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر پرویز اقبال امریکی پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی حالیہ برسوں میں مبینہ طور پر بطور کاروبار پاکستانی نرسوں اور طبی شعبے کے افراد کے لیے امریکہ میں مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے سرگرم رہے ہیں ، جنوری 2025 میں پاکستانی سفیر، نیویارک کے قونصل جنرل اور نیویارک ریاستی اسمبلی کے حکام کے ساتھ ہونے والی ایک آن لائن ملاقات میں ڈاکٹر اعجاز احمد اور ڈاکٹر پرویز اقبال بھی شریک تھے
پریڈ کے اندرونی انتظامی ڈھانچے پر بھی اس بار خاص توجہ رہی،بعض شرکا کے مطابق تقریب میں فلوٹس کی تعداد انتہائی محدود رہی اور کئی فلوٹس تعمیراتی شعبے سے وابستہ ٹرسٹیز یا ان سے منسلک اداروں کی نمائندگی کرتے تھے،ایک عمر رسیدہ ٹرسٹی کی صحت کے باعث گاڑی سے پریڈ میں شریک ہونے کی بات بھی کی گئی،
میلے کے ثقافتی حصے گلوکار بلال سعید کی شرکت نمایاں رہی،شرکا کے مطابق اسٹیج پروگرام بھی ماضی کے مقابلے میں خاصا محدود تھا اور بلال سعید نمایاں فنکار کے طور پر سامنے آئے
دلچسپ طور پر پریڈ کمیٹی کے قبضہ گروہ کے سربراہ اور مسلسل رہنے والے صدر منیر لودھی ہی امسال بھی اپنے تاریخی عہدے پر فائز تھے جسے انہوں نے عوام کو گواہ بنا کر چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ویڈیو بنائے ، تاہم وہ گزشتہ روز بھی صدارتی پٹہ ڈالے مسکراتے ہوئے وکٹری کا نشان بنا کر کمیونٹی کے ساتھ پریڈ کمیٹی میں انکی مخالفت کرنے والوں کا منہ چڑاتے نظر آئے جیسے کہہ رہے ہوں “ جو پُٹنا ہے پُٹ لو” اس بار بھی پریڈ کے اس منظر کو ان کے حامیوں نے اپنے موقف کی علامت قرار دیا، جبکہ مخالف دھڑے کے بعض افراد نے اسے جاری تنازع میں طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا
اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر وہ پریڈ جو کبھی نیویارک میں پاکستانی امریکی کمیونٹی کی اجتماعی قوت، اتحاد اور پاکستان سے وابستگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، آج اندرونی اختلافات، عدالتی تنازع اور محدود شرکت کی وجہ سے اتنی کمزور کیوں دکھائی دے رہی ہے؟
ایک طرف منتظمین کی جانب سے اب بھی اسے پاکستانی کمیونٹی کا نمائندہ اور نیویارک کا اہم پاکستانی ثقافتی ایونٹ قرار دیا جاتا ہے، دوسری طرف کمیونٹی کے بڑے حصے کا کہنا ہے کہ اگر ایک ایسی تقریب میں جسے پاکستان کی نمائندگی کا غیررسمی اعزاز حاصل ہو، کمیونٹی کی بڑی تنظیمیں متحد نہ ہوں، قیادت دو حصوں میں تقسیم ہو، عدالت میں مقدمات چل رہے ہوں اور پاکستان کے اعلیٰ سفارتی حکام بھی شریک نہ ہوں تو اس کے انتظامی ڈھانچے اور نمائندگی پر سوال اٹھنا فطری ہے
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ 2025 میں خود پریڈ کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ 2026 کی پریڈ 23 اگست کو منعقد کی جائے گی اور تمام پاکستانی تنظیموں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اسی دن کوئی دوسری بڑی تقریب نہ رکھیں تاکہ پوری پاکستانی کمیونٹی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکے
اب صورتحال اس اعلان کے برعکس دکھائی دے رہی ہے،اتحاد کے بجائے تقسیم نمایاں ہے، ایک طرف منتخب قیادت کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف انتظامی کنٹرول کا دعویٰ کرنے والا دھڑا موجود ہے،نتیجہ یہ نکلا کہ پریڈ کا اصل مقصد، یعنی پوری پاکستانی امریکی کمیونٹی کو ایک جگہ جمع کرنا، پس منظر میں چلا گیا اور کمیٹی کا اندرونی تنازع خود مرکزی خبر بن گیا، جبکہ اسی کے ساتھ ہی تئیس اگست گزشتہ اتوار کو لانگ آئ لینڈ میں پاکولی نامی تنظیم نے اپنے ہی ایک گروہ کی بغاوت اور دوسری تنظیم بنا کر روایتی میلے پر قبضہ اور اسکے انعقاد کے جواب میں ڈکس ہلز پارک میں میلے کا اہتمام کیا جہاں پارکنگ کی کمی اور اور گنجائش سے زیادہ شرکت نے علاقے کی سڑکوں کے ساتھ گالف کلب کے راستوں اور اطراف میں گاڑیاں پارک کرنے کے واقعات کو دیکھ کر کہا جارہا ہے ممکن ہے سفک کاؤنٹی آئندہ سال اس صورت حال کی روشنی میں پرمٹ دینے پر رضا مند نہ ہو ، یہ امر دلچسپی سے یقیناً خالی نہ ہوگا پاکولی نامی تنظیم اپنے باغی دھڑے کے نام روایتی میلے پرمٹ جاری کرنے کا الزام جن افراد پر عائد کرتی رہی ہے وہ تمام افراد ڈکس ہلز پارک میلے کے اسٹیج پر بطور دلہا پیش کیے گئے جن میں ناسو کاؤنٹی کے چیئرمین بروس بلیک مین کے اعزازی ایڈوئزر اکرم چوہدری بھی شامل ہیں ، اکرم چوہدری جنہیں لانگ آئ لینڈ میں گجراتی سیاست متعارف کروانے کا اعزاز حاصل ہے ڈکس ہلز میلہ اسٹیج پر دیکھ کر کمیونٹی کے سماجی حلقوں میں چی میگوئیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں کہ اگلے سال آئزن ہاور پارک میلہ سیاست میں پاکولی کی واپسی یقینی ہے ، یہاں واضع رہے اکرم چوہدری اور انکا گروہ لانگ آئ لینڈ میں رمضان میں عید کے چاند نکلنے سے ایک ہفتہ پہلے چاند رات منقعد کروانے اور اسٹیج سے ڈانس کیٹ واک تک کروانے کی شہرت کے ساتھ حسین ڈے جیسے مذہبی پروگراموں کے انعقاد کی شہرت بھی رکھتا ہے جسکے منتظمین ہی رمضان میں کیٹ واک اور فیشن شو سے ڈانس تک کو معمول کی سرگرمی قرار دیتے ہوئے ایسی تقریبات کو تنقید کا نشانہ بنانے والے حلقوں کو متعصب قرار دیتے ہیں جبکہ محرم کے اختتام پر اکرم چوہدری کے صاحبزادے شہر یار علی چوہدری کی جانب سے سجائے سیاسی فنڈ ریزنگ پارٹی میں قوامی کی محفل کو محرم کے ایام میں منقعد کروانے اور اسے حرام قرار دیکر ناراضگی کا تاثر دیکر بائیکاٹ کرجاتے ہیں ، جبکہ کمیونٹی میں مذہبی سیاسی سماجی ، میلوں چاند راتوں ، حلال کھانوں کی کاروباری نمائشی تقریبات کی ناسو کاؤنٹی میں اعلیٰ سطح پر سرپرستی کے ساتھ سیاست کے لیے استعمال کرنے والے اکرم چوہدری خود بھی ناسو کاؤنٹی ویلی اسٹریم میں تیس اگست کو ویلی اسٹریم پارک میں امسال یوم آزادی پاکستان کی آڑ میں آخری میلے کا انعقاد کریں گے
پاکستان ڈے پریڈ کمیٹی کے تنازعہ کے پسمنظر میں اب نظریں یکم ستمبر کی عدالتی سماعت پر مرکوز ہیں،اگر عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے انتخابی ریکارڈ، دستخط، اجازت نامے، آئینی دستاویزات اور دیگر شواہد میں کسی قسم کی جعل سازی یا جھوٹا حلف نامہ ثابت ہوتا ہے تو معاملہ محض پریڈ کمیٹی کے اندرونی اختلاف تک محدود نہیں رہے گا بلکہ متعلقہ فریق کے خلاف قانونی نتائج بھی پیدا ہو سکتے ہیں،تاہم صرف الزام یا متنازع دستاویز کی موجودگی کسی شخص کو جعل سازی یا جھوٹی گواہی کا مرتکب ثابت نہیں کرتی؛ اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی
پاکستان ڈے پریڈ کے موجودہ بحران نے یوں ایک بنیادی سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے،کیا نیویارک کی پاکستانی امریکی کمیونٹی اپنی اس تاریخی پریڈ کو دوبارہ ایک متحد، شفاف اور وسیع عوامی پلیٹ فارم میں تبدیل کر سکتی ہے، یا یہ تقریب چند متحارب گروپوں کے انتظامی اور قانونی تنازعات میں مزید سکڑتی چلی جائے گی؟
اتوار کی پریڈ کے مناظر کم از کم یہ ضرور بتا رہے تھے کہ مسئلہ صرف ایک دن کی کم حاضری کا نہیں بلکہ اس تنظیمی بحران کا ہے جس نے برسوں سے قائم ایک بڑے کمیونٹی ایونٹ کی ساکھ اور نمائندگی دونوں کو براہ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے





