اقتدار کی ترمیمی سیاست بند گلی میں داخل، زرداری کے ایوانِ صدر چھوڑنے کی قیاس آرائی، ن لیگ کا اپوزیشن کے قریب آنا اور پنڈی میں فوج کی تعیناتی نے پاکستان کے سیاسی بحران کو نئے موڑ پر پہنچا دیا
اسلام آباد: پاکستان کی سیاست میں ایک دوسرے سے بظاہر الگ دکھائی دینے والے واقعات اب ایک ہی بڑے سیاسی بحران کی مختلف کڑیاں محسوس ہونے لگے ہیں،صدر آصف علی زرداری کے ایوانِ صدر چھوڑنے سے منسوب اطلاع، پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کا اپوزیشن کے بعض مطالبات کے قریب آنا، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان قانون سازی پر تعاون، مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن کی تشکیل کی کوشش، نئے صوبوں کے قیام پر بڑھتی ہوئی مزاحمت، اور راولپنڈی میں چھ ماہ کے لیے فوج کی تعیناتی، سب نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ موجودہ ہائبرڈ بندوبست آخر کس سمت جا رہا ہے
سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر وہی سیاسی قوتیں جو حالیہ آئینی ترامیم کی منظوری میں شریک رہیں، اب ان کے ممکنہ سیاسی اور آئینی نتائج سے خود خوفزدہ دکھائی دے رہی ہیں تو پھر ان ترامیم کا اصل سیاسی مقصد کیا تھا؟
یہ سوال اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ گزشتہ چند آئینی تبدیلیوں کے نتیجے میں فوجی کمان، دفاعی ڈھانچے اور ریاستی اختیارات کے مرکز میں غیر معمولی ارتکاز پیدا ہونے کے بارے میں پاکستان کے اندر اور باہر مسلسل بحث جاری ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ نے ان تبدیلیوں کو روکنے، ان پر کھلی بحث کرنے اور ان کے طویل المدت اثرات کا جائزہ لینے کے بجائے انہیں عجلت میں منظور کیا،مولانا فضل الرحمن نے بھی حالیہ دنوں میں الزام عائد کیا ہے کہ مسلح افواج کی کمان سے متعلق قانون سازی بہت تیزی سے منظور کی گئی، پارلیمان میں مناسب بحث نہیں ہوئی اور اپوزیشن جو ہر صورت عمران خان کی جیل سے ہسپتال لانے کے لئیے ، واک آؤٹ کی حکمت عملی پر مجبور ہوئ ، نے حکومت کو قانون سازی کے لیے کھلا میدان فراہم کیا ،
یہاں وہ سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے جسے اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،کیا اقتدار میں موجود سیاسی جماعتوں نے ایسی آئینی تبدیلیوں کی حمایت اس لیے کی تھی کہ وہ اپنے فوری سیاسی مفادات کے لیے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کو کمزور سمجھ رہی تھیں، لیکن اب وہی اختیارات پورے سیاسی نظام کے لیے خطرہ محسوس ہونے لگے ہیں؟
اگر یہی تجزیہ درست ہے تو موجودہ صورتحال پاکستان کی سیاست کا ایک بڑا تضاد سامنے لاتی ہے،ایک طرف سیاسی جماعتوں نے طاقت کے مرکز کو وسیع تر اختیارات دینے میں تعاون کیا، دوسری طرف اب وہی جماعتیں انتظامی اور آئینی ڈھانچے میں مزید تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں،نئے صوبوں کے قیام کی تجویز اس تضاد کو مزید نمایاں کر رہی ہے
حکومت کے اندر موجود ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ غور جاری ہے اور اسے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم سے جوڑا جا رہا ہے،زیر بحث تجاویز میں پنجاب کو تین یونٹس میں تقسیم کرنے، خیبر پختونخوا کو دو انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے اور کراچی و گوادر کے انتظامی مستقبل میں تبدیلی جیسے تصورات بھی شامل بتائے گئے ہیں،تاہم حکومت نے ابھی تک کسی حتمی منصوبے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا
یہاں سے سیاسی مزاحمت کا دوسرا محاذ کھلتا ہے،مولانا فضل الرحمن نے نئے صوبوں کے قیام کو عوامی رضامندی کے بغیر آگے بڑھانے کی مخالفت کی ہے، جبکہ ان کے بقول ملک کی موجودہ صورتحال میں سب سے پہلے آئینی حکمرانی اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے،انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ محض طاقت کے ذریعے پاکستان کے بحران حل نہیں کیے جا سکتے
دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے حالیہ دنوں میں متحدہ اپوزیشن کی تشکیل کی سمت اہم پیش رفت کا اعلان بھی کیا ہےان کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ پارلیمان میں مشترکہ سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے متحدہ محاذ کی طرف بڑھا جائے
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ پیپلز پارٹی، جو وفاقی حکومت کی اتحادی ہے، نے بھی بعض اہم قانون سازی کے معاملات میں اپوزیشن کے ساتھ تعاون کا راستہ اختیار کیا ہے،اس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ حکومت کے اندر بھی ہر معاملے پر پہلے جیسی یکسوئی موجود نہیں رہی
یہاں صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے سامنے آنے والی قیاس آرائی مزید اہم ہو جاتی ہے،اگر واقعی وہ ایوانِ صدر سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں تو یہ محض ایک شخص کے عہدہ چھوڑنے کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ اس سیاسی بندوبست کے اندر پیدا ہونے والی بے چینی کا ایک بڑا اشارہ سمجھا جائے گا۔ تاہم اس مرحلے پر اسے حتمی فیصلہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا،
اسی طرح مسلم لیگ ن کے حوالے سے یہ قیاس آرائیاں کہ وزیراعظم شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھنے کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں، ابھی سیاسی قیاس آرائی سے آگے نہیں بڑھیں۔ لیکن ان قیاس آرائیوں کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ اگر حکومت کی سب سے بڑی جماعت بھی مستقبل کی آئینی تبدیلیوں کے بارے میں تحفظات رکھنے لگے تو موجودہ اقتدار کے اندر طاقت کا توازن ایک بنیادی سوال بن جائے گا
اصل بحران یہی ہے کہ جن لوگوں نے اقتدار کا یہ ڈھانچہ بنانے میں حصہ لیا، اب انہیں اس ڈھانچے میں اپنے لیے بھی جگہ محدود ہوتی محسوس ہو رہی ہے
اس صورت حال کو ایک سیاسی ’’ڈاکٹر کی پرچی‘‘ کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے،اگر سیاسی جماعتوں نے یہ سوچ کر طاقت کے ارتکاز کو قبول کیا کہ اس کا استعمال صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کو کمزور کرنے کے لیے ہوگا، تو اب انہیں یہ سوال خود سے کرنا پڑ رہا ہے کہ طاقت جب ایک مرکز میں جمع ہو جائے تو کیا اس کے استعمال کا رخ ہمیشہ وہی رہتا ہے جس کی توقع ابتدا میں کی گئی تھی؟
سیاسی تاریخ کا تجربہ اس کے برعکس بتاتا ہے،غیر معمولی اختیارات کسی ایک سیاسی شخصیت یا ایک جماعت کے خلاف استعمال ہونے کے بعد ہمیشہ اسی سیاسی مخالف تک محدود نہیں رہتے،وہ ریاستی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر آنے والی حکومتوں، جماعتوں اور اداروں کو بھی اسی طاقت کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے
یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں سوال صرف عمران خان کی سیاسی طاقت کا نہیں رہا،سوال یہ ہے کہ پارلیمان کی طاقت کتنی باقی ہے، سیاسی جماعتوں کی خودمختاری کتنی ہے، آئینی اداروں کا توازن کہاں کھڑا ہے اور ریاستی طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان اصل فیصلہ سازی کس سطح پر ہو رہی ہے؟
نئے صوبوں کی بحث نے اس سوال کو مزید مشکل کر دیا ہے،اگر واقعی پنجاب کو تقسیم کرنے یا ملک میں متعدد نئے انتظامی یونٹس بنانے کی کوشش ہوتی ہے تو یہ صرف انتظامی اصلاح نہیں ہوگی،اس کے ساتھ قومی مالیاتی کمیشن، وسائل کی تقسیم، پانی، معدنیات، سیاسی نمائندگی، سینیٹ کی نشستیں، قومی اسمبلی کی حلقہ بندی اور صوبائی اختیارات سمیت پورا وفاقی ڈھانچہ متاثر ہوگا
آئینی ماہرین کے مطابق صوبائی حدود تبدیل کرنے کے لیے صرف وفاقی پارلیمان کی منظوری کافی نہیں،متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری بھی آئینی طور پر ضروری ہے،اسی لیے نئے صوبوں کا منصوبہ محض حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تنازع نہیں بلکہ ایک پیچیدہ آئینی اور وفاقی مسئلہ بن سکتا ہے، اور صوبائی اسمبلیوں سے یہ اختیار چھیننے کے لیے قومی اسمبلی میں کسی نئی کوشش کا امکان اب تقریباً ناممکن ہوچکا ہے کے جو یہ کام کرسکتے تھے انہوں نے بوتل سے نکلتے جن کو دیکھ لیا ہے
اور پھر راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی نے سیاسی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے،وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی درخواست پر راولپنڈی میں فوج کی تین کمپنیاں چھ ماہ کے لیے ’’حساس سکیورٹی فرائض‘‘ انجام دینے کے لیے تعینات کرنے کی منظوری دی ہے،حکم نامے میں اسے کسی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے اور ضلعی انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق کارروائی کے لیے قرار دیا گیا ہے
یہ تعیناتی ایسے وقت ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے،عمران خان کے قریبی ساتھی ذوالفقار بخاری نے حال ہی میں کہا ہے کہ پارٹی مفاہمت کی بات کر رہی ہے، لیکن ستمبر کا احتجاجی مارچ اپنی جگہ برقرار ہے
بظاہر راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کو براہ راست کسی مخصوص شخص پر حملے کے خدشے یا جی ایچ کیو کی طرف مارچ روکنے کی تیاری قرار دینا فی الحال ثابت شدہ حقیقت نہیں، مگر سرکاری حکم میں حساس سکیورٹی فرائض اور کسی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کی بات کی گئی ہے،تاہم سیاسی حالات، ستمبر کے احتجاج اور راولپنڈی کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اس تعیناتی نے لازماً سیاسی قیاس آرائیوں کو بڑھا دیا ہے
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بارے میں بنیادی تشویش بھی یہی ہے کہ ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے درمیان طاقت کا توازن کس طرف جا رہا ہے،پاکستان کو دیکھنے والے مبصرین کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون سا سیاست دان اگلا قدم اٹھاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ملک میں سیاسی اختلاف کو پارلیمانی اور آئینی عمل کے اندر حل کرنے کی گنجائش برقرار ہے؟
اگر سیاسی جماعتیں، ایک دوسرے کی شدید مخالف ہونے کے باوجود، اب اختیارات کے ارتکاز اور آئینی تبدیلیوں کے معاملے پر ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں اپنے سیاسی مستقبل کے لیے خطرہ اب ایک دوسرے سے کم اور طاقت کے اس ڈھانچے سے زیادہ محسوس ہو رہا ہے جو گزشتہ چند برسوں میں تشکیل پایا ہے، اور جس نے دیکھتے دیکھتے طاقت کے ہر ہر شعبے کو ہی نہیں بلکہ ہر اس کونے کھدرے میں بھی اپنی حاضری یقینی بنادی ہے جہاں سے کوئ ایک آواز بھی لگائ یا سنی جاسکتی ہو
یہی وہ مقام ہے جہاں عمران خان کا معاملہ بھی نئے انداز میں سامنے آتا ہے، اگر حکومت اور مقتدرہ کی حکمت عملی کا ایک مقصد عمران خان کی مقبولیت اور سیاسی اثر کو کم کرنا تھا تو موجودہ صورتحال میں ایک غیر متوقع نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ عمران خان کو سیاسی طور پر ختم کرنے کے بجائے اس کے مخالف سیاسی گروہوں کو بھی اپنے سیاسی وجود کے تحفظ کے لیے اسی سوال پر جمع ہونا پڑے جس پر پی ٹی آئی پہلے سے احتجاج کر رہی ہے،ریاستی طاقت اور سیاسی اختیار کے درمیان حد کہاں ہونی چاہیے؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، پی ٹی آئی اور دوسری جماعتیں اچانک ایک سیاسی نظریے پر متفق ہو گئی ہیں،ان کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں،لیکن اگر اقتدار کے ڈھانچے میں تبدیلیاں ان سب کے سیاسی مفادات کو بیک وقت متاثر کرنے لگیں تو ان کے درمیان ایک محدود مگر طاقتور مشترکہ ایجنڈا پیدا ہو سکتا ہے،پارلیمان کی بالادستی، آئینی عمل کی شفافیت اور سیاسی جماعتوں کی فیصلہ سازی میں خودمختاری
اور یہی موجودہ صورتحال کا سب سے بڑا سیاسی تضاد ہے
جن ترامیم کو کبھی سیاسی استحکام، قومی سلامتی یا ایک مخصوص سیاسی بحران کے حل کے نام پر پیش کیا گیا، اگر وہی ترامیم اب سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہیں، نئے صوبوں کی بحث نے وفاقی اکائیوں کو بے چین کر دیا ہے، متحدہ اپوزیشن تشکیل پا رہی ہے اور راولپنڈی میں سکیورٹی انتظامات بڑھائے جا رہے ہیں تو پھر سوال صرف یہ نہیں کہ کس کے ہاتھ کیا لگا؟
زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کے حصول کے لیے بنائی گئی یہ پوری حکمت عملی اب اپنے ہی بنانے والوں کے لیے سیاسی بند گلی بن چکی ہے؟
اگر ایسا ہے تو پاکستان ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں مقابلہ صرف حکومت اور عمران خان کے درمیان نہیں رہے گا،مقابلہ اس بات پر ہوگا کہ پاکستان کا آئندہ سیاسی نظام کس اصول پر چلے گا،طاقت کے ارتکاز پر، یا پارلیمان، سیاسی جماعتوں، صوبوں اور عوامی مینڈیٹ کے درمیان دوبارہ توازن قائم کرنے پر؟
اور اگر آنے والے ہفتوں میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی، پی ٹی آئی اور دوسری سیاسی قوتیں کسی محدود مشترکہ آئینی مؤقف پر واقعی جمع ہو جاتی ہیں تو یہ محض ایک نئی اپوزیشن نہیں ہوگی،یہ گزشتہ چند برسوں میں بننے والے پورے سیاسی بندوبست کے خلاف ایک غیر معمولی سیاسی ردعمل ہوگا،یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں یہ فیصلہ ہونا شروع ہوگا کہ پاکستان میں طاقت کا موجودہ توازن مستحکم رہتا ہے یا سیاسی قوتیں اسے دوبارہ پارلیمانی راستے پر لانے کے لیے متحد ہو جاتی ہیں





