“ٹورنٹو یونیورسٹی کے سات اساتذہ نئی ایجادات پر ڈیرک روسی ایوارڈ سے نوازے گئے
ٹورنٹو: ٹورنٹو یونیورسٹی کے سات اساتذہ اور محققین کو 2026 کے ڈیرک روسی ایجاد ایوارڈز کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے یہ ایوارڈ ایسی نئی تحقیق اور ایجادات کے لیے دیا جاتا ہے جن میں مستقبل میں صحت، ماحول، صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں عملی فائدہ پہنچانے کی صلاحیت ہو
اس سال منتخب ہونے والے ساتوں منصوبوں کو تحقیق کو تجربہ گاہ سے نکال کر عملی استعمال تک پہنچانے کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی ہر منصوبے کے لیے دو سال تک 300,000 ڈالر تک کی معاونت دستیاب ہے
ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں اوفر بیرن شامل ہیں، جو صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایسے خودکار کمپیوٹر ماڈلز تیار کر رہے ہیں جو ہسپتالوں میں مریضوں کی آمد و رفت، وسائل کے استعمال اور مختلف طبی سہولیات کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں
رونالڈ کلوگر انسانی اعضا کو جسم سے باہر محفوظ رکھنے کے لیے بہتر آکسیجن فراہم کرنے والے مادوں پر تحقیق کر رہے ہیں اس تحقیق سے مستقبل میں پیوند کاری کے لیے اعضا کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے
سنڈی مورشیڈ فالج کے بعد دماغ اور اعصابی نظام کی بحالی کے امکانات بہتر بنانے کے لیے جینیاتی علاج پر کام کر رہی ہیں ان کی تحقیق کا مقصد دماغ کے متاثرہ حصوں کی بحالی میں مدد دینے والے نئے طریقے تیار کرنا ہے
ڈیوڈ سنٹن اور ان کی ٹیم اہم معدنیات کو زیادہ ماحول دوست طریقے سے حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ان کی تحقیق میں کان کنی کے فضلے اور معدنی ذخائر سے قیمتی معدنیات حاصل کرنے کے ایسے طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں جن سے فضلہ اور ماحولیاتی نقصان کم کیا جا سکے
ژاؤ یو، جنہیں شرلی وو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، خون میں شکر کی مقدار کے مطابق دوا پہنچانے والے ایک خاص طبی پیچ پر کام کر رہی ہیں۔ اس میں انتہائی باریک سوئیوں کے ذریعے دوا جسم تک پہنچانے کی ٹیکنالوجی شامل ہے، جسے طبی آزمائشوں اور مستقبل میں علاج کے لیے استعمال کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے
نِنگ یان لکڑی سے حاصل ہونے والے لِگنن کو استعمال کرتے ہوئے ماحول دوست آگ روکنے والے مادے کی تیاری پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اس ایجاد کا مقصد ایسے مواد تیار کرنا ہے جو آگ کے خلاف زیادہ محفوظ ہونے کے ساتھ ماحول کے لیے بھی نسبتاً بہتر ہوں
ساتویں ایوارڈ یافتہ ڈِنگ یوان ہیں، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسا نظام تیار کر رہے ہیں جو پیچیدہ برقی اور کمپیوٹر نظاموں میں خرابیوں کی خودکار نشاندہی کر سکے اور ممکنہ حل بھی تجویز کرے
یہ ایوارڈ ٹورنٹو یونیورسٹی سے وابستہ سابق طالب علم اور موڈرنا کے شریک بانی ڈیرک روسی کے نام پر قائم کیا گیا ہے اس کا مقصد ایسی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو صرف علمی سطح تک محدود نہ رہے بلکہ مستقبل میں حقیقی زندگی کے مسائل حل کرنے میں مدد دے
یونیورسٹی کے مطابق اس سال منتخب کیے گئے منصوبوں میں طبی علاج، ہسپتالوں کی کارکردگی، انسانی اعضا کی پیوند کاری، اہم معدنیات، ماحول دوست مواد اور مصنوعی ذہانت جیسے مختلف شعبے شامل ہیں
ان ساتوں منصوبوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت سے محققین کو اپنی ابتدائی تحقیق کو مزید آگے بڑھانے، عملی نمونے تیار کرنے اور مستقبل میں ان ایجادات کو عام استعمال کے قابل بنانے میں مدد ملے گی





