طاقت کے ارتکاز کے باوجود ریاستی گرفت کمزور، پاکستان میں سیاسی، معاشی اور سماجی انتشار انارکی کی دہلیز تک پہنچ گیا

طاقت کے ارتکاز کے باوجود ریاستی گرفت کمزور، پاکستان میں سیاسی، معاشی اور سماجی انتشار انارکی کی دہلیز تک پہنچ گیا

پاکستان میں اس وقت ایک ایسا تضاد جنم لے چکا ہے جو کسی بھی ریاست کے لیے انتہائی تشویش ناک علامت سمجھا جاتا ہے،ایک طرف ریاستی طاقت کو زیادہ سے زیادہ مرکزیت دی جا رہی ہے، فوجی کمان کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کے ذریعے اختیارات کا ارتکاز بڑھایا جا رہا ہے اور سیاسی و انتظامی سطح پر ریاست اپنی گرفت مضبوط دکھانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے، مگر دوسری طرف اسی ریاست کو راولپنڈی جیسے حساس شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج تعینات کرنا پڑ رہی ہے
وفاقی حکومت نے 21 اگست کو آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں فوج کی 3 کمپنیاں 6 ماہ کے لیے ’’حساس سکیورٹی ذمہ داریوں‘‘ پر تعینات کرنے کی منظوری دی،سرکاری جواز کسی ممکنہ ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنا اور ضلعی انتظامیہ کی مدد کرنا بتایا گیا ہے
یہ فیصلہ اپنے اندر ایک بڑا سوال لیے ہوئے ہے،اگر ریاست اپنی طاقت اور کمان کو مسلسل مرکز میں مجتمع کر رہی ہے تو پھر اسے اپنے ہی طاقت کے مراکز کے شہر میں اضافی فوجی نفری کیوں درکار ہو رہی ہے؟ یہی تضاد پاکستان کے موجودہ بحران کی اصل تصویر ہے،طاقت کا ارتکاز اور ریاستی رٹ ایک ہی چیز نہیں ہوتے،ریاستی رٹ اس وقت قائم ہوتی ہے جب قانون بلاامتیاز نافذ ہو، اداروں پر عوام کا اعتماد ہو اور ریاست اپنے شہریوں کو سیاسی، معاشی اور قانونی تحفظ فراہم کر سکے
اسی تضاد کی تازہ مثال عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا تنازعہ بن گیا ہے،سپریم کورٹ نے 18 اگست کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور ایسے طبی بورڈ کے ذریعے ان کا معائنہ کیا جائے جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان ، اور عمران خان کی بہن ڈاکٹر اعظمی خان بھی شامل ہوں
لیکن حکومت نے اس حکم پر عمل کرنے کے بجائے انہیں پمز منتقل کیا، جہاں مختصر طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا،حکومت کا موقف ہے کہ سکیورٹی صورت حال کے باعث آخری وقت میں مقام تبدیل کرنا پڑا اور یہ فیصلہ سکیورٹی اداروں نے کیا، سیاسی بنیاد پر نہیں
دوسری طرف تحریک انصاف اور عمران خان کے خاندان نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے،درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شفا ہسپتال منتقل نہ کرنے کے علاوہ طبی بورڈ اور ذاتی معالج سے متعلق عدالتی ہدایات بھی پوری نہیں کی گئیں، کچھ ذرائع اس تمام کہانی میں حکومت اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پہلی کھلی کشیدگی تلاش کرتے نظر آتے ہوئے برملا کہتے ہیں ، عمران خان کو عدالتی ریلیف اسٹیلشمنٹ کی مرضی سے ملا جسے حکومت نے اپنی سیاسی ضرورتوں اور مخاصمت کے باعث ناکام بنا دیا
یہاں اصل مسئلہ عمران خان یا ریاستی اسٹیبلشمنٹ کی رضا کا نہیں بلکہ عدالتی حکم کی ریاستی حیثیت ہے،اگر ایک حکومت سپریم کورٹ کے حکم کو سکیورٹی کے جواز پر تبدیل کر سکتی ہے تو سوال صرف ایک سیاسی قیدی کے حقوق کا نہیں رہتا، بلکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاست میں آخری اختیار قانون کا ہے، عدالت کا ہے یا انتظامی و سکیورٹی اداروں کا؟
اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران محض حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کشمکش نہیں رہتا بلکہ ریاستی اداروں کے باہمی اختیار اور آئینی توازن کا مسئلہ بن جاتا ہے
اس کے ساتھ ہی ایک اور تلخ حقیقت سامنے آ رہی ہے،پاکستان میں طاقت کے مرکز کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے باوجود ریاست کے بعض حصوں میں انتظامی رٹ کمزور ہونے کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں،مولانا فضل الرحمان سمیت مختلف سیاسی حلقے خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں حکومت کی رٹ، پولیس کی چین اینڈ کمان ٹوٹنے سے لیکر پولیس کی بغاوت انکی کمیٹیاں بننے کی کہانیوں کے ساتھ شدت پسند گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر سوال اٹھا رہے ہیں،ان دعوؤں کی آزادانہ اور مکمل تصدیق ہر علاقے کے لیے الگ ضروری ہے، لیکن اگر ایک صوبے کے بارے میں بار بار یہ شکایات سامنے آ رہی ہوں کہ مسلح گروہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ فوج کو چیلنج کر رہے ہیں اور انتظامیہ کا ایک حصہ پولیس فوج پر بد اعتمادی کا اظہار کررہا ہے تو اسے محض سیاسی بیان کہہ کر نظرانداز کرنا بھی ریاست کے لیے انتہائ خطرناک ہو سکتا ہے
بلوچستان کی صورت حال بھی اسی بڑے بحران کا دوسرا رخ ہے، جہاں شورش، دہشت گردی اور سکیورٹی کے مسائل نے ریاستی اداروں کے لیے کئی علاقوں میں مستقل چیلنج پیدا کر رکھا ہے، بتایا جارہا ہے صوبے کے بڑے شہروں کو بچانے کے لیے انکے گرد کھدائ کرکے فوج مورچہ بند ہے تاکہ ضلعی ہیڈ کواٹر اور دیگر ریاستی تنصیبات کو بچایا جاسکے جبکہ گاؤں دیہات میدان پہاڑ سب باغیوں کے قبضے میں جاچکے ہیں یوں ملک کے ایک حصے میں ریاست کو سیاسی مزاحمت کا سامنا ہے، دوسرے حصے میں مسلح شورش کا اور تیسرے حصے میں بڑھتی ہوئی معاشی بے یقینی اور سیاسی بے چینی کا
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کے ذریعے سیاسی استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے؟
تاریخ کا جواب نفی میں ہے
طاقت وقتی طور پر احتجاج کو روک سکتی ہے، سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر سکتی ہے، راستے بند کر سکتی ہے، جلسے محدود کر سکتی ہے اور مخالف سیاسی جماعت کو دباؤ میں لا سکتی ہے، لیکن طاقت روزگار پیدا نہیں کرتی، معیشت بحال نہیں کرتی، سرمایہ کاری نہیں لاتی، نوجوانوں کو مستقبل کی ضمانت نہیں دیتی اور عوام کے دل میں ریاستی اداروں کے لیے اعتماد پیدا نہیں کرتی
پاکستان کے موجودہ بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ سیاسی نظام، معیشت، امن و امان اور ادارہ جاتی اعتماد بیک وقت شدید دباؤ میں ہی نہیں دور سے ٹوٹتے بکھرتے صاف دیکھے جاسکتے ہیں ، ایک طرف دہشت گردی اور شورش ہے، دوسری طرف سیاسی محاذ آرائی، تیسری طرف معاشی مشکلات اور چوتھی طرف ریاستی اداروں کے اختیارات اور حدود پر بڑھتا ہوا تنازع
تحریک انصاف کی جانب سے ستمبر میں احتجاج اور لانگ مارچ کی کال نے اس بحران کو مزید سیاسی درجہ دے دیا ہے،عمران خان کے ہسپتال تنازعہ کے بعد خود تحریک انصاف بھی یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ احتجاجی تحریک مزید تیز ہو سکتی ہے، ملک کے سیاسی سماجی تجزیہ نگار اتفاق رائے سے کہتے نظر آتے ہیں ، موجودہ تنازعہ ستمبر 27 کے مجوزہ احتجاج کو مزید تقویت دے سکتا ہے
یہ صورت حال حکومت کے لیے بھی ایک سنگین امتحان ہے، اگر حکومت ہر سیاسی چیلنج کا جواب مزید طاقت، مزید پابندیوں اور مزید انتظامی اقدامات سے دیتی ہے تو ممکن ہے کہ وقتی طور پر سڑکیں خاموش ہو جائیں، لیکن سیاسی بحران ختم نہیں ہوگا،وہ صرف زیرِ زمین چلا جائے گا اور پھر کسی بڑے واقعے کے بعد پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئے گا
اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ طاقت کا مزید ارتکاز نہیں بلکہ ریاستی اختیار کی آئینی وضاحت، سیاسی مفاہمت، عدالتی آزادی، قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے
ریاست عوام کے بغیر مکمل ریاست نہیں ہوتی،ریاست کی طاقت کا اصل سرچشمہ اس کی فوج، پولیس، قوانین یا انتظامیہ نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے،جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کے بنیادی حقوق، ووٹ، روزگار، تعلیم، صحت اور سیاسی آواز ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں تو ریاست بظاہر طاقتور ہوتے ہوئے بھی اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے
پاکستان آج اسی خطرناک مقام کے قریب کھڑا دکھائی دیتا ہے
ایک طرف فوجی اور ریاستی طاقت کے ارتکاز کی کوشش ہے، دوسری طرف سیاسی نظام میں اعتماد کا بحران،ایک طرف عدالتیں آئینی اختیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، دوسری طرف ان کے احکامات پر عمل درآمد کے سوالات اٹھ رہے ہیں،ایک طرف راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی ہے، دوسری طرف خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ریاستی رٹ کے بارے میں سنگین دعوے ہیں، ایک طرف حکومت سیاسی کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، دوسری طرف سیاسی احتجاج مزید پھیلنے کے امکانات موجود ہیں
یہ صورتحال محض سیاسی بحران نہیں رہی،یہ سوشیو پولیٹیکل، معاشی اور ریاستی بحران کا مجموعہ بن چکی ہے
اور اگر اس بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے ہر نئے مسئلے کا جواب طاقت کے ایک نئے مظاہرے سے دیا جاتا رہا تو پاکستان میں انتشار صرف بڑھے گا ہی نہیں بلکہ وہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں ریاست کے پاس طاقت تو بہت ہوگی، مگر اسے استعمال کرنے کے لیے مستحکم سیاسی اور عوامی بنیاد کم سے کم رہ جائے گی
یہی پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، ریاست طاقتور دکھائی دے، مگر معاشرہ اس کے قابو سے باہر ہوتا جائے

قومی خبریں سے مزید