راولپنڈی میں 6 ماہ کے لیے فوج کی تعیناتی، کیا حکومت کو اڈیالہ جیل سے جی ایچ کیو تک کسی بڑے تصادم کا خوف ہے؟

راولپنڈی میں 6 ماہ کے لیے فوج کی تعیناتی، کیا حکومت کو اڈیالہ جیل سے جی ایچ کیو تک کسی بڑے تصادم کا خوف ہے؟

راولپنڈی میں پاک فوج کی 3 کمپنیوں کو 6 ماہ کے لیے تعینات کرنے کی وفاقی حکومت کی منظوری نے ایک انتہائی اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر شہر میں ایسا کیا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جس کے لیے معمول کی پولیس اور انتظامیہ کے بجائے فوج کو میدان میں اتارنے کی ضرورت پیش آئی؟
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب راولپنڈی کا اڈیالہ جیل ایک مرتبہ پھر پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے،عمران خان کی صحت کے بارے میں گزشتہ دنوں ایسی سنسنی خیز اطلاعات پھیلیں کہ وہ جیل میں زندہ نہیں رہے،امریکا میں ایک پاکستانی ویلاگر نے فوجی ذرائع سے منسوب دعوے میں کہا کہ جی ایچ کیو کے 3 سینئر افسران کو خدشہ ہے کہ عمران خان شاید ’’اب ہمارے درمیان نہیں رہے‘‘۔ اس دعوے نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی، اور اسی دوران بتایا گیا تحریک انصاف کے ایک مسلح کارکن جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کی کوشش میں اس وقت مارا گیا جب اس نے جی ایچ کیو پر حملہ کرتے ہوئے کئی جوانوں کو زخمی تو ایک جوان کو جان سے مار دیاتھا ، مرنے والے سے تحریک انصاف نے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف شدید ردعمل بھی دیا تھا ، اور بعد میں صحافی نے اپنے ابتدائی دعوے کی وضاحت بھی کی
معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا،سپریم کورٹ نے عمران خان کی بگڑتی صحت کے پیش نظر انہیں نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، لیکن حکومت نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سرکاری اسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا،21 اگست کو طبی معائنے کے بعد عمران خان کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا،تحریک انصاف اب اس معاملے پر حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے سپریم کورٹ پہنچ چکی ہے
یہ تمام واقعات اسی راولپنڈی میں ہو رہے ہیں جہاں اڈیالہ جیل بھی ہے اور جی ایچ کیو بھی
یہی وہ پس منظر ہے جو فوج کی 6 ماہ کی تعیناتی کو محض ایک معمول کا سکیورٹی انتظام سمجھنے سے بڑا سوال بنا دیتا ہے
9 مئی 2023 کے واقعات میں جی ایچ کیو پر تحریک انصاف کے کارکنوں کے حملے نے ریاستی اداروں کے ذہن میں ایک انتہائی حساس مثال پہلے ہی قائم کر دی تھی،اس کے بعد جب بھی عمران خان کی گرفتاری، صحت یا جیل میں موجودگی کے حوالے سے کوئی بڑی خبر سامنے آتی ہے، اڈیالہ جیل کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں کا اجتماع اور احتجاج فوری طور پر سکیورٹی کا مسئلہ بن جاتا ہے
آج صورتحال پہلے سے بھی زیادہ حساس ہے،عمران خان تقریباً 3 سال سے اڈیالہ جیل میں ہیں، ان کی صحت کے بارے میں مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں، خاندان اور تحریک انصاف کو ان تک رسائی کے معاملے پر حکومت سے شدید اختلاف ہے، اور ان کی زندگی کے بارے میں ایک ایسی خبر بھی سامنے آ چکی ہے جس نے چند گھنٹوں میں ملک بھر میں سیاسی اضطراب پیدا کر دیا تھا
ایسے ماحول میں حکومت کی جانب سے راولپنڈی میں فوج کی 3 کمپنیوں کو 6 ماہ کے لیے تعینات کرنا اس بات کا اشارہ سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومت کسی اچانک سیاسی ہنگامے، بڑے احتجاج یا حساس تنصیبات کو خطرے میں ڈالنے والی صورتحال کے لیے پہلے سے حفاظتی حصار قائم کرنا چاہتی ہے
اصل تشویش شاید یہ نہیں کہ آج راولپنڈی میں کوئی بڑا واقعہ ہو چکا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر اڈیالہ جیل سے عمران خان کے بارے میں کوئی ایسی خبر آ گئی جس نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں نکال دیا تو کیا ہوگا؟
اور اس سوال کا اگلا حصہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے،اگر ایسا ہجوم اڈیالہ جیل سے نکل کر جی ایچ کیو یا کسی دوسری حساس فوجی تنصیب کی طرف بڑھ گیا تو؟
9 مئی کا تجربہ ریاست کے سامنے موجود ہے،اس لیے ممکن ہے کہ حکومت اس مرتبہ واقعہ ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی راولپنڈی میں فوج کی موجودگی بڑھا رہی ہو
خاص طور پر اس وقت جب عمران خان کی صحت کا معاملہ دوبارہ سیاسی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے، ان کے خاندان اور تحریک انصاف کی حکومت سے محاذ آرائی بڑھ رہی ہے اور عدالت کے احکامات پر عملدرآمد بھی تنازع بن چکا ہے،حکومت خود بھی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے میں ’’سکیورٹی خدشات‘‘ کو وجہ قرار دے چکی ہے
یوں کہا جاسکتا ہے راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کا اصل مطلب شاید ابھی سرکاری نوٹیفکیشن کے الفاظ میں نہ لکھا گیا ہو، لیکن موجودہ حالات میں اس فیصلے کو اڈیالہ جیل، عمران خان کی صحت، تحریک انصاف کی ممکنہ احتجاجی تحریک اور جی ایچ کیو کی حساسیت سے الگ کر کے دیکھنا مشکل ہے
سب سے بڑا سوال اب یہی ہے کہ کیا حکومت کو کسی ایسے ممکنہ ردعمل کا خوف ہے جس کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہو اور جس کا رخ دوبارہ جی ایچ کیو کی طرف مڑ سکتا ہے؟
اگر جواب نہیں ہے تو 6 ماہ کے لیے فوج کی 3 کمپنیوں کی تعیناتی کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی؟
اور اگر جواب ہاں ہے تو حکومت قوم کو یہ بتانے سے گریز کیوں کر رہی ہے کہ راولپنڈی میں اصل خطرہ کیا ہے؟

قومی خبریں سے مزید