بھارت میں مسلم مردوں کی ایک سے زائد شادی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

بھارت میں مسلم مردوں کی ایک سے زائد شادی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

بھارت میں مسلم پرسنل لا کے تحت ایک سے زائد شادی کی اجازت کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے، جس کے بعد یہ اہم آئینی سوال ایک مرتبہ پھر عدالت عظمیٰ کے سامنے آ گیا ہے کہ کیا مسلم مردوں کو ایک سے زائد شادی کی قانونی اجازت حاصل رہنی چاہیے یا اسے بھی غیر آئینی قرار دے کر ختم کیا جانا چاہیے
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے مسلم مردوں کی تعددِ ازدواج کے خلاف دائر درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور اسے پہلے سے زیر سماعت متعلقہ مقدمات کے ساتھ منسلک کردیا۔،درخواست میں مسلم پرسنل لا کے تحت تعددِ ازدواج کی قانونی حیثیت کو آئین کی مساوات اور بنیادی حقوق کی دفعات کے خلاف قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے
درخواست گزاروں کا بنیادی مؤقف ہے کہ بھارت کے موجودہ فوجداری قانون، بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 82، عام طور پر ایک شادی برقرار ہونے کے دوران دوسری شادی کو جرم قرار دیتی ہے، جس کی سزا 7 سال تک قید ہوسکتی ہے، لیکن مسلم پرسنل لا کے باعث مسلم مردوں کو اس پابندی سے استثنا حاصل ہے،درخواست گزاروں کے مطابق یہ قانونی فرق مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور آئین کی دفعات 14، 15 اور 21 سے متصادم ہے
یہ معاملہ تقریباً 9 سال بعد دوبارہ اہمیت اختیار کر رہا ہے جب سپریم کورٹ نے 2017 میں فوری تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا تھا،تاہم اس وقت عدالت نے تعددِ ازدواج اور نکاحِ حلالہ کی آئینی حیثیت پر فیصلہ نہیں دیا تھا،اب نئی درخواست کے ذریعے عدالت کے سامنے یہ سوال دوبارہ موجود ہے کہ کیا مسلم پرسنل لا کی وہ شقیں جو ایک سے زیادہ شادی کی اجازت دیتی ہیں، آئینی مساوات کے معیار پر پوری اترتی ہیں
درخواست میں عدالت سے صرف مسلم مردوں کے لیے تعددِ ازدواج ختم کرنے کی استدعا نہیں کی گئی بلکہ پارلیمنٹ کو تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون بنانے کے اقدامات کی ہدایت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے،اس پہلو کی وجہ سے مقدمہ صرف مسلم پرسنل لا تک محدود نہیں رہتا بلکہ بھارت میں یکساں عائلی قوانین کے وسیع تر سوال سے بھی جڑ جاتا ہے
اس معاملے میں ایک اہم قانونی نکتہ یہ بھی ہے کہ بھارت میں مسلم پرسنل لا کے تحت مسلمان مرد کو عام طور پر بیک وقت 4 تک شادیاں کرنے کی اجازت حاصل سمجھی جاتی ہے،رواں سال جولائی میں پٹنہ ہائی کورٹ نے بھی ایک مقدمے میں قرار دیا تھا کہ مسلم پرسنل لا تعددِ ازدواج کی اجازت دیتا ہے اور اسی وجہ سے مسلم مرد کی دوسری شادی محض پہلی شادی برقرار ہونے کی بنیاد پر عام دو شادیوں کے قانون کے تحت کالعدم نہیں ہوجاتی
سپریم کورٹ کے سامنے اب بنیادی کشمکش دو آئینی اصولوں کے درمیان ہے،ایک طرف مساوات، خواتین کے حقوق اور قانون کے یکساں اطلاق کا مطالبہ ہے، جبکہ دوسری طرف مذہبی آزادی اور مختلف مذاہب کے پرسنل لاز کے تحفظ کا سوال ہے،عدالت کو یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ مذہبی پرسنل لا کو بنیادی حقوق کے آئینی معیار پر کس حد تک پرکھا جاسکتا ہے
یہ مقدمہ بھارت میں یکساں سول کوڈ کی جاری بحث سے بھی براہ راست جڑتا ہے،رواں سال سپریم کورٹ کے ایک دوسرے مقدمے میں چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے کہا تھا کہ شادی، وراثت اور جائیداد کے معاملات میں خواتین کے ساتھ موجود قانونی امتیاز ختم کرنے کے لیے یکساں سول کوڈ ایک مؤثر راستہ ہوسکتا ہے
تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سپریم کورٹ تعددِ ازدواج پر پابندی عائد کرنے جا رہی ہے،موجودہ مرحلے پر عدالت نے صرف مرکزی حکومت کا مؤقف طلب کیا ہے اور معاملہ حتمی فیصلے کے مرحلے تک نہیں پہنچا،اصل فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ عدالت مذہبی آزادی اور مساوات کے آئینی حقوق میں کس طرح توازن قائم کرتی ہے
اگر عدالت نے مسلم پرسنل لا کے تحت تعددِ ازدواج کو غیر آئینی قرار دیا تو اس کا اثر صرف مسلم خاندانی قوانین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بھارت میں مذہب کی بنیاد پر مختلف پرسنل لاز کے مستقبل اور یکساں سول کوڈ کی بحث پر بھی اس کے گہرے سیاسی اور قانونی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید