امریکا کو بم نہیں سفارت کاری درکار ہے، فلسطینی و ایرانی بچے بھی احترام کے مستحق ہیں ، پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے: سینیٹر کوری بُوکر کا ڈاکٹر اعجاز احمد کی تشہیری کمپنی کی تقریب سے خطاب

امریکا کو بم نہیں سفارت کاری درکار ہے، فلسطینی و ایرانی بچے بھی احترام کے مستحق ہیں ، پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے: سینیٹر کوری بُوکر کا ڈاکٹر اعجاز احمد کی تشہیری کمپنی کی تقریب سے خطاب

نیویارک میں اے پی پیک کی جانب سے پاکستان کے یوم آزادی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُوکر نے امریکا کی خارجہ پالیسی میں جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحرانوں کا حل بمباری نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے، جبکہ پاکستان پورے خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے
نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کوری بُوکر نے اے پی پیک کے مالک نما چییرمین ڈاکٹر اعجاز احمد کے گھر واقع ویسٹبری میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کو جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مکالمے کو ترجیح دینی چاہیے،انہوں نے فلسطین اور ایران میں جاری بحران کے تناظر میں انسانی جانوں کے تحفظ کو بنیادی اہمیت قرار دیا
سینیٹر بُوکر نے کہا کہ خدا نے ہر انسان کو پیدا کیا ہے، اس لیے انسانی زندگی کی قدر صرف امریکی بچوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ فلسطینی اور ایرانی بچے بھی اسی احترام اور تحفظ کے مستحق ہیں،ان کے مطابق جب کہیں انسانی المیہ جنم لے رہا ہو تو خاموش رہنا مناسب نہیں، اور وہ فلسطین اور ایران میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے
انہوں نے خاص طور پر پاکستان کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اپنا اثر استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے،ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطے پیدا کرنے کے لیے سفارت کاری کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں
بُوکر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور فلسطین کے حوالے سے امریکی پالیسی پر شدید بحث جاری ہے اور مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارتی راستے کی حمایت کرنے والی آوازیں بھی امریکی سیاسی حلقوں میں نمایاں ہو رہی ہیں،ان کے خطاب کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کو محض امریکا کا علاقائی شراکت دار قرار دینے کے بجائے امن کے عمل میں ممکنہ کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا
تقریب میں سینیٹر بُوکر نے امریکا میں پاکستانی نژاد شہریوں کی سیاسی اور سماجی اہمیت پر بھی بات کی،انہوں نے کہا کہ پاکستانی امریکیوں کی کامیابی دراصل امریکا کی کامیابی ہے اور کمیونٹی کی آواز امریکی سیاسی نظام میں مزید مضبوط اور مؤثر ہونی چاہیے،انہوں نے طب، انجینئرنگ، کاروبار، عوامی خدمت اور دیگر شعبوں میں پاکستانی امریکیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمیونٹی امریکی معاشرے اور معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے
انہوں نے امریکا اور پاکستان کے تعلقات کو بھی تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پاکستان کے قیام کے ابتدائی دور ہی سے موجود ہیں،ان کے مطابق پاکستانی امریکی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں
بُوکر نے امریکا میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اور اسلاموفوبیا کو بھی امریکی معاشرے کے لیے مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مسلمان کو صرف اس کی شناخت یا مذہب کی بنیاد پر تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ صرف مسلمان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے امریکا کا مسئلہ ہے،انہوں نے اس حوالے سے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور امتیازی سلوک کے سدباب کے لیے اپنی قانون سازی کی کوششوں کا ذکر بھی کیا ،تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد امریکا اور پاکستان کے قومی ترانے پیش کیے گئے،کمیٹی کے چیئرمین اور مالک ڈاکٹر اعجاز احمد نے سینیٹر بُوکر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگست پاکستانیوں کے لیے آزادی، انصاف، مساوات اور جمہوری اقدار کی تجدید کا مہینہ ہے
ڈاکٹر اعجاز احمد اور کمیٹی کے نمائشی عہدیداروں نے بھی تقریب سے خطاب کیا، جس میں پاکستانی امریکین کمیونٹی کے سیاسی اور سماجی کردار، امریکی معاشرے میں ان کی بڑھتی ہوئی نمائندگی اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات پر گفتگو کی گئی

قومی خبریں سے مزید