جنگ کے اصل مالی فائدہ اٹھانے والے کون ہیں؟

جنگ کے اصل مالی فائدہ اٹھانے والے کون ہیں؟

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کو عام طور پر اس سوال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ فوجی اور سیاسی طور پر کامیابی کس فریق کو حاصل ہوئی، لیکن جنگ کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے جدید جنگیں صرف جانی و مالی نقصان نہیں کرتیں بلکہ بعض صنعتوں کے لیے بڑے کاروباری مواقع بھی پیدا کرتی ہیں
امریکا اور ایران دونوں کو اس تنازع کے باعث فوجی اخراجات، معاشی نقصان اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم دفاعی صنعت، توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی بحری نقل و حمل سے وابستہ بعض کمپنیوں نے جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے یقینی سے نمایاں مالی فائدہ اٹھایا
دفاعی صنعت کو اس جنگ کا سب سے نمایاں مالی فائدہ اٹھانے والا شعبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جنگ کے دوران میزائل، ڈرون، میزائل شکن نظام، درست نشانے والے ہتھیار اور دیگر فوجی سازوسامان بڑی تعداد میں استعمال ہوتے ہیں استعمال ہونے والے ہر میزائل اور ختم ہونے والے ہر ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کے لیے نئے معاہدوں اور خریداری کی ضرورت پڑتی ہے
امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 1.8 ارب ڈالر منافع حاصل کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ منافع 342 ملین ڈالر تھا۔ کمپنی کی فروخت 11 فیصد اضافے کے ساتھ 20.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ اس کے زیر تکمیل آرڈرز کا حجم ریکارڈ 230 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ میزائل اور فائر کنٹرول کے شعبے کی فروخت میں بھی 19 فیصد اضافہ ہوا
اسی طرح ریتھیون کی مالک کمپنی آر ٹی ایکس کی دوسری سہ ماہی کی خالص آمدنی 2.139 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.657 ارب ڈالر تھی ریتھیون کے میزائل شکن اور دیگر دفاعی نظاموں کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا
جنگ طویل ہونے کی صورت میں دفاعی کمپنیوں کو صرف فوری ہتھیاروں کی فروخت سے ہی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ فوجی ذخائر دوبارہ بھرنے کے لیے کئی سال تک نئے معاہدے جاری رہ سکتے ہیں اس طرح مسلسل کشیدگی دفاعی صنعت کے لیے طویل مدتی کاروباری مواقع پیدا کرتی ہے
توانائی کا شعبہ بھی جنگ سے مالی فائدہ اٹھانے والوں میں شامل رہا۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں قیمتوں اور اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا، جس سے بعض بڑی تیل کمپنیوں، ریفائنریوں اور اجناس کی تجارت کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ پہنچا
ایکسون موبل کی 2026 کی دوسری سہ ماہی میں خالص آمدنی 14.5 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 7.08 ارب ڈالر تھی، یعنی تقریباً 105 فیصد اضافہ ہوا۔ شیل کی دوسری سہ ماہی کا منافع بھی گزشتہ سال کے 4.26 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 9.84 ارب ڈالر ہوگیا۔ برٹش پیٹرولیم کا منافع بھی 2.34 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
جنگ سے فائدہ اٹھانے والے شعبوں میں اب صرف ہتھیار بنانے والی کمپنیاں شامل نہیں۔ مصنوعی ذہانت، بادل پر مبنی کمپیوٹنگ، سیٹلائٹ معلومات، سائبر تحفظ اور میدان جنگ کے فوری تجزیے سے وابستہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی فوجی ضروریات کے باعث تیزی سے اہم ہو رہی ہیں
پالانٹیر ٹیکنالوجیز نے 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 1.94 ارب ڈالر آمدنی حاصل کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 93 فیصد زیادہ تھی۔ امریکی حکومت سے حاصل ہونے والی کمپنی کی آمدنی بھی 90 فیصد اضافے کے ساتھ 809 ملین ڈالر تک پہنچ گئی
مائیکروسافٹ کو امریکی فوج اور خفیہ اداروں کے لیے اپنی خدمات، بادل پر مبنی سہولیات اور دیگر نظام فراہم کرنے کے لیے پانچ سالہ 9.69 ارب ڈالر کا معاہدہ بھی ملا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جنگ میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے
عالمی بحری نقل و حمل کا شعبہ بھی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے متاثر ہوا۔ آبنائے ہرمز میں آمدورفت میں رکاوٹوں اور راستوں میں تبدیلی کے باعث بحری جہازوں کے کرایوں اور تیل بردار جہازوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا، جس سے بعض بحری کمپنیوں کو غیر معمولی مالی فائدہ حاصل ہوا
جنگ سے کچھ کم نمایاں شعبے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں، جن میں دفاعی مشاورت، جغرافیائی سیاسی خطرات کا تجزیہ، خفیہ معلومات کی خدمات، نجی حفاظتی ادارے اور جنگی حالات پر معلومات فراہم کرنے والے ڈیجیٹل ذرائع شامل ہیں
یہ صورتحال ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے کہ اگر طویل جنگ بعض صنعتوں کے لیے غیر معمولی منافع کا باعث بنتی ہے تو کیا ان صنعتوں کے لیے جنگ کا خاتمہ اتنا ہی فائدہ مند ہوتا ہے جتنا مسلسل کشیدگی کا جاری رہنا؟ جدید جنگ کی سیاسی معیشت کا یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ جنگ کے نقصانات ایک طرف ہوتے ہیں جبکہ اس کے مالی فائدے بعض مخصوص شعبوں اور کمپنیوں تک محدود ہو سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید