ہارورڈ یونیورسٹی پہلے جیسی نہیں رہی، امریکی وزیر ٹرانسپورٹ کا بیٹی کو وہاں نہ بھیجنے کا مشورہ موضوعِ بحث بن گیا

ہارورڈ یونیورسٹی پہلے جیسی نہیں رہی، امریکی وزیر ٹرانسپورٹ کا بیٹی کو وہاں نہ بھیجنے کا مشورہ موضوعِ بحث بن گیا

امریکی وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی کی جانب سے اپنی بیٹی کو ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کے مشورے نے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم، جامعات میں نظریاتی تقسیم اور تعلیمی اداروں کے بدلتے ہوئے ماحول پر نئی بحث چھیڑ دی ہے
شان ڈفی کا مؤقف ہے کہ ہارورڈ، جو کبھی دنیا کی بہترین جامعات میں شمار ہوتی تھی، اب پہلے جیسا ادارہ نہیں رہا،ان کے خیال میں یونیورسٹی میں ایسے نظریات اور پالیسیوں کا غلبہ بڑھ گیا ہے جنہیں وہ حد سے زیادہ ترقی پسند اور نظریاتی سمجھتے ہیں، اس لیے وہ اپنی بیٹی کو وہاں بھیجنے کے بجائے دیگر تعلیمی اداروں پر غور کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں
اس معاملے پر امریکی سیاسی اور فکری حلقوں میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے قدامت پسند حلقے ہارورڈ سمیت بعض بڑی امریکی جامعات پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے روایتی علمی آزادی اور غیر جانب دار تعلیمی ماحول کے بجائے مخصوص سیاسی اور سماجی نظریات کو زیادہ اہمیت دینا شروع کر دیا ہے
دوسری جانب ہارورڈ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی میں مختلف نظریات رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ موجود ہیں اور اعلیٰ تعلیم کا مقصد طلبہ کو مختلف خیالات سے متعارف کرانا ہے، نہ کہ انہیں کسی ایک سیاسی سوچ تک محدود رکھنا
ہارورڈ گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکی سیاسی تنازعات کا مرکز بھی رہا ہے،کیمپس میں آزادیٔ اظہار، اسرائیل اور فلسطین کے تنازع، طلبہ کے احتجاج، امتیازی سلوک کے الزامات اور یونیورسٹی انتظامیہ کی پالیسیوں پر ملک بھر میں شدید بحث ہوتی رہی ہے
شان ڈفی کے بیان نے اس وسیع تر سوال کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے کہ کیا امریکہ کی معروف جامعات اب بھی اسی علمی معیار، فکری تنوع اور آزادانہ تحقیق کی نمائندگی کرتی ہیں جس کے باعث انہوں نے عالمی سطح پر اپنی ساکھ قائم کی، یا سیاسی اور نظریاتی تقسیم نے ان کے تعلیمی ماحول کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے
ہارورڈ کے بارے میں یہ بحث محض ایک یونیورسٹی کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ امریکی معاشرے میں تعلیم، سیاست، آزادیٔ اظہار اور نظریاتی اختلاف کے بڑھتے ہوئے فاصلے کی عکاسی بھی کرتی ہے

قومی خبریں سے مزید