ماہ سمندر میں رہنے کے بعد یو ایس ایس ابراہم لنکن وطن واپسی پر، ماہرین نے طویل تعیناتی کے نفسیاتی اثرات پر خبردار کر دیا

ماہ سمندر میں رہنے کے بعد یو ایس ایس ابراہم لنکن وطن واپسی پر، ماہرین نے طویل تعیناتی کے نفسیاتی اثرات پر خبردار کر دیا

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے والا امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن تقریباً 9 ماہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپسی کے سفر پر روانہ ہو گیا ہے، جہاز پر تقریباً 5,000 امریکی بحری اہلکار اور میرینز موجود ہیں، جن کی طویل اور مسلسل تعیناتی نے ذہنی صحت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کیے ہیں
ماہرین نفسیات اور سابق بحری افسران کے مطابق طویل عرصے تک محدود جگہ، تنہائی، مسلسل کام، جسمانی تھکن اور واپسی کی غیر یقینی تاریخ مل کر اہلکاروں پر شدید ذہنی دباؤ ڈال سکتی ہے،خاص طور پر جب اہلکاروں کو بار بار بتایا جائے کہ واپسی قریب ہے اور پھر تعیناتی میں توسیع کر دی جائے تو اس کا نفسیاتی اثر مزید بڑھ جاتا ہے
سابق امریکی بحری افسر اور رویوں کے ماہر جیک اسٹسٹر کے مطابق تنہائی اور محدود ماحول میں رہنے والے افراد کے لیے واپسی کی تاریخ کا غیر یقینی ہونا انتہائی دباؤ کا باعث بنتا ہے،ان کے مطابق 3 ماہ کی تعیناتی قابل برداشت، 6 ماہ تک مشکل مگر ممکن، جبکہ 9 ماہ کی مسلسل تعیناتی ایسی مدت ہے جس کے بعد حالات ناقابل برداشت ہونے لگ سکتے ہیں
یو ایس ایس ابراہم لنکن پر کام کرنے والے اہلکاروں کو صرف ذہنی دباؤ ہی نہیں بلکہ انتہائی مشکل جسمانی حالات کا بھی سامنا رہا،سابق بحری کپتان آرمین کردین کے مطابق طیارہ بردار جہاز پر پروازوں کی تیاری اور لینڈنگ کے دوران عملے کو شدید گرمی، پانی کی کمی، تھکن اور مسلسل چوکسی کا سامنا رہتا ہے،کئی اہلکاروں کے لیے آرام کے اوقات میں بھی مکمل نجی جگہ دستیاب نہیں ہوتی کیونکہ انہیں انتہائی محدود اور بھیڑ والے رہائشی حصوں میں رہنا پڑتا ہے
صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہوئی جب جہاز کی تعیناتی، جو ابتدا میں مئی میں ختم ہونا تھی، مسلسل بڑھتی رہی،اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی جانب سے جہاز پر خوراک، پانی، صفائی، بنیادی سہولیات اور ذہنی صحت کے حوالے سے شکایات بھی سامنے آئیں،بعض اہلکاروں کے ذہنی بحران اور سمندر میں کودنے کی مبینہ کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم امریکی بحریہ نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی،قائم مقام سیکریٹری بحریہ ہنگ کاؤ نے کہا کہ ذہنی صحت سے متعلق چند معاملات کا علاج کیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے
سابق بحری ڈاکٹر فلپ ہنٹ، جو کئی آبدوز مشنز پر خدمات انجام دے چکے ہیں، کہتے ہیں کہ 5,000 افراد کے ایک جہاز پر معمول کے حالات میں بھی کچھ اہلکاروں کا ذہنی دباؤ، اضطراب یا ڈپریشن کا شکار ہونا فطری ہے، لیکن طویل تعیناتی اور غیر یقینی صورتحال اس مسئلے کو شدید کر سکتی ہے،ان کے مطابق اعلیٰ قیادت کی جانب سے حالات کی سنگینی کو تسلیم نہ کرنا عملے کے حوصلے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور غصے، اضطراب، ذہنی تھکن اور بالآخر ڈپریشن کو بڑھا سکتا ہے
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکی دفاعی قیادت نے جہاز پر حالات سے متعلق بعض رپورٹس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہوا قرار دیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کی تعیناتی ’’تقریباً کافی طویل نہیں تھی‘‘،دوسری جانب فوجی اہلکاروں کے خاندان اور ذہنی صحت کے ماہرین مسلسل طویل تعیناتی کے انسانی اثرات پر توجہ دلا رہے ہیں
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اس کی جگہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں پہنچ چکا ہے،اس تبدیلی سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی بحریہ مسلسل جنگی کارروائیوں کے باوجود اپنے طیارہ بردار جہازوں اور ان کے عملے کی طویل تعیناتی کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے،تاہم ماہرین کا بنیادی سوال یہی ہے کہ جنگی مشن کی ضرورت اپنی جگہ، مگر کسی بھی فوجی قوت کی کارکردگی اور سلامتی کے لیے اس کے اہلکاروں کی جسمانی اور ذہنی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے

قومی خبریں سے مزید