مصنوعی ذہانت میں پاکستانی بانیوں کو وہ خلا نظر آیا جسے دنیا نے نظر انداز کردیا
کراچی سے تعلق رکھنے والے صالِح آصف ان چار شریک بانیوں میں شامل ہیں جنہوں نے 2022 میں ایک ایسی کمپنی قائم کی جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے کمپیوٹر پروگرام بنانے کے طریقے میں اہم تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئی
26 سالہ صالِح آصف نے نکسور کالج سے اے لیولز مکمل کیے اور بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ بعد ازاں انہیں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تعلیمی وظیفہ ملا، جہاں انہوں نے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگرامنگ کے نئے طریقوں پر کام شروع کیا
14 اگست کو اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کے مقبول پروگرامنگ اوزار تیار کرنے والی کمپنی اینی اسفیئر کو تمام حصص کی بنیاد پر 60 ارب ڈالر کے معاہدے میں خرید لیا۔ یہ سودا نئی تشکیل پانے والی مصنوعی ذہانت کی کمپنی کو کاروباری مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کی کوشش کا حصہ ہے
تاہم صالِح آصف اور ان کے ساتھیوں کی کہانی میں اصل اہمیت صرف کمپنی کی مالی قدر نہیں بلکہ اس خلا کی نشاندہی ہے جو مصنوعی ذہانت کی صلاحیت اور اس کے لیے بنائے گئے موجودہ پروگراموں کے درمیان موجود تھا
مصنوعی ذہانت کے موجودہ ماڈلز بہت سے پیچیدہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن کئی پروگرام اب بھی انہیں محدود دائرے میں استعمال کرتے ہیں۔ یہی فرق ایک نئے کاروباری موقع میں تبدیل ہوسکتا ہے
مصنوعی ذہانت کے ذریعے پروگرامنگ کے ابتدائی اوزار عموماً صارف کو اگلی سطر یا چند سطریں لکھنے میں مدد دیتے تھے۔ بعض اوقات وہ پروگرام کے بارے میں سوالات کے جواب بھی دیتے تھے، لیکن اصل ماڈل اس سے کہیں زیادہ صلاحیت رکھتا تھا اور مکمل فائلیں بھی تیار کرسکتا تھا
بعد میں مصنوعی ذہانت کے کچھ پروگراموں نے غیر ضروری پابندیاں کم کرکے ماڈل کو کام کے ماحول تک براہ راست رسائی دینا شروع کی۔ اس طرح وہ پہلے سے موجود صلاحیت زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے قابل ہوگیا
یہی وہ سوچ تھی جس نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک نئے انداز کو جنم دیا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ موجودہ ماڈل کے گرد مزید کتنی ہدایات بنائی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر غیر ضروری رکاوٹیں ہٹا دی جائیں تو ماڈل پہلے سے کیا کچھ کرسکتا ہے
اس تبدیلی کے لیے بڑے کارخانے یا بہت زیادہ سرمایہ ضروری نہیں، لیکن مضبوط تکنیکی تعلیم، قابل ساتھیوں تک رسائی اور یہ سمجھنے کی صلاحیت ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی اور حقیقی ضرورت کے درمیان خلا کہاں موجود ہے
مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز آنے کے ساتھ پرانی ہدایات اور پابندیاں بھی دوبارہ دیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے بعض ہدایات ایسے ماڈلز کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں جو اب نئے ماڈلز میں موجود ہی نہیں رہیں
اسی لیے مصنوعی ذہانت کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ وقتاً فوقتاً پرانی ہدایات، اضافی قواعد اور غیر ضروری پابندیوں کو ختم کرکے دوبارہ جانچا جائے کہ موجودہ ماڈل کو حقیقت میں کس چیز کی ضرورت ہے
تاہم اس عمل کے ساتھ ایک مشکل بھی موجود ہے ہر نئے ماڈل کے آنے پر نظام کو دوبارہ جانچنا، نئی آزمائشیں تیار کرنا اور یہ معلوم کرنا کہ کون سی پرانی ہدایات اب غیر ضروری ہوچکی ہیں، چھوٹی کمپنیوں اور محدود وسائل رکھنے والے افراد کے لیے مہنگا عمل ہوسکتا ہے
مصنوعی ذہانت کے دور میں ایک اہم مہارت صرف اچھے سوالات لکھنا نہیں بلکہ نتائج کی جانچ پڑتال کرنا ہے
مثلاً پروگرامنگ میں مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے پروگرام کو آزمائشی نظام کے ذریعے جانچا جاسکتا ہے اعداد و شمار کے تجزیے میں نتائج کی تصدیق کی جاسکتی ہے، حساب کتاب میں دوبارہ جانچ کی جاسکتی ہے اور تحقیق میں دعووں کو اصل معلومات سے ملایا جاسکتا ہے
اس کا مطلب ہے کہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے شخص کے لیے متعلقہ شعبے کا علم پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے جو شخص کسی موضوع کو اچھی طرح جانتا ہو وہ مصنوعی ذہانت کے جواب میں موجود غلطی کو زیادہ بہتر طور پر پہچان سکتا ہے
یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی اہم مہارت صرف مصنوعی ذہانت کو ہدایات دینا نہیں بلکہ یہ جاننا ہے کہ اس کا جواب درست ہے یا نہیں اور اسے درست ثابت کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے
پاکستان کے لیے اس میں ایک بڑا موقع موجود ہے۔ طلبہ کو صرف مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرنا سکھانے کے بجائے انہیں یہ سوچنے کی تربیت بھی دینی چاہیے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کیا کچھ کرنے کے قابل ہے جس کے گرد ابھی تک کوئی نیا کاروباری یا عملی حل نہیں بنایا گیا
جامعات اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں کیونکہ وہاں تکنیکی تعلیم، مشکل مسائل، باصلاحیت ساتھی اور کاروباری سوچ ایک جگہ جمع ہوسکتی ہے
صالِح آصف کی مثال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں کامیابی کے لیے صرف سرمایہ ہی ضروری نہیں۔ ایک واضح تکنیکی بنیاد، تجربہ کرنے کی آزادی، قابل لوگوں تک رسائی اور سب سے بڑھ کر یہ پہچان ضروری ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی اور حقیقی دنیا کی ضرورت کے درمیان خلا کہاں موجود ہے
مصنوعی ذہانت ہمیں صرف ای میل لکھنے، دستاویزات کا خلاصہ بنانے یا معمول کے کام آسان کرنے کے لیے نہیں ملی۔ اصل موقع اس بات میں ہے کہ ہم مسلسل یہ تلاش کریں کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی کیا کچھ کرسکتی ہے اور ابھی تک کسی نے اس صلاحیت کے گرد کیا نہیں بنایا
صالِح آصف اسی خلا کو پہچاننے والے پاکستانی نوجوانوں میں شامل ہیں، اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں یہ خلا اب بھی موجود ہے





