ایران پر امریکی معاشی شکنجہ چین کے لیے چیلنج، ماہرین کے مطابق پابندیاں تہران سے زیادہ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہیں

ایران پر امریکی معاشی شکنجہ چین کے لیے چیلنج، ماہرین کے مطابق پابندیاں تہران سے زیادہ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہیں

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت معاشی کارروائی اور ایران کو مالی یا تجارتی مدد دینے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کی دھمکی نے سب سے اہم سوال چین کے حوالے سے پیدا کر دیا ہے، کیونکہ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور تہران کی تیل کی آمدنی کا سب سے اہم بیرونی ذریعہ بھی یہی ملک ہے،رائٹرز کے مطابق 2025 کے اعدادوشمار کی بنیاد پر چین ایران سے برآمد ہونے والے تیل کا 80 فیصد سے زیادہ خریدتا ہے، جبکہ امریکی چین،ایران تعلقات کمیشن کے مطابق یہ حصہ 90 فیصد تک پہنچتا ہے،2025 میں چین نے اوسطاً تقریباً 14 لاکھ بیرل ایرانی تیل روزانہ درآمد کیا، جو اس کی مجموعی خام تیل درآمدات کا تقریباً 12 فیصد تھا
امریکی حکمت عملی کا اصل خطرناک پہلو یہی ہے کہ واشنگٹن صرف ایرانی کمپنیوں اور بینکوں کو نشانہ بنانے کے بجائے ان غیر ملکی اداروں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کر سکتا ہے جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھیں،امریکی حکام کے زیرِ غور اقدامات میں چین کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی ریفائنریوں، جنہیں عموماً ’’ٹی پاٹ ریفائنریز‘‘ کہا جاتا ہے، کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے،یہ ریفائنریاں چینی ریفائننگ صلاحیت کا تقریباً ایک چوتھائی رکھتی ہیں اور ان میں سے کئی امریکی مالیاتی نظام پر نسبتاً کم انحصار کرتی ہیں، اس لیے ماہرین کے مطابق انہیں مکمل طور پر روکنا واشنگٹن کے لیے آسان نہیں ہوگا
یہی وجہ ہے کہ بیشتر تجزیہ کار یہ نہیں سمجھتے کہ چین محض امریکی دباؤ کی وجہ سے ایرانی تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کر دے گا،چین پہلے ہی امریکی پابندیوں کو چیلنج کرتا رہا ہے اور بیجنگ کا مؤقف ہے کہ یک طرفہ امریکی پابندیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز نہیں،چین کی آزاد ریفائنریاں ایرانی تیل کو رعایتی قیمتوں پر خرید کر، مختلف تجارتی اور مالیاتی راستوں کے ذریعے، کئی برس سے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچتی رہی ہیں،امریکی پابندیوں کے ماہرین کے مطابق ان کمپنیوں کے لیے امریکی منڈی اور مالیاتی نظام سے وابستگی نسبتاً محدود ہونے کی وجہ سے واشنگٹن کا دباؤ بھی محدود ہو سکتا ہے
تاہم چین کے لیے مسئلہ صرف پابندیوں کا نہیں بلکہ توانائی کی سلامتی کا بھی ہے،ایران سے ملنے والا خام تیل چین کو نسبتاً سستا ملتا ہے اور امریکی چین،ایران تعلقات کمیشن کے مطابق ایرانی تیل پر رعایت بعض اوقات 8 سے 10 ڈالر فی بیرل تک رہی ہے،اگر چین کو یہ تیل چھوڑنا پڑا تو اسے زیادہ مہنگے متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے، جس سے چینی ریفائنریوں کے اخراجات اور توانائی کی مجموعی لاگت بڑھ سکتی ہے
لیکن موجودہ بحران میں چین نے ایک متبادل راستہ پہلے ہی اختیار کرنا شروع کر دیا ہے،رائٹرز کے مطابق چینی سرکاری ریفائنر سائنوپیک نے مشرق وسطیٰ سے رسد میں کمی پوری کرنے کے لیے روس کے مشرق بعید سے خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایرانی تیل کی رسد مزید محدود ہوتی ہے تو چین مکمل طور پر بے بس نہیں ہوگا، بلکہ روسی تیل اس خلا کا ایک بڑا حصہ پُر کر سکتا ہے
یہ صورتحال واشنگٹن کے لیے ایک بنیادی تضاد پیدا کرتی ہے،ایران کو عالمی تیل منڈی سے زیادہ سے زیادہ باہر نکالنے کی کوشش سے اگر چین روسی تیل کی طرف مزید منتقل ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ایران کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ روس چین کی توانائی کی شراکت داری بھی مضبوط ہو جائے،کارنیگی کے تجزیے میں بھی یہی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران اور وینزویلا کے خلاف امریکی اقدامات، اگرچہ چین کو محدود کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا ایک نتیجہ روس کی پوزیشن مضبوط ہونا بھی ہے
چین کے لیے سب سے بڑا نقصان اس صورت میں ہوگا جب واشنگٹن ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ چینی بینکوں کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنانا شروع کر دے،ایسی صورت میں مسئلہ صرف چند لاکھ یا چند ملین بیرل تیل کا نہیں رہے گا بلکہ امریکہ اور چین کے مالیاتی نظام کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ پیدا ہوگا،یہی وہ مرحلہ ہے جس پر بیجنگ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایرانی تیل کی رعایتی قیمت کا فائدہ امریکی مالیاتی نظام تک رسائی کے خطرے سے زیادہ اہم ہے یا نہیں
دوسری طرف امریکہ بھی اس پالیسی کی قیمت ادا کر سکتا ہے،اگر ایران کی برآمدات میں تیزی سے کمی آتی ہے، آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوتی ہے اور چین روسی تیل کی جانب جاتا ہے تو عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں،رائٹرز کے مطابق 20 اگست کو برینٹ خام تیل تقریباً 91.87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا تھا اور مارکیٹ پہلے ہی ایران اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے
اسی لیے امریکی ماہرین کے درمیان بنیادی بحث یہ نہیں کہ پابندیاں ایران کو نقصان پہنچائیں گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی قیمت امریکہ، چین اور عالمی معیشت بھی ادا کرے گی؟ ایران کی تیل آمدنی کو محدود کرنا تہران پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، لیکن اگر چین نے ایرانی تیل ترک کرنے کے بجائے اسے خفیہ یا متبادل مالیاتی راستوں سے خریدنا جاری رکھا، روس سے مزید تیل لینا شروع کیا اور واشنگٹن کی پابندیوں کو چین کے خلاف اقتصادی جنگ سمجھنا شروع کیا تو امریکی دباؤ کا نتیجہ ایران کو تنہا کرنے کے بجائے بیجنگ، ماسکو اور تہران کے درمیان توانائی اور مالی تعاون کو مزید مضبوط کرنا بھی ہو سکتا ہے
موجودہ صورتحال میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ چین ایران کا ایسا خریدار ہے جس کے بغیر ایران کی تیل برآمدات کو مؤثر طور پر ختم کرنا انتہائی مشکل ہے،کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین پہلے بھی نشاندہی کر چکے ہیں کہ آج ایران کے تیل کا سب سے بڑا اور تقریباً واحد اہم خریدار چین ہے، اس لیے ایرانی تیل کی برآمدات میں بڑی کمی لانے کے لیے بیجنگ کے تعاون کی ضرورت ہوگی

قومی خبریں سے مزید