عمران خان، بیماری اور ریاست کا امتحان

عمران خان، بیماری اور ریاست کا امتحان
(تحریر ۔ خالد مسعود چوہدری)

پاکستان کی سیاست میں اختلافِ رائے کوئی نئی بات نہیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی مخالف رہی ہیں، مقدمات بنتے اور ختم ہوتے رہے ہیں، اور اقتدار کے ایوانوں میں چہرے بدلتے رہے ہیں۔ مگر ایک اصول ایسا ہونا چاہیے جو اقتدار، سیاست، جماعت اور دشمنی سے بالاتر ہو   انسانی زندگی اور صحت کا احترام

آج سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اسی بنیادی اصول کا امتحان بن چکی ہے۔

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی صحت، خصوصاً ان کی بینائی اور دیگر طبی مسائل، گزشتہ کئی عرصے سے تشویش کا باعث ہیں۔ ان کے خاندان اور وکلا مسلسل بہتر طبی سہولت اور ماہر ڈاکٹروں تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ انہیں قانون کے مطابق ضروری طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور کسی ہنگامی طبی صورتِ حال کا ثبوت موجود نہیں۔

لیکن اب معاملہ محض سیاسی جماعت کے دعوے اور حکومت کے جواب تک محدود نہیں رہا۔

  اٹھارہ  اگست  کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر طبی معائنے اور علاج کے لیے منتقلی کی ہدایت کی، جبکہ ماہرین پر مشتمل طبی کمیٹی میں ان کے ذاتی معالج کی شمولیت اور ان کے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلی فون پر رابطے کی اجازت بھی دی۔

یہ حکم معمولی نوعیت کا نہیں۔ جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کسی زیرِحراست شہری کی طبی حالت کے بارے میں مداخلت کرتی ہے تو ریاست کے لیے اس حکم کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

لیکن اگلے ہی روز ایک نیا موڑ آگیا۔

  انیس اگست کو وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسے عمران خان کے علاج پر اعتراض نہیں بلکہ نجی ہسپتال منتقل کرنے کے حکم پر قانونی اعتراض ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق قیدیوں کے علاج کے لیے جیل قوانین موجود ہیں اور اگر جیل میں علاج ممکن نہ ہو تو سرکاری ہسپتالوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ کسی ایک قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت دوسرے قیدیوں کے لیے بھی اسی نوعیت کے مطالبات کا راستہ کھول سکتی ہے۔

حکومت کو اپنے قانونی مؤقف کے اظہار اور نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا مکمل حق ہے۔ عدالت کے فیصلے سے اختلاف بھی آئینی طریقۂ کار کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بہرحال پیدا ہوتا ہے:

اگر علاج پر اعتراض نہیں تو علاج کے مقام پر یہ تنازعہ اتنا فوری اور اہم کیوں ہے کہ سپریم کورٹ کے طبی منتقلی کے حکم کو بھی چیلنج کرنا ضروری سمجھا گیا؟

کیا ایک بیمار قیدی کو پہلے بہترین ممکنہ طبی معائنہ اور علاج فراہم نہیں کیا جاسکتا اور قانونی اختلاف بعد میں عدالت میں جاری نہیں رہ سکتا؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں طبی بنیادوں پر قیدیوں کو ملنے والی سہولتوں کی ایک مختلف مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔

نواز شریف کا معاملہ یاد رکھنا ہوگا

یہاں نواز شریف کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔

  جب  سابق وزیراعظم نواز شریف ایک احتساب عدالت سے سنائی گئی  سات سال قید کی سزا بھگت رہے تھے تب  سپریم کورٹ نے مارچ 2019 میں انہیں طبی بنیادوں پر چھ ہفتوں کی ضمانت دی تاکہ وہ علاج کرا سکیں۔

بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں طبی علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دے دی۔ حکومت نے اس وقت سات ارب روپے کی ضمانت کی شرط عائد کرنے کی کوشش کی تھی، مگر عدالت نے بالآخر نواز شریف اور شہباز شریف سے تحریری یقین دہانی لینے کا فیصلہ کیا۔ یہ تحریری یقین دہانی پچاس روپے کے اسٹامپ پیپر پر جمع ہوئی اور نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے لندن جانے کی اجازت دی گئی، جس میں ڈاکٹروں کی رائے کی بنیاد پر توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔

نواز شریف چار ہفتوں بعد واپس نہیں آئے۔

وہ تقریباً چار سال لندن میں رہے۔ ان کی عدم واپسی کے بعد عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دیا اور بعض مقدمات میں گرفتاری کے احکامات بھی جاری ہوئے۔ بالآخر اکتوبر 2023 میں وہ پاکستان واپس آئے اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کی۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نواز شریف کے معاملے میں عدالتوں نے کوئی سوال ہی نہیں اٹھایا۔ سوال بھی اٹھے، انہیں اشتہاری بھی قرار دیا گیا اور گرفتاری کے احکامات بھی جاری ہوئے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک سزا یافتہ سابق وزیراعظم کو طبی بنیادوں پر پہلے جیل سے باہر آنے اور پھر بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کی غیرمعمولی سہولت میسر آئی، اور چار ہفتوں کی اجازت تقریباً چار سالہ بیرونِ ملک قیام میں تبدیل ہوگئی۔

اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نواز شریف کو سہولت کیوں ملی اور عمران خان کو کیوں نہیں؟

اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے:

کیا پاکستان میں انسانی اور طبی حقوق کا معیار شخص کے سیاسی نام، جماعت یا اقتدار میں موجود وابستگی کے ساتھ بدلتا ہے؟

اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر عمران خان کے معاملے میں بھی اصول وہی ہونا چاہیے جو کسی دوسرے سابق وزیراعظم یا عام قیدی کے لیے ہوگا۔

اور اگر جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو پھر ہمیں تسلیم کرلینا چاہیے کہ پاکستان میں قانون کا ترازو سب کے لیے ایک سا نہیں۔

قانون سب کے لیے، مگر انسانیت بھی سب کے لیے

عمران خان ایک قیدی ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات ہیں، عدالتوں نے انہیں سزائیں سنائی ہیں اور ان سزاؤں کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ کسی سیاسی شخصیت کو محض مقبولیت کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن یہی اصول دوسری سمت بھی لاگو ہوتا ہے۔

قید کی سزا کسی انسان سے اس کا بنیادی حقِ صحت نہیں چھینتی۔

قیدی کو قانون کے مطابق سزا مل سکتی ہے، اس کی نقل و حرکت محدود ہوسکتی ہے، ملاقاتوں پر ضابطے لاگو ہوسکتے ہیں، لیکن بیماری کی صورت میں مناسب علاج اس کے بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہے۔

یہاں حکومت کا یہ مؤقف اپنی جگہ قابلِ غور ہے کہ خصوصی سہولتیں کسی ایک قیدی کے لیے ایسے انداز میں نہ دی جائیں کہ باقی قیدیوں کے لیے امتیازی سلوک پیدا ہو۔ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ کیا اس کا حل یہ ہے کہ ایک بیمار قیدی کو مطلوبہ طبی سہولت ہی نہ دی جائے؟

نہیں۔

حل یہ ہے کہ قیدیوں کے لیے واضح، شفاف اور یکساں طبی طریقۂ کار بنایا جائے۔

اگر نجی ہسپتال جانا کسی قیدی کے لیے قانونی طور پر ناممکن ہے تو قانون واضح کیا جائے۔ اگر طبی ماہرین کی رائے میں نجی ادارہ زیادہ موزوں ہے تو اس کا معیار طے کیا جائے۔ اگر ذاتی معالج کی شمولیت ضروری ہے تو اس کے لیے بھی یکساں اصول بنایا جائے۔

مگر بیماری کو سیاسی کشمکش کا میدان نہ بنایا جائے۔

عدالت اور حکومت کے درمیان کشمکش؟

موجودہ صورتِ حال کا سب سے تشویشناک پہلو یہی ہے کہ معاملہ اب عمران خان اور حکومت کے درمیان نہیں رہا۔

یہ ریاستی اداروں کے درمیان اختیار اور اعتماد کا سوال بنتا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کہتی ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔

حکومت کہتی ہے کہ حکم پر نظرثانی ہونی چاہیے اور نجی ہسپتال کی شرط قانونی دائرے سے باہر ہے۔

تحریک انصاف فوری عمل درآمد کا مطالبہ کرتی ہے۔

اور عمران خان کے خاندان کو اپنے والد کی صحت کے بارے میں تشویش ہے۔ ان کے بیٹوں نے بھی طبی سہولت اور والد سے رابطے کی اجازت کے مطالبات کیے ہیں۔

ایسے ماحول میں ایک عام پاکستانی کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے:

آخر فیصلہ ہوگا کس کا؟

اگر عدالت کا حکم بھی فوری طور پر عمل درآمد کے بجائے ایک نئی قانونی جنگ کا آغاز بن جائے تو عام شہری کے لیے قانون کی حکمرانی کا تصور کیا رہ جاتا ہے؟

حکومت کو نظرثانی کا آئینی حق حاصل ہے۔ لیکن جب تک عدالت اپنے حکم میں تبدیلی نہیں کرتی، ریاستی اداروں کے درمیان اس کشمکش کو طول دینا کیا کسی کے مفاد میں ہے؟

بیماری کو سیاست سے نکالنا ہوگا

حکومت کہتی ہے کہ عمران خان کی صحت کو سیاسی مسئلہ نہ بنایا جائے۔

اس بات سے اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن یہی اصول حکومت اور تحریک انصاف دونوں پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف کو بھی عمران خان کی صحت کو سیاسی احتجاج کا ذریعہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ حکومت کو بھی صحت کے معاملے کو سیاسی قیدی اور عام قیدی کے فرق کی بحث میں الجھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر کو ڈاکٹر رہنے دیں، سیاست دان کو سیاست کرنے دیں اور عدالت کو قانون کی تشریح کرنے دیں۔

عمران خان کا علاج سیاسی جماعت طے نہ کرے۔

حکومت بھی یہ فیصلہ نہ کرے کہ کون سا علاج سیاسی طور پر مناسب ہے۔

اور مریض کی طبی ضرورت کا فیصلہ سیاسی مصلحت کے بجائے ماہر ڈاکٹر کریں۔

کل اگر یہی معاملہ کسی اور کے ساتھ ہو؟

یہ سب سے اہم سوال ہے۔

آج عمران خان ہیں۔

کل کوئی دوسرا سیاسی رہنما ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں ایسا کئی مرتبہ ہوچکا ہے کہ جو شخص ایک دور میں طاقتور تھا، دوسرے دور میں زیرِعتاب آگیا۔ جو آج حکومت میں ہے، کل حزبِ اختلاف میں ہوسکتا ہے۔

اسی لیے کسی بھی سیاسی جماعت کو ایسا اصول قبول نہیں کرنا چاہیے جو آج اس کے مخالف کے خلاف استعمال ہو اور کل اسی کے خلاف۔

قانون کی حکمرانی کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ دوست اور دشمن میں فرق نہیں کرتا۔

اگر نواز شریف کے لیے بیماری کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جاسکتا تھا تو عمران خان کے لیے بھی صحت کا معاملہ انسانی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے۔

اور اگر عمران خان کے لیے کوئی خاص رعایت قانون کے خلاف ہے تو پھر یہی اصول نواز شریف سمیت ہر سیاسی رہنما پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔

یہی انصاف ہے۔

یہی قانون کی حکمرانی ہے۔

سوال عمران خان کا نہیں، پاکستان کا ہے

اس پورے معاملے کو عمران خان کی شخصیت سے نکال کر پاکستان کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان سے سیاسی اختلاف کیا جاسکتا ہے۔

ان کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی جاسکتی ہے۔

ان کے خلاف مقدمات کا دفاع یا مخالفت کی جاسکتی ہے۔

ان کی سزا کو درست یا غلط ثابت کرنے کے لیے قانونی دلائل دیے جاسکتے ہیں۔

لیکن بیماری کو سزا کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔

ایک قیدی کی صحت کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اور اگر اس صحت کے بارے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت حکم دے تو اس حکم کا احترام ریاستی وقار کا حصہ ہونا چاہیے۔

حکومت کو اگر سپریم کورٹ کے حکم میں قانونی خامی نظر آتی ہے تو نظرثانی اس کا آئینی حق ہے۔ لیکن اس دوران اصل سوال مریض کی صحت ہے، نہ کہ سیاسی انا۔

پاکستان نے ماضی میں طبی بنیادوں پر سیاسی شخصیات کو غیرمعمولی سہولتیں بھی دی ہیں اور پھر انہی معاملات پر سیاسی و قانونی تنازعات بھی دیکھے ہیں۔ نواز شریف کا چار ہفتوں کی اجازت کے بعد تقریباً چار سال لندن میں قیام اسی تاریخ کا حصہ ہے۔

اب عمران خان کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ماضی کی غلطیوں کو دہرانا چاہتے ہیں یا ایک ایسا اصول قائم کرنا چاہتے ہیں جو کل ہمارے اپنے سیاسی مخالف کے لیے بھی قابلِ قبول ہو۔

کیونکہ اصل امتحان عمران خان کا نہیں۔

اصل امتحان پاکستان کی ریاست کا ہے۔

ریاست کتنی طاقتور ہے، اس کا اندازہ اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مخالف کو کتنی دیر قید میں رکھ سکتی ہے۔

ریاست کی عظمت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف کے ساتھ بھی قانون، انصاف اور انسانیت کا دامن نہیں چھوڑتی۔

اور شاید آج پاکستان کو سب سے زیادہ اسی یقین کی ضرورت ہے۔

عمران خان کا سیاسی مستقبل عدالتیں اور عوام طے کریں گے؛ ان کی صحت  اور علاج کا فیصلہ ڈاکٹر کریں۔

بس اتنا اصول اگر قائم ہوجائے تو شاید ہم اپنی سیاست کو دشمنی سے نکال کر قانون اور انسانیت کی طرف ایک قدم آگے لے جاسکیں۔

قومی خبریں سے مزید