گوگل کا پاکستان میں دفتر، مگر 30 ارب ڈالر کی آئی ٹی معیشت کا خواب صرف کروم بکس اور مفت اے آئی سے پورا نہیں ہوگا

گوگل کا پاکستان میں دفتر، مگر 30 ارب ڈالر کی آئی ٹی معیشت کا خواب صرف کروم بکس اور مفت اے آئی سے پورا نہیں ہوگا

رپورٹ : خالد مسعود
اسلام آباد: پاکستان میں گوگل کے پہلے باقاعدہ دفتر کا افتتاح 18 اگست 2026 کو ایک اہم ڈیجیٹل پیش رفت کے طور پر سامنے آیا، تاہم اس موقع پر کیے گئے بڑے اعلانات نے ایک بنیادی سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ کیا یہ شراکت داری پاکستان کو واقعی 30 ارب ڈالر کی آئی ٹی معیشت بنانے کی طرف لے جائے گی یا اس کا اثر محض علامتی اقدامات تک محدود رہے گا؟
گوگل نے پاکستان میں اپنے دفتر کے افتتاح کے موقع پر تین بڑے منصوبوں کا اعلان کیا،ان میں ہری پور میں کروم بکس کی اسمبلی لائن کا قیام، پاکستان کے تمام طلبہ کے لیے گوگل کے مصنوعی ذہانت کے نظام جیمنی کی مفت رکنیت اور 100,000 ڈویلپرز کی تربیت شامل ہے
یہ اعلانات بظاہر پاکستان کے ڈیجیٹل شعبے کے لیے بڑی پیش رفت ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق اصل چیلنج اعلانات نہیں بلکہ ان کا عملی نتیجہ ہے،ہری پور میں کروم بکس کی اسمبلی پاکستان میں ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ کی جانب ایک قدم ضرور ہو سکتی ہے، مگر صرف اسمبلی سے ایک مضبوط مقامی ٹیکنالوجی صنعت وجود میں نہیں آتی،اس کے لیے مقامی پرزہ جات، سپلائرز، انجینئرنگ، تحقیق و ترقی اور برآمدی سپلائی چین کا قیام ضروری ہوگا
اسی طرح طلبہ کو ایک سال کے لیے مصنوعی ذہانت تک مفت رسائی دینا ڈیجیٹل تعلیم میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ مفت مدت ختم ہونے کے بعد یہ سہولت کس طرح پائیدار ڈیجیٹل مہارت میں تبدیل ہوگی،اگر طلبہ صرف مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرنا سیکھیں، لیکن انہیں مقامی اور عالمی مارکیٹ کے لیے قابلِ فروخت مہارت، کاروباری مواقع اور روزگار نہ ملے تو اس اقدام کا معاشی اثر محدود رہ سکتا ہے
100,000 ڈویلپرز کی تربیت بھی اسی چیلنج سے دوچار ہے،تربیتی پروگرام مکمل کرنے والے افراد کی تعداد اپنے آپ میں کامیابی نہیں۔ اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ ان میں سے کتنے افراد کو روزگار ملتا ہے، کتنے عالمی مارکیٹ کے لیے خدمات فراہم کرتے ہیں، کتنے برآمدی آمدنی پیدا کرتے ہیں اور کتنے اپنی کمپنیاں قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں
پاکستان کے لیے سب سے بڑا خلا مقامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کا بھی ہے،30 ارب ڈالر کی آئی ٹی معیشت کے لیے صرف تربیت یافتہ نوجوان کافی نہیں،قابلِ اعتماد بجلی، تیز رفتار اور مستحکم انٹرنیٹ، محفوظ ڈیٹا مراکز، مقامی کلاؤڈ انفراسٹرکچر، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا تحفظ کے مؤثر قوانین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا مضبوط نظام بھی ضروری ہوگا
اسی لیے پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ گوگل کے اعلانات کو محض تقریبات اور تربیتی سرٹیفکیٹس تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں حقیقی کاروباری سرگرمی میں تبدیل کرنا ہے،اسمبلی لائن کو مقامی سپلائی چین سے جوڑنا، مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو عملی مہارت اور روزگار سے منسلک کرنا اور تربیت یافتہ ڈویلپرز کو عالمی کمپنیوں، برآمدی منصوبوں اور مقامی اسٹارٹ اپس سے جوڑنا اس شراکت داری کی کامیابی کا اصل امتحان ہوگا
اس تناظر میں آئندہ 18 ماہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر اس عرصے میں ہری پور کی اسمبلی محض درآمد شدہ پرزوں کی جوڑائی سے آگے بڑھ کر مقامی صنعت پیدا کرتی ہے، تربیت یافتہ ڈویلپرز حقیقی آمدنی پیدا کرتے ہیں، طلبہ مصنوعی ذہانت کو کاروباری اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پاکستان اپنے کلاؤڈ و ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں قابلِ ذکر پیش رفت کرتا ہے تو گوگل کی پاکستان میں موجودگی ایک بڑی معاشی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے
لیکن اگر نتائج صرف کروم بکس کی اسمبلی، ایک سال کی مفت جیمنی رکنیت اور ہزاروں تربیتی سرٹیفکیٹس تک محدود رہے تو 30 ارب ڈالر کی آئی ٹی معیشت کا ہدف ایک مرتبہ پھر اعداد و شمار سے زیادہ ایک سیاسی و معاشی وعدہ بن کر رہ جائے گا
پاکستان کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ گوگل نے کیا اعلان کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان اعلانات سے کتنی نئی کمپنیاں، کتنی برآمدات، کتنی ملازمتیں اور کتنی مقامی ٹیکنالوجی پیدا ہوتی ہے

قومی خبریں سے مزید