پاکستان کی شام کے فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت، عالمی برادری سے کارروائی کا مطالبہ
پاکستان نے شام کے صوبہ ادلب میں ابو الظہور فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلااشتعال کارروائی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیلی حملہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ پاکستان نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے شام کے خلاف مسلسل کارروائیاں علاقائی امن اور استحکام کے لیے خطرناک ہیں
18 اگست کو اسرائیلی طیاروں نے شمال مغربی شام کے صوبہ ادلب میں واقع ابو الظہور فوجی اڈے پر متعدد حملے کیے۔ شامی ذرائع کے مطابق تقریباً آٹھ فضائی حملوں میں اڈے کے رن وے اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے فوجی اڈے کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی
ابو الظہور فوجی اڈہ ترکی کی سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اسرائیل نے حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شام مبینہ طور پر ترکی کے فوجیوں کو حلب کے قریب اس اڈے پر تعینات کرنے کی اجازت دے کر اسرائیل کے ساتھ طے شدہ حفاظتی صورتحال کو تبدیل کرنے کے قریب تھا
پاکستان نے شام کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، امن اور خوشحالی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی بار بار خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کے لیے ذمہ داری کا تعین کیا جائے
اس حملے پر ترکی اور شام کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ شام کے لیے امریکی خصوصی نمائندے ٹام بارک نے اسرائیلی حملے کو خطے میں امن و استحکام کے لیے غیر ضروری کشیدگی قرار دیا ہے۔ امریکہ نے ترکی، اسرائیل اور شام کے درمیان فوجی تصادم کے خطرے کو کم کرنے کے لیے رابطے کا ایک نیا طریقہ کار قائم کرنے کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں۔





