اتر پردیش میں بی جے پی کی انتخابی حکمتِ عملی، مسلم چہروں کو آگے لانے سے پسماندہ مسلمانوں پر نظر

اتر پردیش میں بی جے پی کی انتخابی حکمتِ عملی، مسلم چہروں کو آگے لانے سے پسماندہ مسلمانوں پر نظر

اتر پردیش میں اگلے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی انتخابی حکمتِ عملی میں مسلم نمائندگی کو بھی جگہ دی ہے،نتن نَبین کی قیادت میں پارٹی کی انتخابی ٹیم میں شامل 2 اہم مسلم چہرے اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا بنیادی مقصد مسلم ووٹ بینک میں بڑی تبدیلی لانے کے بجائے محدود مگر قابلِ ذکر پیش رفت حاصل کرنا ہے
بی جے پی کی خاص توجہ پسماندہ مسلمانوں پر ہے، جو مسلم آبادی کے اندر سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات پر مشتمل ایک بڑا حلقہ سمجھے جاتے ہیں،پارٹی طویل عرصے سے یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ مسلم ووٹروں کے ان طبقات کو اپنے سیاسی پیغام سے جوڑا جائے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں پسماندہ مسلم برادریاں مقامی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں
اتر پردیش میں مسلم ووٹر مجموعی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، تاہم یہ برادری اب تک بی جے پی کے وسیع انتخابی اتحاد سے بڑی حد تک باہر رہی ہے،ریاست میں مسلم ووٹ عموماً بی جے پی کے مخالف سیاسی اتحادوں کی جانب جاتے رہے ہیں، جس کے باعث بی جے پی کو مسلم ووٹوں میں بڑی پیش رفت حاصل نہیں ہو سکی
پارٹی کی موجودہ حکمتِ عملی اسی صورتحال میں معمولی تبدیلی لانے کی کوشش دکھائی دیتی ہے،بی جے پی کو معلوم ہے کہ پورے مسلم ووٹ بینک کو اپنے ساتھ لانا ایک مشکل ہدف ہے، اس لیے پسماندہ مسلمانوں سمیت مخصوص سماجی گروہوں میں محدود حمایت حاصل کرنا بھی انتخابی اعتبار سے اہم سمجھا جا رہا ہے
نتن نَبین کی ٹیم میں مسلم چہروں کی موجودگی اسی پیغام کو تقویت دے سکتی ہے کہ بی جے پی صرف اکثریتی ووٹرز کو متحرک کرنے تک محدود نہیں بلکہ مسلم برادری کے مخصوص طبقات تک بھی سیاسی رسائی بڑھانا چاہتی ہے
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی کی تنظیمی نمائندگی ووٹوں میں بھی تبدیل ہو سکے گی،مسلم ووٹرز میں بی جے پی کے بارے میں موجود سیاسی تحفظات، ریاست میں مذہبی بنیادوں پر جاری سیاسی تقسیم اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مسلم ووٹروں کے دیرینہ تعلقات اس کوشش کو مشکل بنا سکتے ہیں
بی جے پی کے لیے معمولی مسلم ووٹ بھی کئی نشستوں پر اہم ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان حلقوں میں جہاں مقابلہ سخت ہو اور چند ہزار ووٹ کامیابی اور شکست کے درمیان فرق پیدا کر سکتے ہوں
یوں نتن نَبین کی انتخابی ٹیم میں شامل یہ 2 مسلم چہرے محض نمائندگی کا معاملہ نہیں بلکہ بی جے پی کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کی علامت ہیں،اتر پردیش میں مسلم ووٹ بینک کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے بجائے اس کے ایک حصے، بالخصوص پسماندہ مسلمانوں، میں سیاسی جگہ بنانے کی کوشش

قومی خبریں سے مزید