بھارت کو آسمان میں مزید آنکھوں کی ضرورت کیوں ہے؟ ایم کیو 9 بی ڈرونز بھارتی بحریہ کے لیے اہم کیوں بن گئے
بھارت نے اپنی بحری نگرانی کی صلاحیت فوری طور پر بڑھانے کے لیے امریکی ساختہ ایم کیو 9 بی ڈرونز حاصل کرنے کی سمت اہم قدم اٹھایا ہے،تقریباً 1,943 کروڑ بھارتی روپے کے معاہدے کے تحت بھارتی بحریہ کو 2 ایم کیو 9 بی ڈرونز فراہم کیے جائیں گے، جبکہ نئی دہلی پہلے ہی امریکا سے مجموعی طور پر 31 ایم کیو 9 بی اسکائی اور سی گارڈینز کے بڑے بیڑے کے حصول کے منصوبے پر کام کر رہا ہے
یہ فوری خریداری دراصل اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے جو مستقل بنیادوں پر نئے ڈرون بیڑے کی آمد تک بھارتی بحریہ کی سمندری نگرانی میں موجود رہے گا
ایم کیو 9 بی ایک طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا بغیر پائلٹ فضائی نظام ہے، جو طویل دورانیے تک فضا میں رہ کر وسیع سمندری علاقے کی نگرانی کرسکتا ہے،اس کی سب سے بڑی افادیت مسلسل نگرانی، بحری جہازوں کی شناخت، مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور دور دراز علاقوں سے معلومات جمع کرنے میں ہے
بھارتی بحریہ کے لیے اس صلاحیت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ بحر ہند ایک وسیع اور تیزی سے اہمیت اختیار کرتا ہوا بحری خطہ ہے،خلیج عدن، بحیرہ عرب، آبنائے ملاکا اور بحر ہند کے اہم سمندری راستوں میں تجارتی اور فوجی سرگرمیوں میں اضافے نے نئی دہلی کے لیے مسلسل فضائی نگرانی کو ایک اہم دفاعی ترجیح بنا دیا ہے
روایتی جنگی طیاروں کے مقابلے میں ایسے ڈرون طویل وقت تک نسبتاً کم لاگت میں نگرانی کا مشن انجام دے سکتے ہیں،بحریہ کے لیے ان کا استعمال خاص طور پر ایسے مشنز میں اہم ہے جہاں مسلسل نگرانی درکار ہو لیکن ہر مرحلے پر مہنگے جنگی طیاروں کو استعمال کرنا ضروری نہ ہو
بھارت کا طویل مدتی منصوبہ اس سے کہیں بڑا ہے۔ امریکا سے متوقع 31 ایم کیو 9 بی ڈرونز میں بھارتی بحریہ، بری فوج اور فضائیہ کے لیے مختلف تعداد میں نظام شامل ہوں گے،یہ ڈرونز بھارت کی مجموعی انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیت کو ایک نئے مرحلے میں لے جانے کے لیے دیکھے جا رہے ہیں
بھارتی بحریہ پہلے ہی طویل فاصلے کی سمندری نگرانی کے لیے طیاروں، ہیلی کاپٹروں، مصنوعی سیاروں اور دیگر سینسرز پر انحصار کرتی ہے، لیکن ایم کیو 9 بی جیسا نظام ان ذرائع کے درمیان ایک اضافی اور مسلسل فضائی نگرانی کی تہہ فراہم کرتا ہے
اس خریداری کا ایک اہم پہلو چین کے ساتھ بھارت کی بڑھتی ہوئی بحری مسابقت بھی ہے،چینی بحریہ کی بحر ہند میں بڑھتی ہوئی موجودگی اور پاکستان کے ساتھ چین کے دفاعی و بحری تعاون کے تناظر میں بھارت سمندر میں اپنی صورتحال سے آگاہی، یعنی کون کہاں موجود ہے اور کیا سرگرمی کر رہا ہے، کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے
یوں 2 ایم کیو 9 بی کی فوری خریداری محض 2 ڈرونز کا حصول نہیں بلکہ ایک عبوری انتظام ہے، جس کا مقصد اس وقت تک بھارتی بحریہ کو اضافی ’’آسمانی آنکھیں‘‘ فراہم کرنا ہے جب تک 31 ڈرونز پر مشتمل بڑا امریکی بیڑا مکمل طور پر بھارت کے حوالے نہیں ہو جاتا





