27 سال امریکا میں رہنے والی گرین کارڈ ہولڈر بھارتی نژاد خاتون آئی سی ای کے ہاتھوں گرفتار، عدالت کیس ختم کر چکی تھی، شوگر کی دوا بھی ساتھ نہ تھی
امریکا میں 27 سال سے قانونی طور پر مقیم بھارتی نژاد خاتون اور خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کی استاد وینکاٹا وسام سیٹی کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، آئی سی ای، نے اس وقت گرفتار کر لیا جب ایک امیگریشن جج کئی ماہ قبل ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی ختم کر چکا تھا
وینکاٹا وسام سیٹی 2013 سے گرین کارڈ ہولڈر ہیں، شمالی کیرولائنا کے سرکاری اسکول میں خصوصی ضروریات رکھنے والے طلبہ کو پڑھاتی ہیں، ان کی 2 بیٹیاں امریکی شہری ہیں اور وہ 2 امریکی شہری بچوں کی دادی بھی ہیں،ان کے خاندان اور وکلا کے مطابق ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب وہ جولائی 2022 میں اپنے بیمار والدین کی دیکھ بھال کے لیے بھارت گئی تھیں،بھارت میں قیام کے دوران نومبر 2022 میں وہ کووڈ کا شکار ہوئیں اور تقریباً 2 ہفتے اسپتال میں زیر علاج رہیں،صحت کے مزید مسائل کے باعث ان کی امریکا واپسی میں تاخیر ہوئی اور وہ تقریباً 7 ماہ بعد فروری 2023 میں واپس پہنچیں
امریکی حکام نے ان کے طویل بیرون ملک قیام کی بنیاد پر یہ سوال اٹھایا کہ آیا انہوں نے امریکا میں اپنی مستقل رہائش ترک کر دی تھی،تاہم وینکاٹا اور ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا امریکا چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور ان کے گھر، ملازمت اور خاندان سمیت امریکا سے مضبوط تعلقات برقرار تھے
واپسی کے بعد وینکاٹا کو باقاعدگی سے آئی سی ای کے دفتر میں حاضری دینا پڑتی رہی،ان کے خاندان کے مطابق انہوں نے تمام مقررہ حاضریاں پوری کیں اور اپنی قانونی مستقل رہائش برقرار رکھنے کے شواہد بھی فراہم کیے
19 مئی 2026 کو امیگریشن جج نے ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی ختم کر دی،عدالتی فیصلے کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی یہ واضح اور قابلِ یقین ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا کہ وینکاٹا کو ملک بدری کے قابل قرار دیا جا سکتا ہے
اس کے باوجود 11 جولائی کو وہ معمول کے مطابق آئی سی ای کے دفتر پہنچیں تو انہیں بتایا گیا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق ادارے کا ریکارڈ ابھی اپ ڈیٹ نہیں ہوا اور انہیں اگلے ماہ دوبارہ آنے کو کہا گیا
11 اگست کو جب وینکاٹا دوبارہ آئی سی ای کے شارلٹ دفتر پہنچیں تو انہیں گرفتار کر لیا گیا،بعد ازاں انہیں جارجیا کے ارون کاؤنٹی حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا، جو شارلٹ سے 500 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہے
معاملے کو مزید تشویشناک ان کی طبی حالت نے بنا دیا ہے،خاندان کے مطابق وینکاٹا شدید ذیابیطس میں مبتلا ہیں اور انہیں باقاعدگی سے انسولین، ادویات اور طبی سامان درکار ہوتا ہے،ان کے وکیل اور خاندان کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت ان کے پاس انسولین یا ضروری طبی سامان موجود نہیں تھا اور حراست کے دوران انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کیے جانے پر بھی تشویش ہے
وینکاٹا کے وکلا نے وفاقی عدالت میں ہنگامی درخواست دائر کر کے ان کی حراست کو چیلنج کیا ہے۔ 13 اگست کو ایک وفاقی جج نے امیگریشن حکام سے وینکاٹا کو حراست میں رکھنے کی قانونی بنیاد کی وضاحت طلب کی
وینکاٹا کے خاندان نے ان کی رہائی کے لیے ’’فری وینکاٹا‘‘ مہم بھی شروع کر دی ہے،خاندان کا مؤقف ہے کہ 27 سالہ قانونی رہائش، صاف مجرمانہ ریکارڈ، امریکی شہری اولاد، مستقل ملازمت اور سب سے بڑھ کر امیگریشن جج کی جانب سے ملک بدری کا مقدمہ ختم کیے جانے کے باوجود ان کی گرفتاری نے گرین کارڈ رکھنے والے تارکین وطن کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں
قانونی ماہرین کے مطابق گرین کارڈ رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص کو ہر قسم کی امیگریشن کارروائی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے، تاہم 6 ماہ سے زیادہ بیرون ملک قیام بھی ازخود گرین کارڈ ختم نہیں کرتا،ایسے معاملات میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا مستقل رہائشی نے واقعی امریکا میں اپنی مستقل رہائش ترک کرنے کا ارادہ کیا تھا یا نہیں،وینکاٹا کے معاملے میں یہی بنیادی قانونی تنازع تھا، جس پر امیگریشن عدالت پہلے ہی حکومت کے خلاف فیصلہ دے چکی تھی





