اونٹاریو میں لاکھوں افراد اب بھی مستقل بنیادی طبی سہولت سے محروم، حکومت کا بڑا منصوبہ جاری
اونٹاریو میں لاکھوں افراد کو اب بھی مستقل خاندانی ڈاکٹر یا بنیادی طبی نگہداشت فراہم کرنے والے سے منسلک کرنے کا مسئلہ برقرار ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے ہر شہری کو بنیادی طبی سہولت تک رسائی دینے کے لیے اپنے منصوبے کو مزید وسعت دے دی ہے
صوبائی حکومت کے مطابق تقریباً 19 لاکھ افراد ایسے ہیں جو بنیادی طبی نگہداشت سے منسلک ہونا چاہتے ہیں حکومت نے 2029 تک ہر شہری کو خاندانی ڈاکٹر، نرس پریکٹیشنر یا بنیادی طبی نگہداشت کی ٹیم سے منسلک کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے
اس منصوبے کے تحت حکومت نے 2026 کے بجٹ میں مزید 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں، جس کے بعد بنیادی طبی نگہداشت کے چار سالہ منصوبے پر مجموعی سرمایہ کاری 3 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس رقم سے نئی اور موجودہ طبی ٹیموں کو وسعت دی جائے گی اور مزید افراد کو مستقل طبی نگہداشت سے منسلک کیا جائے گا
حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار افراد کو مستقل بنیادی طبی نگہداشت سے منسلک کیا جا چکا ہے اس کے علاوہ ہیلتھ کیئر کنیکٹ کی انتظار فہرست میں بھی 87 فیصد سے زیادہ کمی لائی گئی ہے
اگلے مرحلے میں حکومت کا منصوبہ ہے کہ 2026 اور 2027 کے دوران مزید 5 لاکھ افراد کو بنیادی طبی نگہداشت سے منسلک کیا جائے، جبکہ اس کے بعد دو برس میں مزید 6،6 لاکھ افراد کو طبی ٹیموں سے جوڑنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 2029 تک تقریباً 20 لاکھ مزید افراد کو بنیادی طبی نگہداشت سے منسلک کرنے کا منصوبہ ہے
حکومت کے مطابق اس مقصد کے لیے صوبے بھر میں 305 نئی یا توسیع شدہ بنیادی طبی ٹیمیں قائم کی جائیں گی۔ ان ٹیموں میں خاندانی ڈاکٹرز، نرس پریکٹیشنرز، نرسیں، سماجی کارکن، غذائی ماہرین اور دیگر طبی شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہوں گے تاکہ مریضوں کو ایک ہی نظام کے تحت مختلف طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں
صوبائی منصوبے میں طبی عملے کی کمی دور کرنے، نئے ڈاکٹرز اور دیگر طبی ماہرین کو تربیت دینے، دیہی اور کم سہولت والے علاقوں میں عملے کی بھرتی بہتر بنانے اور موجودہ طبی عملے کو برقرار رکھنے کے اقدامات بھی شامل ہیں
اونٹاریو حکومت کا کہنا ہے کہ بنیادی طبی نگہداشت تک بروقت رسائی بہتر ہونے سے ہسپتالوں کے ہنگامی شعبوں اور فوری طبی مراکز پر دباؤ بھی کم کیا جا سکے گا، جبکہ مریضوں کو بیماری کی تشخیص اور علاج کے لیے زیادہ مناسب اور مسلسل طبی سہولت دستیاب ہوگی





