ٹرمپ انتظامیہ کا لاکھوں ایکڑ محفوظ قومی جنگلات میں سڑکیں اور لاگنگ کھولنے کا منصوبہ

ٹرمپ انتظامیہ کا لاکھوں ایکڑ محفوظ قومی جنگلات میں سڑکیں اور لاگنگ کھولنے کا منصوبہ

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکا کے قومی جنگلات کے وسیع رقبے میں سڑکیں تعمیر کرنے اور درختوں کی کٹائی کی راہ ہموار کرنے کے لیے 2001 کے روڈ لیس ایریا کنزرویشن رول کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز پیش کردی ہے
امریکی محکمہ زراعت کے مطابق یہ ضابطہ پرانا ہوچکا ہے اور موجودہ حالات میں جنگلات میں آگ کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے زیادہ لچکدار پالیسی کی ضرورت ہے،انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جنگلات میں سڑکیں فائر فائٹرز کو آگ تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہیں اور بعض مقامات پر آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی راستے کا کام بھی کرسکتی ہیں
2001 میں نافذ کیے گئے اس ضابطے کے تحت قومی جنگلات کے کروڑوں ایکڑ ایسے علاقوں میں نئی سڑکوں کی تعمیر اور تجارتی پیمانے پر درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کی گئی تھی جو نسبتاً قدرتی اور انسانی مداخلت سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں،یہ علاقے امریکا کے جنگلی حیات، پانی کے ذخائر اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے لیے اہم تصور کیے جاتے ہیں
ٹرمپ انتظامیہ کی نئی تجویز پر ماحولیاتی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں اور لاگنگ کے لیے ان علاقوں کو کھولنے سے جنگلات کے مسلسل قدرتی رقبے ٹکڑوں میں تقسیم ہوسکتے ہیں، جنگلی حیات کے مسکن متاثر ہوسکتے ہیں اور پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی اور جنگلات کی بڑھتی ہوئی آگ سے دباؤ کا شکار ماحولیاتی نظام مزید کمزور ہوسکتا ہے
انتظامیہ تاہم اس مؤقف پر قائم ہے کہ جنگلات میں محدود رسائی بعض اوقات آگ سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے،حکام کے مطابق فائر فائٹنگ ٹیموں کے لیے سڑکوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بعض دور دراز علاقوں میں آگ پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے
یہ فیصلہ امریکا میں وفاقی زمینوں کے استعمال پر جاری ایک بڑے سیاسی تنازعے کو بھی دوبارہ نمایاں کرتا ہے،ری پبلکن انتظامیہ طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ وفاقی جنگلات میں لکڑی کی پیداوار، توانائی اور قدرتی وسائل کے استعمال کے لیے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ ماحولیاتی گروپ قدرتی جنگلات کو کمرشل سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں
تجویز کی منظوری کی صورت میں قومی جنگلات کے ان وسیع علاقوں میں مستقبل میں سڑکوں، لاگنگ اور دیگر انتظامی سرگرمیوں کے امکانات بڑھ جائیں گے جہاں گزشتہ ربع صدی سے نسبتاً سخت حفاظتی پابندیاں نافذ رہی ہیں

قومی خبریں سے مزید