جھوٹ پکڑنے کے لیے ماہرینِ نفسیات کے چند سادہ سوالات، جواب دینے والا خود الجھ سکتا ہے
ماہرینِ نفسیات کے مطابق کسی شخص کے جھوٹ کو صرف آنکھوں کی حرکت، گھبراہٹ یا جسمانی حرکات سے پہچاننا قابلِ اعتماد طریقہ نہیں، تاہم درست انداز میں سوالات کرنے سے مشکوک بیان میں تضادات اور کمزوریاں سامنے آسکتی ہیں
ماہرین کا مشورہ ہے کہ سب سے پہلے کھلے اور براہِ راست سوالات کیے جائیں، مثلاً،”مجھے شروع سے آخر تک بتائیں کہ کیا ہوا؟‘‘ اس کے بعد اسی واقعے کے کسی مخصوص حصے کے بارے میں دوبارہ سوال کیا جائے،اگر بیان میں اہم تبدیلیاں یا واضح تضادات سامنے آئیں تو مزید وضاحت طلب کی جاسکتی ہے
ایک مؤثر طریقہ یہ بھی ہے کہ پوچھا جائے: ’’آپ کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟‘‘ یا ’’اس کی کیا وجہ یا ثبوت ہے؟‘‘ اس طرح دعوے کے پیچھے موجود معلومات اور اس کے ذریعے کا جائزہ لیا جاسکتا ہے
ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ کسی واقعے کی تفصیل دوسرے زاویے سے یا مختلف ترتیب میں بیان کرنے کو کہا جائے، پیچیدہ یا جھوٹے بیانیے کو تبدیل شدہ ترتیب میں دہرانا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے، تاہم یہ بھی جھوٹ پکڑنے کا حتمی ثبوت نہیں
ایک اور اہم سوال ہوسکتا ہے، “کیا کوئی ایسی بات ہے جس کے بارے میں آپ کو یقین نہیں؟‘‘ سچا شخص بھی کسی واقعے کی ہر تفصیل یاد نہ ہونے کا اعتراف کرسکتا ہے، جبکہ جھوٹ بولنے والا بعض اوقات اپنے بیان کو ضرورت سے زیادہ قطعی اور ناقابلِ تردید ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے
ماہرین کے مطابق اصل توجہ کسی ایک اشارے کے بجائے پورے بیان کے تسلسل، پہلے سے معلوم معلومات، جوابات میں تبدیلی اور سوال کا براہِ راست جواب دینے یا اس سے بچنے کے رویے پر ہونی چاہیے،کیونکہ گھبراہٹ، نظریں چرانا یا بے چینی لازماً جھوٹ کی علامت نہیں، یہ محض دباؤ یا خوف کا نتیجہ بھی ہوسکتے ہیں
یوں کسی شخص کو ’’جھوٹا‘‘ قرار دینے کا بہترین طریقہ ایک جادوئی سوال نہیں بلکہ صحیح سوالات کا سلسلہ اور جوابات کا باہمی تقابل ہے





