امریکی فوج کا لاطینی امریکا میں سمندر کے بعد خشکی پر بھی منشیات کے خلاف فوجی کارروائیوں کا فیصلہ
امریکی فوج نے لاطینی امریکا میں منشیات کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ سمندر سے خشکی تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے،ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی فوج نے کیریبین اور بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں میں منشیات کی مبینہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی کشتیوں پر حملے کیے، جن میں سیکڑوں افراد مارے گئے
اب ٹرمپ انتظامیہ خطے میں اتحادی ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے کر رہی ہے جن کے تحت امریکی فوجی وہاں کی سرزمین پر بھی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کر سکیں گے
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ہفتے پاناما کے دورے کے دوران کہا کہ کولمبیا، گوئٹے مالا اور ہونڈوراس نے اپنی سرزمین پر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کی اجازت پر اتفاق کیا ہے،ایکواڈور مارچ میں اسی نوعیت کی مشترکہ کارروائی شروع کر چکا ہے
تاہم گوئٹے مالا نے امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا
یہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لاطینی امریکا میں منشیات اور منظم جرائم کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کو مزید وسیع کرنے کی نشاندہی کرتی ہے





