آئی ایس پی آر نے بھارتی دستاویزی فلم کو مسترد کر دیا، ’آپریشن سندور‘ کی نئی کہانی اور ڈسکوری چینل پر سوال اٹھا دیے
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے بھارت کی جانب سے ’آپریشن سندور‘ کے بارے میں تیار کی گئی نئی دستاویزی سیریز کو مسترد کرتے ہوئے اسے جنگی حقائق کے بجائے ایک جذباتی اور فلمی بیانیے کے ذریعے تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق پیش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے،آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارت معرکہ حق میں اپنی شکست کی حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے ایک نیا بیانیہ تشکیل دے رہا ہے
بھارت میں ’آپریشن سندور‘ کے موضوع پر سامنے آنے والی نئی دستاویزی سیریز کا نام ’Declassified: Operation Sindoor‘ ہے، جسے عالمی میڈیا ادارے ڈسکوری اور اس کی ذیلی کمپنی وارنر برادرز ڈسکوری نے تیار کیا ہے،دو حصوں پر مشتمل اس سیریز کا اعلان 31 جولائی 2026 کو کیا گیا تھا اور اسے 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر ڈسکوری چینل اور ڈسکوری پلس پر نشر کیا گیا،دونوں حصے رات 9 بجے سے 11 بجے تک نشر کیے گئے
ڈسکوری کے مطابق دستاویزی سیریز کا مقصد 2025 میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئے ’آپریشن سندور‘ کے 88 گھنٹوں کی اندرونی کہانی پیش کرنا ہے،اس میں حملے کی منصوبہ بندی، بھارتی قیادت کی ابتدائی مشاورت، فوجی تیاریوں، اہداف کے انتخاب اور 7 مئی کو شروع ہونے والی کارروائی سے لے کر اس کے بعد ہونے والی فوجی کشیدگی تک کے واقعات دکھائے گئے ہیں،بنانے والوں کا کہنا ہے کہ سیریز میں ان فیصلوں اور حکمت عملیوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے جو اس سے پہلے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی گئی تھیں
اس دستاویزی سیریز کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھارتی فوجی قیادت کے اہم ارکان، جنگی منصوبہ بندی سے وابستہ اہلکار، دفاعی ماہرین اور صحافی شامل ہیں،دستیاب معلومات کے مطابق اس میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کمار ترپاٹھی، بری فوج کے سربراہ جنرل اپیندر دویدی، شمالی فوجی کمان کے لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما اور فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ سمیت دیگر افراد کے انٹرویوز شامل ہیں
سیریز میں بھارتی مؤقف کے مطابق پہلگام حملے کے بعد اعلیٰ سطح پر ہونے والی مشاورت، ممکنہ اہداف کی فہرست، فوجی مشقوں، کارروائی سے قبل رازداری اور 7 مئی کی رات ہونے والے میزائل حملوں کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے،بھارتی ذرائع کے مطابق دستاویزی فلم میں 9 اہداف کو نشانہ بنانے، مختلف فوجی شعبوں کے باہمی تعاون اور اس کے بعد ہونے والی جوابی کارروائیوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے،تاہم یہ تمام تفصیلات بنیادی طور پر بھارتی سرکاری اور عسکری بیانیے کے تناظر میں پیش کی گئی ہیں
یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کو دستاویزی شکل دی ہو،اس سے قبل 7 مئی 2026 کو، آپریشن کی پہلی برسی کے موقع پر بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جے پور میں ’Operation Sindoor: A Nation’s Resolve‘ کے عنوان سے تقریباً 27 منٹ کی ایک الگ دستاویزی فلم جاری کی تھی،اس فلم میں بھارتی حکومت کے مطابق پاکستان کے خلاف کارروائی، بھارتی فوج کی تیاری، مقامی دفاعی صلاحیت اور ’بغیر کسی نقصان کے درست کارروائی‘ کے دعوے کو اجاگر کیا گیا
آئی ایس پی آر نے اپنے تازہ ردعمل میں اسی بھارتی بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر پہلگام واقعے کے مبینہ ملزمان 28 جولائی کو مارے گئے تو 7 مئی کو بھارت نے کس کو سزا دی تھی،آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کی جانب سے ’100 فیصد مشن کامیابی‘ کا دعویٰ جنگی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور بھارتی طیارے مار گرائے گئے،آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن بنیان مرصوص کے دوران 26 بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، اس لیے دستاویزی فلم میں پیش کیے جانے والے فلمی مناظر حقیقی جنگی نقصانات اور آپریشنل حقائق تبدیل نہیں کر سکتے
آئی ایس پی آر کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو معرکہ حق کے بارے میں کسی من گھڑت کہانی کی ضرورت نہیں، کیونکہ جنگی ریکارڈ، سفارتی رابطے اور خود بھارتی حکام کے بیانات واقعات کی اپنی تصویر پیش کرتے ہیں،پاکستانی فوج کے مطابق بھارت ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود معرکہ حق کے نتائج کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہا ہے
دوسری جانب بھارتی دستاویزی سیریز کا بنیادی مقصد ہی اپنے ناظرین کو آپریشن سندور کے بارے میں ایک جامع اور اندرونی بھارتی نقطۂ نظر فراہم کرنا ہے،ڈسکوری نے اسے اپنی نئی ’Declassified‘ دستاویزی فرنچائز کی پہلی پیشکش قرار دیا ہے، جس کا مقصد اہم تاریخی اور عسکری واقعات کے پس پردہ فیصلوں کو سامنے لانا ہے
یوں موجود شواہد سے یہ واضح ہے کہ ’Declassified: Operation Sindoor‘ واقعی تیار کی گئی، اس کا اعلان 31 جولائی کو ہوا اور یہ 15 اگست 2026 کو نشر بھی ہو چکی ہے،البتہ اسے کسی ایک بھارتی فلم ساز کی ذاتی یا آزادانہ فلم کہنا درست نہیں ہوگا،یہ وارنر برادرز ڈسکوری کے ڈسکوری پلیٹ فارم کی تیار کردہ دستاویزی سیریز ہے، جسے بھارتی عسکری قیادت اور دیگر متعلقہ افراد کے انٹرویوز تک رسائی حاصل رہی
پاکستانی فوج نے اس پوری پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فلمی انداز میں واقعات پیش کرنے سے جنگ کے حقیقی نتائج تبدیل نہیں کیے جا سکتے اور پاکستان آئندہ کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے
صحافتی اعتبار سے یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ ایک ایسے متنازع فوجی واقعے پر، جس کے بارے میں بھارت اور پاکستان کے سرکاری مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں، ڈسکوری نے تقریباً مکمل طور پر بھارتی عسکری اور سرکاری بیانیے کو مرکز کیوں بنایا؟اگرچہ اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ بھارتی حکومت نے اس دستاویزی فلم کے لیے ڈسکوری کو مالی معاونت فراہم کی، تاہم ایک بڑے عالمی نشریاتی ادارے کی حیثیت سے ڈسکوری سے یہ توقع ضرور کی جاتی ہے کہ وہ متنازع تاریخی واقعات میں دونوں جانب کے مؤقف اور قابلِ تصدیق شواہد کو مناسب جگہ دے،خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود جنگ کے دوران بھارتی طیاروں کے گرائے جانے کا دعویٰ کر چکے ہیں، فلم میں اس پہلو کی واضح اور متوازن تحقیق کا فقدان سوالات پیدا کرتا ہے؟اس کے بجائے بھارتی مؤقف کو تفصیلی انٹرویوز اور اندرونی عسکری معلومات کے ذریعے پیش کرنا ایک مخصوص بیانیے کو زیادہ معتبر دکھانے کا تاثر دیتا ہے،یہی وجہ ہے کہ اس فلم کی غیر جانب دارانہ صحافتی حیثیت پر سوال اٹھنا فطری ہے،یہ الزام نہیں کہ ڈسکوری نے جان بوجھ کر کسی حکومت کے مفاد میں کام کیا، لیکن اس قدر حساس اور متنازع معاملے میں یکطرفہ بیانیہ یقیناً اس کے صحافتی کریڈیبلٹی پر سوالیہ نشان ضرور چھوڑتا ہے





