ممدانی کا آئی سی ای کے خلاف بڑا اقدام، عدالتی وارنٹ کے بغیر سٹی کی املاک میں داخلہ ممنوع
نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے وفاقی امیگریشن حکام کی جانب سے کارروائیوں کے خلاف سٹی کی پالیسی مزید واضح کرتے ہوئے آئی سی ای کو عدالتی وارنٹ کے بغیر سٹی کی ملکیت یا انتظام میں موجود عمارتوں اور دیگر املاک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے
ممدانی انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد تارکین وطن کو یہ یقین دلانا ہے کہ سٹی کی سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے آنے والے افراد کو امیگریشن حکام کی کارروائی کا خوف نہیں ہونا چاہیے,نئی پالیسی کے تحت سٹی اداروں کو وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ اپنے رابطوں اور تعاون کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لینا ہوگا
یہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک بھر میں امیگریشن قوانین کے نفاذ اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی گرفتاریوں پر خاص توجہ مرکوز کر رکھی ہے،نیویارک سمیت بڑے شہروں میں آئی سی ای کی کارروائیوں نے تارکین وطن کی آبادی میں خوف اور بے یقینی پیدا کی ہے، جبکہ مقامی حکومتوں اور وفاقی حکومت کے درمیان امیگریشن نفاذ کے معاملے پر اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں
ممدانی اس سے قبل آئی سی ای کو ’’بے قابو‘‘ اور ’’لاپرواہ‘‘ ادارہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کی حمایت کر چکے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ نیویارک کے ایسے باشندے جو معمول کی امیگریشن کارروائیوں کے لیے بھی خوف محسوس کرتے ہیں، انہیں یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ وہ شہر میں تنہا نہیں ہیں
ممدانی کی پالیسی خاص طور پر ان سٹی اداروں کے لیے اہم ہے جہاں تارکین وطن باقاعدگی سے سرکاری خدمات حاصل کرنے آتے ہیں،شہر کا مؤقف ہے کہ اسکولوں، پناہ گاہوں، ہسپتالوں اور دیگر سٹی اداروں کو ایسے مقامات ہونا چاہیے جہاں لوگ بلاخوف خدمات حاصل کر سکیں، نہ کہ وہ وفاقی امیگریشن کارروائی کا شکار ہونے کے خدشے میں مبتلا رہیں
اس پالیسی سے نیویارک اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان امیگریشن کے معاملے پر سیاسی اور قانونی کشمکش مزید نمایاں ہو گئی ہے،وفاقی حکومت امیگریشن قوانین کے نفاذ کو اپنا اختیار قرار دیتی ہے، جبکہ ممدانی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ سٹی کی عمارتوں اور سٹی کے زیرانتظام خدمات تک وفاقی امیگریشن حکام کی رسائی مقامی قوانین اور عدالتی تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے
تارکین وطن کے حقوق کے حامی حلقوں نے اس اقدام کو اہم قرار دیا ہے،ان کے مطابق آئی سی ای کی کارروائیوں کے خوف سے اگر تارکین وطن سرکاری اداروں، صحت کی سہولتوں یا دیگر ضروری خدمات سے دور رہنے لگیں تو اس کے اثرات صرف امیگریشن کے مسئلے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے شہر کی سماجی اور عوامی زندگی متاثر ہو سکتی ہے
ممدانی انتظامیہ کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑے سیاسی وعدے کی عملی شکل بھی ہے،میئر نے اپنی انتخابی مہم اور عہدہ سنبھالنے کے بعد مسلسل کہا ہے کہ نیویارک سٹی تارکین وطن کے لیے تحفظ اور اعتماد کی جگہ ہونا چاہیے۔ اب ان کی انتظامیہ نے اس مؤقف کو سٹی کی عمارتوں اور اداروں تک وفاقی امیگریشن نفاذ کی رسائی محدود کرنے کی پالیسی میں تبدیل کر دیا ہے





