ایران کو جنگ میں 100 طیاروں اور ایک لاکھ شہری و تجارتی یونٹس کے نقصان کا دعویٰ
تہران: ایران کی وزیر برائے سڑک و شہری ترقی فرزانہ صادق نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ایران کو تقریباً 100 تجارتی طیاروں کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ 25 صوبوں کے تقریباً 400 شہروں میں ایک لاکھ رہائشی اور تجارتی یونٹس متاثر ہوئے
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرزانہ صادق نے کہا کہ حملوں میں ہوائی اڈوں کے علاوہ سڑکوں، پلوں، سرنگوں، ریلوے اور بندرگاہی تنصیبات سمیت بجلی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، تاہم ریل، سڑک اور بندرگاہوں کی خدمات جنگ کے دوران جاری رکھی گئیں
ایرانی وزیر کے مطابق شدید نقصانات کے باوجود ایران ایئر نے صرف 8 طیاروں کے ذریعے حج پروازیں جاری رکھیں،ان کا کہنا تھا کہ حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری اور تجارتی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں
ایران کی جانب سے ایک لاکھ شہری و تجارتی یونٹس کے نقصان کا دعویٰ اس سے پہلے سامنے آنے والے ایرانی اور اقوام متحدہ کے اعداد سے بھی کسی حد تک مطابقت رکھتا ہے،ایرانی ہلال احمر نے اس سے قبل ایک لاکھ سے زائد رہائشی یونٹس سمیت مجموعی طور پر ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ شہری یونٹس کو نقصان پہنچنے کا تخمینہ دیا تھا، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اپریل تک ایران میں ایک لاکھ 15 ہزار سے زیادہ شہری یونٹس متاثر ہونے کی اطلاع دی تھی
تاہم ایران کے تقریباً 100 تجارتی طیاروں کے نقصان کے مجموعی دعوے کی امریکہ، اسرائیل یا کسی غیر جانب دار بین الاقوامی ادارے کی جانب سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی،البتہ اسرائیل نے متعدد ایرانی ہوائی اڈوں پر حملوں اور طیاروں و ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر میں مہرآباد سمیت بعض ایرانی ہوائی اڈوں پر طیاروں کو پہنچنے والے نقصانات بھی سامنے آئے ہیں
امریکہ نے بھی ایرانی فوجی ہوائی اڈوں، طیاروں کے ہینگرز، بحری تنصیبات اور دیگر فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے،امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کی فوجی اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا تھا
ایران کے مطابق جنگ میں شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان میں رہائشی عمارتوں، دکانوں، اسکولوں، طبی مراکز، ہوائی اڈوں، پلوں، سرنگوں، پانی اور بجلی کی تنصیبات سمیت مختلف شعبے شامل ہیں،تاہم نقصانات کی حتمی مالیت اور تباہ ہونے والے طیاروں کی درست تعداد کا آزادانہ جائزہ ابھی سامنے نہیں آیا





